روزہ کشائی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حنیف عابد

صبح اٹھتے کے ساتھ ہی عائشہ نے اپنی امی سے پوچھا”امی ہم خالہ جان کے گھر کب جائیں گے “۔ عائشہ کی امی نے جواب دیا” بیٹا شام کو جائیں گے ۔“ یہ سنتے ہی عائشہ نے پھر سوال داغ دیا ”امی شام کو کب جائیں گے ؟ کتنے بجے ؟“ یہ سن کر عائشہ کی امی مسکرائیں اور”آج اِتنی دل چسپی کیوں لی جارہی ہے ، خالہ جان کے گھر جانے میں ؟“ عائشہ یہ سن کر اُچھل پڑی اور بولی ”ارے واہ ! کیا آپ بھول گئی ہیں؟ آج حمزہ بھائی کی روزہ کشائی ہے اور ہم سب کو وہاں جانا ہے “۔

یہ سن کر عائشہ کی امی بولیں ” میں کچھ بھی نہیں بھولی ہوں مجھے یاد ہے۔ آ پ منہ ہاتھ دھوکر ناشتہ کر لو، اتنے میں، میں گھر کے دیگر کام کرلوں “۔ عائشہ نے کہا ”امی آج میرا روزہ ہے “۔عائشہ کی امی نے کہا بیٹا،آپ نے تو سحری بھی نہیں کی ہے اور آپ ابھی صرف 6سال کی ہیں، جب آپ پر روزے فرض ہوجائیں گے تو پھر روزہ رکھنا۔“ یہ سن کر عائشہ بولی حمزہ بھائی بھی تو 9سال کے ہیں پھر وہ کیوں روزہ رکھ رہے ہیں ؟“عائشہ کی امی نے کہا کہ وہ آپ سے 3 سال بڑے ہیں آپ بھی جب 9سال کی ہونا پھر روزہ رکھ لینا، ابھی چلو شاباش جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آؤ۔“

یکم رمضان کو عائشہ کی خالہ نے حمزہ کی روزہ کشائی کی تقریب رکھی تھی جس میں جانے کے لیے عائشہ بہت بے چین تھی ۔ گذشتہ سال بھی حمزہ نے روزہ رکھنے کی ضد کی تھی لیکن اُس کی امی نے منع کردیا تھا لیکن اُس کی ضدپر کہہ دیا تھاکہ آئندہ سال یکم رمضان کوحمزہ کی ”روزہ کشائی “ کی جائے گی ۔یہی وجہ تھی رمضان آنے سے ایک ہفتہ قبل ہی خاندان بھر میں شور مچ گیاکہ یکم رمضان کو حمزہ کی ”روزہ کشائی “ہوگی ۔ عائشہ اور حمزہ میں بہت دوستی تھی ۔دونوں ایک ساتھ ہوتے تو خوب کھیلتے اور مزے کرتے ۔ یہی وجہ تھی کہ عائشہ جلد سے جلد فریال خالہ کے گھر جانے کے لیے بے چین تھی۔

شام کو عصر کی نما زکے بعد جب عائشہ اپنی امی کے ہمراہ حمزہ کے گھر پہنچی تو وہاں بہت مہمان آچکے تھے ۔عائشہ نے اِدھر اُدھر دیکھا تو اُسے حمزہ کہیں بھی نظر نہیں آیا ۔گھر میں خاصی چہل پہل تھی لیکن حمزہ نہیں تھا ۔ عائشہ نےخالہ سے پوچھا ”خالہ جان حمزہ بھائی کہاں ہیں ؟“ یہ سن کر خالہ نے جواب دیاکہ”حمزہ کمرے میں سو رہا ہے ابھی تھوڑی دیر میں آجائے گا ۔“ 

روزہ کھلنے میں آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا کہ عائشہ کے خالو، حمزہ کو ساتھ لے کر مہمانوں میں آئے ۔ حمزہ سنہرے رنگ کی شیروانی میں بالکل شہزادہ لگ رہا تھا ۔عائشہ بھاگ کر حمزہ کے پاس پہنچی اور اسے مبارکباد دی ۔ کچھ ہی دیر میں تمام مہمانوں نے حمزہ کو پھولوں کے ہار پہنائے اور بہت سارے تحائف بھی دیئے۔

اتنے میں مغرب کی اذان ہو گئی، سب نے روزہ کھولا ۔افطار میں بہت مزے مزے کی چیزیں تھیں حمزہ نے خوب سیر ہو کر کھائیں اور اپنے تمام کزنز کوبھی اپنے ساتھ کھلایا ۔مغرب کی نما زکے بعد خواتین گپ شپ کرنے لگیں جبکہ حمزہ اپنے کزنز کے ساتھ اپنے کمرے میں ملنے والے تحفے دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا تھا ۔عائشہ نے جب اسے بتایا کہ اس کی امی نے کہا ہے کہ 3سال بعد میری بھی ”روزہ کشائی “ ہو گی تووہ خوشی سے پھولےنہیں سمایا ۔ابھی یہ لوگ باتیں ہی کررہے تھے کہ آواز آئی کھانالگ گیا ہے سب آجائیں۔ کھانا کھانے کے بعد سب مہمان جانے لگے۔ 

عائشہ کی امی اور ابو نے بھی واپس جانے کا ارادہ کیا تو عائشہ نے کچھ دیراور رکنے کی ضد کی لیکن اس کی امی نے کہا کہ بیٹا ابھی تراویح کا وقت ہونے والا ہے ۔ پھر بعد میں آجانا ۔چلتے ہوئے عائشہ کی امی نے حمزہ کے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا ”اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے بچوں کو روزہ رکھنے کی توفیق دی۔ دیکھو حمزہ کے چہرہ کتنا پیارا لگ رہا ہے، میرے شہزادے پرنور اُتر آیا ہے اس کے چہرے پر “۔ یہ سن کر حمزہ کی امی بولیں ”بے شک یہ اللہ کا کرم ہے کہ ہمارے بچے نماز اور روزہ کی جانب راغب ہیں آج ”روزہ کشائی “ کی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ اعلان تھا کہ اب حمزہ اسلامی احکامات پر عمل کرنے کی عمر کو پہنچ گیا ہے ۔“