مولانا سے PP اور ANP کے رابطے، منظر عام پر نہیں لائے جارہے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا سے PP اور ANP کے رابطے، منظر عام پر نہیں لائے جارہے

اسلام آباد ( فاروق اقدس ) مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہےکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اورپی ڈی ایم کو خیر باد کہنے والی دونوں جما عتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان غیرا علا نیہ رابطے موجود ہیں لیکن فی الوقت ایک حکمت عملی کے تحت انہیں منظر عام پر نہیں لایا جا رہا ۔

جبکہ مذکورہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی ’’نا صحا نہ پریس کانفرنس‘‘ میں ان کے ان ریمارکس پر جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کا نام لیئے بغیر یہ کہا تھا کہ انہیں ’’توقع نہیں تھی کہ وہ باپ کو باپ بنا ئیں گے‘‘ ناپسندیدگی سے دیکھا گیا ہے اور پیپلز پارٹی میں اس حوالے سے خاصی ناراضی کا اظہار بھی ہوا ۔

گو کے مرکزی قیادت کی جانب سے اس ضمن میں مصلحتا ً رد عمل سامنے نہیں آیا ،تاہم مرکزی رہنما ئوں جن میں راجہ پرویز اشرف ،قمر زمان کائرہ اور فیصل کریم کنڈ ی سمیت کی وساطت سے پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے جذبات پی ڈی ایم کے صدر تک پہنچا دیئے۔

گو کہ ماہ رمضان میں فریقین کی جانب سے خاموشی رہے گی لیکن بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوری طور پر نہ سہی لیکن جلد یا بدیر پی ڈی ایم کی قیادت کے منصب پر دسترس حا صل کرنے کی کوششیں سامنے آ جا ئیں گی ۔

کیونکہ بلاول بھٹو ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پی ڈی ایم کی تشکیل اس آل پارٹیز کانفرنس میں ہوئی تھی جس کی میزبان پاکستان پیپلز پارٹی تھی ،اس لیے پی ڈی ایم کی قیادت کا حق ان کی جما عت کا ہے۔

پھر ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ پاکستان پیپلز پارٹی رمضان المبارک میں بھی حکومت کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی اور یہ تحریک پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہی چلائی جائے گی۔

 جبکہ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پی پی پی اور اے این پی کو پی ڈی ایم میں واپسی کا مشورہ دے کر انہوں نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ پی ڈی ایم کے صدر کی حیثیت سے وہ بھی حکومت کے خلاف تحریک جاری رکھیں گے ۔

 تاہم عید کے بعد اس حوالے سے یہ پہلو بھی زیر بحث آسکتا ہےکہ اے پی سی میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ پی ڈی ایم میں مرکزی عہدے با لخصوص صدر کامنصب صرف ایک شخصیت کے پاس نہیں بلکہ تین یا چھ ماہ بعد دوسری جما عتوں کے قائدین کو بھی باری باری یہ منصب دیا جا ئے گا۔

اہم خبریں سے مزید