• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک اور قسم کی موجودگی کے شواہد مل گئے، بھارت سے آنے کا انکشاف

لندن (وجاہت علی خان)پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک نئی اور مختلف قسم کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں یہ قسم بھارت سے برطانیہ پہنچی ہے۔اس نئی قسم کے وائرس کے انگلینڈ اور برطانیہ بھر میں 77 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ وائرس کی یہ مہلک قسم بھارت میں موجود ہے۔ماہرین نے اسے B.1.617 کا نام دیا ہے، اس قسم کے چارکیسز اسکاٹ لینڈ میں بھی سامنے آئے ہیں۔ مذکورہ اعداد وشمار سات اپریل تک کے ہیں۔ ماہرین پہلے ہی جنوبی افریقہ اور برازیل سے آنے والے وائرسز کے ضمن میں تشویش میں مبتلا اور اس پر تفتیش کر رہے ہیں۔بھارت میں شرح بتدریج بڑھ رہی ہے جہاں 13.9 ملین سے زیادہ کیسز اور 172000 اموات ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت برطانیہ کی ریڈلسٹ ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ ’’پی ایچ ای‘‘ کی اس تازہ تشویش کا مطلب یہ ہے کہ اب برطانوی سائنسدان ’’وی یو آئی‘‘ کی سات اور ’’وی او سی‘‘ وائرس کی چار اقسام کی تحقیقات کریں گے۔دوسری جانب کورونا وائرس کے باعث انگلینڈ میں 4.7 ملین مریض اپنے آپریشنز کے منتظر ہیں۔’’این ایچ ایس‘‘ کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق کووڈ19 شروع ہونے سے پہلے صرف 1600 مریض آپریشنز کا انتظار کر رہے تھے، اس صورتحال کی بڑی وجہ جنوری اور فروری کے دوران اس وبا کی وجہ سے انگلینڈ کے ہسپتا لوں پر دبائو تھا۔ نیشنل ہیلتھ سروسز کا کہنا ہے کہشدید دبائو کے باوجود اور سرد موسم ہوتے ہوئے بھی ہم نے 20لاکھ آپریشن کئے لیکن کووڈ کی دوسری لہر کے باعث ہسپتال ابھی تک دبائو میں ہیں۔وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ حکومت ’’این ایچ ایس‘‘ کو ہر قسم کے فنڈز دے گی جس سے وہ آپریشنز کے بیک لاگ کو شکست دے سکے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہئے وہ اپنی اپوانٹمینٹس بنائیں اور علاج کروائیں۔ این ایچ ایس نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ اس ضمن میں ادارے کو ایک ارب پونڈز کے فوری فنڈز کی ضرورت ہوگی۔ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آئندہ چند ماہ میں آپریشن کے منتظر افراد کی تعداد ملینز میں بھی ہوسکتی ہے۔اادارہ کورونا وائرس شروع ہونے کے بعد سے اب تک 40فیصد ان مریضوں کا علاج کیا جنہیں کورونا وائرس ہوا تھا۔انگلینڈ میں سرجنز کی ایک تنظیم نے محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا مطالبہ کیا ہےتاکہ مستقبل میں اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں سے قطع نظر لوگوں کے آپریشنز کئے جاسکیں۔

یورپ سے سے مزید