آن لائن تعلیم سے بچے بوریت کا شکار ہوں تو کیا کریں؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آن لائن تعلیم سے بچے بوریت کا شکار ہوں تو کیا کریں؟

کووِڈ-19نے جیسے جیسے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تو سب سے پہلے دنیا بھر میں اسکولوں کی بندش کی گئی تاکہ بچوں کو اس عالمی وبا سے بچایا جاسکے۔ یونیسیف کے مطابق کورونا وائرس کی پہلی لہر میں لگنے والے لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں ایک ارب 57 کروڑ سے زائد طلبا کی تعلیم متاثر ہوئی۔ تعلیمی سال اور امتحانات کے شیڈول پر بھی اثر پڑا ہے۔

اسکولوں کی بندش کے بعد آن لائن تعلیم فراہم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تاہم، اکثر والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ بچے (بالخصوص پرائمری جماعتوں والے) آن لائن کلاسز لینے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور دوسری سرگرمیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں انھیں ہروقت بچوں کی نگرانی کرنا پڑتی ہے تاکہ وہ توجہ سے اساتذہ کی بات سنیں۔

پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کے بعد ایک بار پھر ملک بھر کے بیشتر تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے، جس کے بعد اسکولوں کی جانب سے دوبارہ آن لائن کلاسز کا آغاز ہوچکا ہے۔ آن لائن لرننگ میں اس قدر وسعت ہے کہ تعلیم کی تقریباً تمام تر ضروریات پوری ہوسکتی ہیں ماسوائے ان کورسز کے جن میں پریکٹیکل شامل ہوتے ہیں۔ لیکن کسی بھی بچے کے لیے اسکول جانے کے بجائے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے آگے بیٹھ کر آن لائن تعلیم حاصل کرنے کا مرحلہ آسان نہیں ہے۔

اگر بچے آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے دوران بوریت کا شکار ہوجاتے ہیں تو آپ ان کو موردِ الزام نہیں ٹھہراسکتے۔ آپ ورچوئل اسکول میں تعلیم حاصل کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں۔ ’ڈسٹینس لرننگ پلےبک فار پیرنٹس‘ کے شریک مصنف روزالنڈ وائزمین آن لائن اسکولنگ کے دوران آنے والی مشکلات اور پریشانیوں کے لیے حکمت عملی پیش کرتے ہیں، جس سے بچوں کو آن لائن تعلیم کے دوران بوریت یا اکتاہٹ سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

بچہ جب کلاس نہ لینا چاہے

بچوں کے کسی بھی عمل کی ہمیشہ کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے، آپ کو اس کا پتہ لگانے کی ضرورت ہوگی۔ عام سوالات جیسے’’اسکول کیسا جارہا ہے؟‘‘ سے اجتناب کریں۔ اس کے بجائے کسی پُرسکون لمحے میں بچے سے پوچھیں کہ ، ’’چونکہ اب اسکول مختلف ہے۔ اس کی کچھ اچھی چیزیں کیا ہیں؟ اور کیا اچھا نہیں ہے؟‘‘ اگر آپ کا بچہ آن لائن کلاسز لینے سے اکتاہٹ کا شکار ہے تو معلوم کریں کہ وہ کب اس میں وقفہ لے سکتا ہے اور پھر اُس وقت کو ٹیکنالوجی سے پاک سرگرمیوں جیسے ڈرائنگ ، ورزش یا سیر پر جانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مدد کرنے پر بچے کا پریشان ہونا

زور زبردستی سے بچنے کے لیے، اپنے بچوں کی متجسس سوالات کے ذریعے رہنمائی کرنے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور پر، اگر وہ اوپن اینڈڈ سوال کا جواب دے رہے ہیں تو ان کے بولنے کے بعد تین سے 10سیکنڈ کے وقفے پر کام کریں تاکہ وہ اس خیال کو قائم کرسکیں۔ اگر انھیں جواب دینے میں پریشانی ہو یا وہ کوئی غلط بات کہہ دیں توانھیں کوئی اشارہ دیں جیسے کہ،’’آئیے اساتذہ کی چیک لسٹ کو دیکھیں کہ کہیں کچھ چھوٹ تو نہیں گیا‘‘ یا ’’کیا آپ سوال دوبارہ پڑھ سکتے ہیں؟‘‘ اگر آپ دیکھیں کہ آپ کا بچہ اسائنمنٹ کے بارے میں الجھن یا کسی قسم کی مایوسی کا شکار ہے ، تو اس کے استاد / استانی کو ای میل کرکے کہیں کہ وہ اسے اس طرف دوبارہ مائل کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دیں۔

بچے سے تاثرات معلوم کرنا

بچے سے کچھ پوچھیں تو وہ جو بات بھی بتائے تو اسے کہیں’’مجھے بتانے کا شکریہ‘‘۔ جذبات حقیقی ہوتے ہیں مگر مستقل نہیں۔ اگر ہم ان کے بارے میں بات کرتے اور ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں تو وہ اتنے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ اگر آپ کا بچہ یہ کہتا ہے کہ وہ بوریت کا شکار ہوچکا ہے تو اس سے کہیں کہ اپنے خیالات و احساسات کو دوسرے الفاظ میں بیان کرے۔ ’بوریت‘ کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں چیلنج نہیں کیا گیا ہے یا پھر وہ دی جانے والی تعلیم کو ہی نہیں سمجھے۔ 

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا بچہ بے چین یا افسردہ ہے تو بچے کو اس بارے میں بتائیں کہ آپ اس کے حوالے سے کیا مشاہدہ کر رہے ہیں اور پوچھیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟ پھر نگہداشت کے لیے ممکنہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں، جیسے کہ معالج سے رجوع کرنا۔

اگر بچے میں بہتری نہ آرہی ہو

بچہ اگر ترقی نہ کررہا ہو یا اس میں بہتری نہ آرہی ہو تو آن لائن سے ہٹ کر اس کی اسکلز بڑھانے کے طریقے تلاش کریں۔ اپنے بچے کو ہجے اور تحریری مشق کرنے کے لیے سوداسلف کی فہرست بنانے کا کہیں۔ شکلیں (Shapes)سکھانے کے لیے انھیں گھر سے باہر کہیں جاتے ہوئے نظر آنے والے دائرے (Circle)، مربع (Square) اور تکون (Triangle)کی نشاندہی کریں۔ اگر وہ حروف تہجی سمجھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں تو ان کو اپنے جسم کا استعمال کرتے ہوئے حروف تہجی بناکر دکھائیں (جیسے انگریزی حروف Tتشکیل دینے کے لیے بازو کھول کر کھڑے ہوجائیں)۔