کابینہ تبدیلیاں، نیا ریکارڈ قائم، شوکت ترین چوتھے وزیر خزانہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کابینہ تبدیلیاں، نیا ریکارڈ قائم، شوکت ترین چوتھے وزیر خزانہ

اسلام آ باد ( تبصرہ:رانا غلام قادر ) وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ میں حالیہ تبدیلیاں کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نےوفاقی کابینہ میں ردو بدل کرتے ہوئے ماہر معاشیات شوکت فیاض ترین کو چوتھا وزیر خزانہ بنایا ہے اور انہیں ریونیو کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔ 

وزیراعظم اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت کسی بھی شخص کو 6 ماہ کے لیے وزیر مقرر کرسکتے ہیں اور انہی اختیارات کے تحت شوکت ترین کو وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں لہٰذا مستقبل میں انہیں سینیٹر بنانے یا رکن قومی اسمبلی الیکشن لڑانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

موجودہ وزیر خزانہ اور وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کو تبدیل کرکے وزیر توانائی بنا دیا گیا۔ عمر ایوب سے وزیر توانائی کا چارج واپس لے لیا گیا ہے۔ انہیں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور بنا دیا گیا۔ شبلی فراز کو وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کی ذمے داری دی گئی ہے۔ خسرو بختیار وزیر صنعت و پیداوار کے فرائض سر انجام دیں گے۔ بطور وزیر صنعت و پیداور وہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کے سر براہ بھی ہوں گے جبکہ ان کے خاندان کی شوگر ملز بھی ہیں۔ 

وزارت اطلاعات کا قلمدان فواد چوہدری کو سونپا گیا ہے۔پی ٹی آئی حکومت اقتدار میں آئی تو اسد عمر کو اگست 2018میں وزیر خزانہ بنایا گیا۔اپریل 2019میں ڈ اکٹر عبد الحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ بنایا گیا۔ دسمبر2020میں انہیں وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو بنا دیا گیا۔

29 مارچ کو انہیں ہٹاکر وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کو خزانہ کا اضافی قلم دان دیا گیا۔ 29مارچ کو وزیر خزانہ بننے والے حماد اظہر سے صرف 18 روز بعد وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیا گیا اور انہیں وزیر توانائی بنایا گیا ہے۔

حماد اظہر کو اگست 2018میں وزیر مملکت بر ائے ریو نیو مقر ر کیا گیا۔ انہیں ایک دن کیلئے وفاقی وزیر بر ائے ریونیو مقرر کیا گیا۔ پھر انہیں وزیر اقتصادی امور مقرر کیا گیا۔ پھر تبدیل کرکے انہیں وزیر صنعت و پیداوار مقرر کیا گیا۔ پھر وزارت خزانہ کا اضافی چارج دیا گیا اور اب انہیں وزیر توانائی مقرر کیا گیا ہے۔

مخدوم خسرو بختیار کو اگست 2018میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات مقرر کیا گیا۔ پھر انہیں وزیر بر ائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مقرر کیا گیا۔ پھر انہیں وزیر اقتصادی امور مقرر کیا گیا ۔ اب انہیں وزیر صنعت و پیداوار مقرر کیا گیا ہے۔ 

فواد چوہدری کو اگست 2018میں وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا ہے۔ان کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو اپریل 2019میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا۔ اپریل 2020میں سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا۔ لیفٹنٹ جنرل (ر) عاسم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی مقرر کیا گیا۔ اب فواد چوہدری کو ہی دو بارہ وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ تحریک انصاف حکومت کابینہ میں اس سے قبل بھی تبدیلیاں کر چکی ہے۔ اس سے پہلے شیخ رشید وزیر ریلوے تھے بعد ازاں انہیں وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔

غلام سرور خان کو وزیر پیٹرولیم بنایا گیا تھا ۔ بعدازاں وزیر ہوا بازی مقرر کیا گیا۔وزارت صحت کا قلم دان پہلے عامر کیانی کو دیا گیا ۔ پھر معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کو مقرر کیا گیا۔ اب ڈاکٹر فیصل سلطان معاون خصوصی بر ائے صحت ہیں۔

اہم خبریں سے مزید