• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

بجلی کے نرخ.... زور کا جھٹکا
مفتاح اسماعیل
سابق وفاقی وزیر خزانہ

گزشتہ مہینے میں آئی ایم ایف سے معاہدہ پایہ تکمیل پا گیا جس کے نتیجے میں عوام کی جیبوں سے آٹھ کھرب روپے بجلی کے بلوں کے ذریعے حاصل کئے جائیں گے، اس کا افراط زر پرکیا اثر پڑے گا یہ سوچ کر ہی تھرتھراہٹ محسوس ہوتی ہے، یہ ایک تبدیلی ہے جسے ہم اپنے ماہانہ بجٹ میں محسوس کریں گے، حکومت کی بجلی کی قیمت صنعت کے لیے 20.73 روپے فی یونٹ ‏، کمرشل 23.55 روپے فی یونٹ اور 5 کلو واٹ کنکشن والے گھر 22.65 روپے فی یونٹ ہے۔اس کے باوجود اب بھی اتنا زیادہ سرکلر قرض کیوں بڑھ رہا ہے اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیوں کیا جارہا ہے؟

مفتاح اسماعیل

بجلی کے نرخ.... زور کا جھٹکا
ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ
سابق سینئر نائب صدر ،
ایف پی سی سی آئی

پاکستان کی معیشت میں سب سے بڑا چیلنج انرجی سیکٹر کو ہے جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کا خمیازہ ملک بھر کے عوام بھگتنے پر مجبور ہیں۔ بجلی کی ترسیل یعنی ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن (T&D) نقصانات، بجلی کی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی اور ان کمپنیوں کی نااہلی کا بوجھ بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ 

بین الاقوامی منڈی میں مقابلے کیلئے ہماری بجلی اور گیس کے نرخ تقا بلی ہونے چاہئیں،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست تعلق افراط زر یعنی مہنگائی سے ہوتا ہے۔

بجلی کے نرخ.... زور کا جھٹکا
انجینئر ایم اے جبار
 ممبر بورڈ آف گورنرز
ایس ڈی پی آئی،
سابق چیئرمین
 سائٹ ایسوسی ایشن

 ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ

ڈسکوز کے تقسیمی اور ترسیل نظام کو بھی بہتر انتظامات کی ضرورت کے تقاضوں کے تحت علاقائی بنیاد وں پر مزید انتظامی تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور موجودہ اجارہ داری کو بھی بتدریج ختم کرنے کی ضرورت ہے، جس سے مسابقاتی رحجان کی وجہ سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی ضرورت کو کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ماضی اور حال کی حکومتیں پاور سیکٹر میں کسی بھی واضح اصلاحات و اقدامات کرنے کے حوالے سے نظر نہیں آئے ، جس کے سب سے بڑی وجہ آئی پی پیز کا اثر و رسوخ اور ان کا خود ایوان اقدار کا حصہ ہونا ہے

انجینئر ایم اے جبار 

مہنگائی کے مارے عوام پر بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی خبریں بجلی بن کر گری ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں تحریک انصاف کی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بجلی کے نرخوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ٹوئٹر پر ایک صارف کی ٹوئٹ بہت مقبول ہوئی ہے جس میں اس نے کوئی تحریر لکھنے کے بجائے 2018اور مارچ 2021کے دو بلوں کی کاپی شیئر کی ہے۔ تین سو سے کم یونٹس کے صارف کا بل دوگنا ہوگیا ہے۔ تقریباً ڈھائی ہزار بل ادا کرنے والا صارف آج ساڑھے پانچ ہزار روپے ادا کررہا ہے۔’’بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیوں؟‘‘ گزشتہ تین برسوں میں بجلی کے نرخوں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کیا رہی ہے؟ 

آئی ایم ایف سے معاہدے کے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، مہنگی بجلی کے نتائج کیا ہوں گے، افراطِ زر کتنا بلند ہوگا، صنعت و تجارت کتنی متاثر ہوگی، پیداواری لاگت میں کتنا اضافہ ہوگا، برآمدی اشیاء کیا بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرسکیں گی، بزنس کمیونٹی کے کیا مطالبات ہیں، ان جیسے سوالات کے جوابات لینے کے لیے ’’بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات‘‘ کے موضوع پر جنگ فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں سابق وزیرِ خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما مفتاح اسماعیل، ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور کالمسٹ ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ اور سائٹ ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین انجینئر ایم اے جبار نے اظہارِ خیال کیا، جنگ فورم کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔

ڈاکٹر مفتاح اسمعیل

سابق وفاقی وزیر خزانہ

پاکستان کی برآمدات ویسے ہی مسائل کا شکار ہیں، زیادہ پیداواری لاگت کے سبب ہماری اشیاء عالمی مارکیٹ میں پہلے ہی مقابلہ کرنے کے قابل نہیں تھیں اور اب موجودہ حکومت کی جانب سے پٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی نے برآمدات کو مزید مشکلات سے دوبار کر دیا ہے، ہم اپنے قریبی حریفوں بھارت، بنگلادیش، سری لنکا اور ویت نام کی اشیاء کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے، بجلی مہنگی ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، پیداواری لاگت بڑھنے سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی قوت خرید میں کمی واقع ہوتی ہے۔ 

اس وقت عوام مہنگائی کے سبب بہت مشکل میں ہیں، روزمرہ اور خاص کر کچن کی اشیاء بہت مہنگی ہیں، گھی، اٹا، دالیں، چینی، سب کی قیمتوں میں دو ہزار اٹھارہ کے مقابلے میں دو گنا اضافہ ہوا ہے، عوام درست معنوں میں مہنگائی کے سونامی کا سامنا کر رہے ہیں، مہنگائی کے ساتھ بےروزگاری اور آمدنی میں کمی کا مسلۂ بھی درپیش ہے، عمران خان کے پاس تو کئی اے ٹی ایم ہی۔ عوام کے پاس تو ایسی سہولت نہیں ہے، وہ عذاب میں جی رہے ہیں، ان کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ حکومت نے بجلی کے نرخوں میں 1.95 روپے فی یونٹ اضافہ کیا تھا۔ رواں ماہ نیپرا نے دسمبر کے لئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز میں 1.53 روپے فی یونٹ اضافے اور 2020 کی چوتھی سہ ماہی کے لئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 0.83 روپے اضافے کا تعین کیا ہے۔ لہذا عوام کے فروری کے الیکٹرک بلوں ‏میں فی یونٹ 4.31 روپے زیادہ اضافہ ہوا، گزشتہ مہینے میں آئی ایم ایف سے معاہدہ پایہ تکمیل پا گیا جس کے نتیجے میں عوام کی جیبوں سے آٹھ کھرب روپے بجلی کے بلوں کے ذریعے حاصل کئے جائیں گے، اس کا افراط زر پرکیا اثر پڑے گا یہ سوچ کر ہی تھرتھراہٹ محسوس ہوتی ہے، یہ ایک تبدیلی ہے جسے ہم اپنے ماہانہ بجٹ میں محسوس کریں گے۔

پی ٹی آئی حکومت کسی بھی چیز کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی ہے اور صرف پی ایم ایل این کی سابقہ ​​حکومت پر الزام عائد کرتی ہے۔ مثال کے طور پر جب پورا ملک بلیک آؤٹ کا شکار ‏ہوا تو ایک وزیر نے پی ایم ایل این کو مورد الزام ٹھہرایا۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے ہیں۔ لیکن وہ "جانتے تھے" یہ پی ایم ایل این کی غلطی تھی۔ آخر میں یہ پتہ چلا کہ پی ٹی آئی کے قابل لوگ گذشتہ موسم گرما میں مینٹیننس جو معمول کی ہوتی تھی، کرنا ‏بھول گئے تھے۔

لہذا پی ٹی آئی نے پی ایم ایل این پر بنیادی نرخوں (1.95 روپے) میں اضافے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ مسلم لیگ نے زیادہ بجلی گھر لگانے کے نتیجے میں ہونے والے زیادہ فکسڈ اخراجات ہیں جو لیکن یہ احمقانہ بات ہے۔ فکسڈ کاسٹ بھی بڑھی ہے مگر ‏بجلی کی پیداوار اور بھی بڑھی ہے۔ لاگت کو اب زیادہ تعداد کے یونٹوں سے تقسیم کیا جائے گا جو پی ایم ایل این کے لگائے گئے جنریشن پلانٹس سے پہلے لگائے گئے تمام پلانٹوں سے کم ہے۔

یقینا ہمیں بجلی گھر لگانے تھے۔ 2013 میں زیادہ تر علاقوں میں پاکستان میں 12 سے 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوئی تھی۔ ‏پی ایم ایل این نے جو پاور پلانٹس قائم کیے اس سے پاکستان میں سستی ترین تھرمل بجلی پیدا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جنرل مشرف کے قائم کیے جانے والے فرنس آئل پلانٹس کی فی یونٹ فکسڈ کاسٹ صرف 2 روپے باقی ہے۔ 

 مگر اس پلانٹ کی ایندھن کی لاگت 13 روپے فی یونٹ ہے ‏کل پیداوار کی لاگت 15 روپے ہے ۔ اس کا موازنہ ایل این جی پلانٹوں سے کریں جو پی ایم ایل این کے ذریعہ لگائے گئے ہیں جس کی فکسڈ کاسٹ 4 روپے ہے مگر فیول لاگت صرف 6 روپے ہے- فی یونٹ پانچ روپے کی بچت آتی ہے۔ اور یہ ایل این جی پلانٹس حکومت کی ملکیت ہیں لہذا کوئی رقم حکومت سے نہیں جاتی ہے۔ ‏پی ایم ایل این کے ذریعہ لگائے گئے کوئلے کے پلانٹ اس سے بھی زیادہ سستے ہیں اور 9سے 10روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرتے ہیں ۔جس میں فی یونٹ کی فکسڈ کاسٹ لاگت 5 روپے اور فی یونٹ ایندھن کی لاگت پانچ روپے بھی شامل ہے۔

اس کے باوجود حکومت کی بجلی کی قیمت صنعت کے لیے 20.73 روپے فی یونٹ ‏، کمرشل 23.55 روپے فی یونٹ اور 5 کلو واٹ کنکشن والے گھر 22.65 روپے فی یونٹ ہے۔ تو پھر اب بھی اتنا زیادہ سرکلر قرض کیوں چلا رہے ہیں اور حکومت نے بجلی کی نرخوں میں اضافہ کیوں کیا؟ اس کی پانچ وجوہات ہیں۔ ایک، حکومت صرف 88 فیصد بل جمع کرتی ہے۔ بارہ فیصد صارفین بجلی کی ادائیگی نہیں ‏کرتے اور ہم سب کو ان کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ پی ایم ایل این کے تحت بل کی وصولی 87 فیصد سے بڑھ کر 93 فیصد ہوگئی تھی لیکن تحریک انصاف کے 2 سالوں میں اسے واپس لایا گیا ہے۔

دو ، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نقصانات ​(T&D losses) جو پی ایم ایل این 2013 میں آئی تو 21 فیصد تھے ‏اور 2108 تک کم ہوکر 18 فیصد ہو گئے تھے اب دوبارہ بڑھ کر 19 فیصد ہو گئے ہیں۔ یہ تحریک انصاف کے تحت ایک نمایاں نقصان میں اضافہ ہے۔

​تین ، اچانک روپے کی قدر میں بھاری کمی کے نتیجے میں capacity payments کی ادائیگی میں اضافہ ہوا کیونکہ ادائیگی ڈالر پر مبنی ہے۔ ‏(اس بات کو دو سال کا عرصہ ہو گیا ہے اور اس کے لئے پہلے ہی نرخ بڑھا دیئے گئے تھے۔ پھر اس کی کیا ضرورت تھی؟) اور PTI کا سود کی شرح میں دگنا اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آئی پی پیز پر دیر سے ادائیگی کے معاوضے دگنےسے زیادہ ہوجاتے ہیں۔ (سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے اب حکومت 2400 ارب روپے کی ‏مقروض ہے)۔

​چار ، اور یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں ہم سارا سال بات کرتے رہے ہیں ، اس حکومت کی جانب سے ناقابل یقین حد تک مہنگے ایل این جی کی خریداری۔ اگر حکومت وقت پر یہ خریدتی ، جیسے ہندوستان یا بنگلہ دیش نے کیا ، تو ایل این جی پر 30 سے ​​50٪ اور اربوں روپے کی بچت کرسکتی تھی ‏اور پانچ یہ ہے کہ فرنس آئل اور ڈیزل کے ذریعہ بجلی بنانے کا حیران کن فیصلہ ہے۔ مثال کے طور پر دسمبر میں FAC میں 1.53 روپے کے اضافے کے دوران نیپرا نے حکومت کی درخواست کو قبول کرلیا ہے کہ اسے ڈیزل کے ذریعہ بجلی پیدا کرنے میں 55 کروڑ روپے اضافے کی اجازت دی جائے۔ 

جاپان ، ‏امریکہ اور سعودی عرب تک ڈیزل کے ذریعہ گرڈ پاور نہیں تیار کرتے ہیں کیونکہ یہ اتنا مہنگا ہوتا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کرتی ہے۔ ایسا کرنے کی کوئی قابل فہم وجہ نہیں تھی۔ ​اور اس December میں 3 بلین روپے کا فرنس آئل استعمال ہوا۔فرنس آئل کی دو گناقیمت اور ڈیزل LNG کی قیمت سے تین گنا زیادہ ہے۔ اگر حکومت نے LNG درآمد کی ہوتی تو فرنس آئل اور ڈیزل کے ذریعہ بجلی پیدا کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اس لئے ہمیں فروری میں اضافی ادائیگی کرنے کی ایک وجہ حکومت کے ڈیزل /فرنس آئل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا فیصلے ہے۔

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ

سابق سینئر نائب صدر

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری

سوال: بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیوں؟

جواب: پاکستان کی معیشت میں سب سے بڑا چیلنج انرجی سیکٹر کو ہے جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کا خمیازہ ملک بھر کے عوام بھگتنے پر مجبور ہیں۔ بجلی کی ترسیل یعنی ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن (T&D) نقصانات، بجلی کی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی اور ان کمپنیوں کی نااہلی کا بوجھ بجلی کے نرخ بڑھاکر عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ 

بروقت بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین سے ماضی کے گردشی قرضے کی ادائیگی اور مارک اپ کی مد میں 43 پیسے فی یونٹ وصول کیے جا رہے ہیں، بجلی صارفین اصل قیمت کے علاوہ اضافی اربوں روپے ماہانہ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ وفاقی حکومت پی ٹی وی فیس، ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سمیت لاگت پر 17.5 فیصد جی ایس ٹی بھی وصول کر رہی ہے،سلیب سسٹم کی وجہ سے ٹائم آف یوز (پیک اوورز) کے صارفین کو 23 روپے سے زائد فی یونٹ چارج کیا جا رہا ہے۔ 

آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے تین سو یونٹ کے صارفین کیلئے ٹیرف میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا،ذرائع نے بتایا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے پر ایف بی آر کو اضافی ریونیو مل رہا ہے۔وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط اور نیپرا کے طے کردہ ٹیرف میں آنے والے مہینوں میں 4.5 روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی تیاری کی ہوئی ہے ،آئندہ مہینوں میں حکومت جب بجلی مہنگی کرنے گی جی ایس ٹی کی مد میں اضافی ریونیو حاصل ہو گا لیکن ایک عام آدمی کیلئے بجلی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہے۔

سوال: گزشتہ 3 حکومتوں کی بجلی اور اس کے نرخوں میں اضافے کی پالیسی کا جائزہ، آئی ایم ایف سے معاہدے کی کڑی شرط کیوں مانی گئی؟

جواب: گزشتہ حکومتیں جب بھی آئی ایم ایف کے پاس قرضے کیلئے گئی ہیں تو انرجی سیکٹر کی وجہ سے بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں ختم کرنے کیلئے جامع پالیسی اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکومت، آئی ایم ایف سے معاہدے کی رو سے بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کرتی رہی ہے اور آج ہم خطے میں دنیا کی مہنگی ترین بجلی پیدا کررہے ہیں لیکن گردشی قرضے کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں اور آج ہمیں 2400 ارب روپے کے گردشی قرضوں کے بم کا سامنا ہے۔

سوال: مہنگی بجلی کے عوام پر کیا اثرات ہوں گے، صنعت و تجارت کتنی متاثر ہوگی، اشیاء کی لاگت اور برآمدی صنعت پر کیا اثرات ہوں گے؟

جواب: مہنگی بجلی سے ملک میں مہنگائی ہوگی اور ہماری صنعتی لاگت میں اضافہ ہوگا جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں ہماری مقابلاتی سکت کم ہوجائے گی، ہماری ایکسپورٹس میں کمی آئے گی، مہنگائی، غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا جس کے ہماری معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی منڈی میں مقابلے کیلئے ہماری بجلی اور گیس کے نرخ مقابلاتی ہونے چاہئیں۔

سوال: بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کتنا بلند ہوگا؟

جواب: بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست تعلق افراط زر یعنی مہنگائی سے ہوتا ہے جو اِس وقت بڑھ کر 9 فیصد سے زیادہ ہوگیا ہے اور ایک عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ بجلی کے نرخوں میںمزید اضافے سے عام آدمی کے لیے گھریلو بل ادا کرنا ناممکن ہوجائے گا، اور صنعتوں کی پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ 

بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کا تیار شدہ مال فروخت ہونا دشوار ہو جائے گا۔ پہلے ہی بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور اونچے ترین ٹیرف کی وجہ سے کئی صنعتی یونٹ بند ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں۔ حکومت کی بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرکے ریونیو حاصل کی حکمت عملی ملکی مفاد میں نہیں۔

سوال: آئی ایم ایف کے دبائو پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے صنعت و تجارت اور عام آدمی پر کیا اثرات پڑیں گے؟

جواب: وفاقی کابینہ نے ایک آرڈیننس کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا اور بجلی کے نرخوں میں اضافے سے حکومت کو آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق اپریل 2021ء سے جون 2023ء تک 6 مرحلوں میں884 ارب روپے صارفین سے وصول کرنے ہوں گے۔ 

اس آرڈیننس میں حکومت نے سرکولر ڈیٹ کم کرنے کیلئے 10 فیصد 1.40 روپے فی یونٹ اضافی سرچارج بھی لگایا ہے جس پر آئی ایم ایف کے نمائندے تھریسا ڈابا نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ٹوئٹ کیا ہے کیونکہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی 500 ملین ڈالر کی قسط کی ادائیگی شرط میں شامل ہے۔ 

سرچارج ملاکر بجلی کے نرخوں میں 7 فیصد اضافہ ہوجائے گا جس سے صارفین پر مجموعی طور پر 934 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں گزشتہ مہینے 1.95 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا ہے جس کو ملاکر بجلی کے نرخوں میں مجموعی اضافہ 8.95 روپے فی یونٹ ہوگا اور صارفین کو 1.134 کھرب روپے کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

سوال: کیا پاکستان میں موجودہ بجلی کے ترسیلی نظام میں تیکنیکی (T&D) نقصانات بہت زیادہ ہیں جس سے بجلی کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے؟

جواب: نیپرا کے مطابق بجلی کی ترسیل کے تیکنیکی نقصانات 17 فیصد ہیں جبکہ وزارت پانی و بجلی کے مطابق یہ 23 سے 25 فیصد ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تیکنیکی نقصانات حقیقتاً 25 فیصد سے زائد ہیں۔ سسٹم سے ایک فیصد تیکنیکی نقصان کو کم کرنے سے 6 ارب روپے کی بچت ہوتی ہے۔ عالمی معیار کے مطابق بجلی کے T&D نقصانات 7 سے 8 فیصد قابل قبول ہیں، اس سے زیادہ ٹی اینڈ ڈی نقصانات بجلی چوری اور ٹرانسمیشن کے ناقص نظام کی وجہ سے ہے۔ 

حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تیکنیکی نقصانات کو 17 فیصد سے کم کرکے 15.5 فیصد تک لے آئی ہے جبکہ بجلی کے بلوں کی وصولی 90 فیصد ہے اور باقی 10 فیصد عدم ادائیگی بھی T&D نقصانات میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور ایماندار صارفین کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بلوں کی وصولی کو بڑھاکر کم از کم 96 فیصد تک لے جانا ہوگا۔ ان اقدامات سے 2023ء تک 150 ارب روپے کے T&D نقصانات کم کئے جاسکتے ہیں نہیں تو صارفین کو بجلی کے نرخوں میں مزید 440 ارب روپے تک اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

سوال: بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے مطالبات کیا ہیں؟

جواب: پاکستان کی صنعت کا ایک طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ وہ اسے Level Playing Feild فراہم کی جائے یعنی عالمی مارکیٹ میں مقابلے کیلئے ہمارے بجلی اور گیس کے نرخ دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں ہوں۔ اپٹما نے وزیراعظم پاکستان کا خطے کے ممالک کی بجلی اور گیس کی قیمتوں کا موازنہ کرکے بجلی کی قیمت 6.5 سینٹ فی کلوواٹ اور گیس کی 7.5 ڈالر فی MMBTU کی تجویز دی ہے جو ایکسپورٹرز کیلئے عارضی طور پر نافذ کی گئی ہے لیکن آئی ایم ایف کے دبائو پر ٹیکسٹائل پالیسی میں اِن نرخوں کا باقاعدہ اعلان موخر کردیا گیا ہے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ٹیکسٹائل پالیسی میں بجلی اور گیس کے بالا منظور شدہ نرخوں کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔

انجینئر ایم اے جبار

ممبر بورڈ آف گورنرز ایس ڈی پی آئی/ سابق چیئرمین سائٹ ایسوسی ایشن

موجودہ حکومت کو وراثت میں ملے ہوئے گردشی قرضے 2300 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں ۔ گردشی قرضے بجلی کے نرخ بڑھانے کے تسلسل کے اسباب کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی اشد ضرورت کے ساتھ جڑے ہوئے دیگر مسائل کو بھی بتدریج ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کو حل کئے بغیر معیشت کی فروغ کے امکانات کی حصولیابی عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکے گی۔

ہمیں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے بجلی کے نرخ کے اضافے کو ہی آخرین و اولین حل کے طور پر شناخت کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے حوالے سے یہ بات میڈیا میں رپورٹ کی جا رہی ہے کہ بجلی کے نرخ کے اَضافے کے حوالے سے بھیجی گئی سفارشات کی وزیر اعظم پزیرائی نہیں کرتے ہیں مگر حالات اور بھیجی گئی سفارشات کی شدت اور اصرار ان سفارشات کو قبول کرنے کو ہی وزیر اعظم کی طرف سے بھی آخری راہ سمجھا جاتا ہے۔

بجلی کے نرخوں کے مسلسل اضافوں کی کئی اسباب ہیں ، جن میں کچھ چیزوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ ناقص کارکردگی کے حامل بالخصوص پرانے پاور پلانٹس ، آئی پی پیز کے موجودہ معاہدات ، جو دی گئی رپورٹس اور دیگر دیئے گئے شواہد کے حوالے سے یہ بتلاتے ہیں کہ یہ معاہدات کسی بھی طرح سے قومی معیشت کی کارکردگی کو ٹھیک کرنے میں کردار ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ 

یہ معاہدات جس میں آئی پی پیز کے مفاہدات قومی معاشی ترقی کی ضروریات کے ساتھ متصادم ہیں۔ ان معاہدات اور ان کا مزید غلط استعمال کے شواہد بھی سامنے آچکے ہیں جس میں دیئے گئے مراعات سے زیادہ بجلی بیچنے کی قیمتوں کو وصول کیا گیا ہے جو مجرمانہ زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹس میں بھی یہ کہا گیا ہے۔ 

نیز ناقص کارکردگی اور انتظامی خرابیوں کے حامل DISCOs کی اصلاح کئے بغیر بجلی کے نرخوں کے اضافے کی ضرورت کو نہیں روکا جا سکے گا۔ DISCOs کی طرف سے بجلی کے بیچنے کے حوالے سے وصولیابی اور دستیابی کے درمیان میں بھی تقریبا دس فیصد کا فر ق موجود ہے اور نیز اس کی تقسیم میں بھی نقاصانات کی حد 20 فیصد سے بھی زیادہ بتلائی جاتی ہے ۔ترسیلی اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں موجودہ نقصانات کو 20 فیصد سے 15 فیصد تک کرنے کم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ 

کسی بھی مسائل کے حل کے لئے مستند شماریات کی موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہاں پر مختلف ذرائع مختلف اعداد و شمار بتاتے ہیں جو ان مسائل کے حل کرنے میں بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نعرے بھی بہت پرانے ہیں جو مختلف ادوار میں بشمول آئی ایم ایف پروگرام کے تحت چلنے والے پروگرامز میں کہنے کی حد تک بڑی شدت رکھتے تھے مگر اصلاحات کی حصولیابی جو اس بجلی کے نرخ کے بڑھانے کی رحجانی ضرورت کو روکتیں مگر کہیں پر بھی اس کی علامات ور اثرات واضح نظر نہیں آتے ۔DISCOs کے تقسیمی اور ترسیل نظام کو بھی بہتر انتظامات کی ضرورت کے تقاضوں کے تحت علاقائی بنیاد وں پر مزید انتظامی تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور موجودہ اجارہ داری کو بھی بتدریج ختم کرنے کی ضرورت ہے، جس سے مسابقاتی رحجان کی وجہ سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی ضرورت کو کو کم کیا جا سکتا ہے۔ 

ماضی اور حال کی حکومتیں پاور سیکٹر میں کسی بھی واضح اصلاحات و اقدامات کرنے کے حوالے سے نظر نہیں آئیں ، جس کی سب سے بڑی وجہ آئی پی پیز کا اثر و رسوخ اور ان کا خود ایوان اقدار کا حصہ ہونا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے نہ فقط پاکستان کی معیشت کی سرکوبی بلکہ مصارف کے مفاہدات کے مخالف جہت میں آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے معاہدات ہیں ۔ 

اسد عمر نے اپنے ایف پی سی سی آئی میں کئے گئے حالیہ دورے کے موقعہ پر کہا کہ ہمیں ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس میں چالیس ہزار میگا واٹ تک جنریشن کی صلاحیت موجود ہے مگر زیادہ سے زیادہ پاور کی ضرورت 25000 میگاواٹ کے قریب ہوگی ، انہوںنے کہا کہ 15000 میگاواٹ کے اس فرق کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ معاہداتی صورتحال میں ہمیں بجلی استعمال نہ کرنے کی بھی پیسے ادا کرنے ہوں گے جس کو capacity چارجز کہا جاتا ہے۔ 

مزید انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں ہمیں آئندہ دو سالوں میں capacity چارجز کی مد میں 980 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے جو کہ بجلی کے استعمال نہ ہونے کی باوجود بھی ادا کئے جائیں گے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومتوں نے پاور جنریشن کی ضرورت کو ملکی پاور ڈیمانڈ کے ساتھ کسی بھی پلاننگ کا حصہ نہیں سمجھا اور بغیر کسی پلاننگ کے capacity چارجز کے اضافے نے ملکی مفادات کے خلاف موجودہ اسباب پیدا کئے ۔ 

کسی نہ کسی کی جوابدہی تو بنتی ہے مگر یہاں پر چونکہ پاور سیکٹر کے ساتھ تعلق رکھنے والے ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے یا ان کے اثر و رسوخ کی فروخت میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں بنی، شاید یہی وجہ ہے کہ شخصی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ بطور کل انہی وجوہات کی بناء پر ملک کی معیشت کی کارکردگی خراب ہوتی رہی اور آئندہ آنے والی دنوں میں مزید قرضہ جات کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی پیدا کی گئی ہے۔

صرف سی پیک کے آئی پی پیز کے سلسلے میں آئندہ تین برسوں میں تقریبا 3 بلین ڈالرز قرضہ کی واپسی کرنے ہوگی اور نیز اس کے علاوہ markup اور return on equity بھی ادا کرنے ہوں گے ۔ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہ کس قسم کی economic management ہے جس میں نہ فقط ناقص معاہدات کئے گئے ہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ بجلی کے کارخانے لگائے گئے ہیں اور بجلی نہ پیدا کرنے اور استعمال نہ ہونے کے حوالے سے بھی آئندہ دو سالوں میں 980 ارب روپے کی بھی مزید ادائیگی کی جائے گی۔ 

سینیٹر شبلی فراز اور سینیٹر نعمان وزیر اور آئی پی پیز کے اوپر اجراء شدہ رپورٹس کے اوپر حکومت کو قانونی طور پر تمام اقدامات لینے چاہیں کیونکہ وہ معاہدات جو شفافیت کے نظروں میں سوالیہ ہیں ، کو عوامی مفاہدات کی ضرورت کے تحت ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تینوں رپورٹیں کسی سرد خانے کے نظر ہو چکی ہیں ماسوائے کچھ پرانے آئی پی پیز کے ساتھ کی گئی معاہداتی ترمیمیں جس میں آئندہ ان پاور پلانٹس کی زندگی کے بچے ہوئے سالوں میں کچھ بچت ہو سکے گی۔ بجلی کے نرخ کے بڑھانے کے اسباب کثیر السمتی ہیں جن کو حل کرنے کیلئے حکومت کی اپنی will اور writ کے اجراء کی ضرورت ہے ۔

آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی کے نرخوں کے اضافوں کی ضرورت کو بھی اس طرح دیکھنا چاہئے کہ جب ہم ان اقدامات جن کی ضرورت ہے کو اجراء نہیں کر رہے ہیں تو پھر آئی ایم ایف کے تقاضے کے بجلی کی فروخت کی وصولیابی پوری ہونی چاہئے ، کے شرائط کی ضرورت کو بھی منہا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پر یہ سوال تو ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ پاور سیکٹر کے ریفارمز کے حوالے سے آئی ایم ایف کی طرف سے ابھی تک دی گئی سفارشات کے اوپر کیا عمل ہوا ؟ 

ہم بار بار پاور سیکٹر ریفارمز کے بارے میں سنتے ہیں مگر آج کے دن بھی گردشی قرضہ 2300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور 980 ارب روپے capacity چارجز میں دو سالوں میں ادا کرنے ہیں ۔ آئی پی پیز کے معاہدات قومی مفادات کے خلاف اپنی جگہ پر موجود ہیں اور پچھلے پانچ سالوں میں مزید پاور جنریشن میں اضافہ ہواہے اور یہ تسلسل بھی جاری ہے۔ کیا یہ یہاں پر اکنامک منیجمنٹ کی صورت حال تسلی بخش ہے ؟ وزیر اعظم کو اس کی جوابدہی کے اوپر اصرار کرناچاہئے ؟

پلاننگ کمیشن جو تمام ملکی پالیسز کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کے لئے چھوٹے ، درمیانے اور طولانی مدت کے پلان بناتی ہے ، کیا اس چیز سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کر سکتی ہے کہ اس کے نامناسب کارکردگی کی وجہ سے گردشی قرضے اور capacity چارجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ؟ پاور ڈویژن اور منسٹری آف انرجی کیا کسی پلان کے تحت کام کر رہی ہیں یا کر رہی تھیں یا کسی اثر و رسوخ کے تابع مسلسل جنریشن کو بڑھایا جا رہا تھا، ترسیلی اور تقسیمی نظام میں نقصانات کو کم کرنے کی ضرورت کو نہیں دیکھا جا رہا تھا اور وہ اصلاحات جو وصولیابی اور بجلی کی فروخت کے بیچ میں حائل ہیں، کو بھی درست کرنے کی ضرورت تھی ؟ 

بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے یہ بھی بڑے تعجب کی بات ہے کہ کے الیکٹرک 46 ارب کے برابر مصارف سے زیادہ بل وصول کر چکی ہے مگر عدالتوں میں دیئے گئے stay order کے ذریعے ان پیسوں کی واپسی کو ناقابل عمل بنایا گیا ہے ۔ پاکستان میں کہا جاتا ہے کہ 4000 میگاواٹ کے قریب فرنس آئل کے اوپر چلنے والے پلانٹس موجود ہیں جو بند رہتے ہیں مگر capacity چارجز کی مد میں پیسے ادا کئے جاتے ہیں اور ان کے استعمال نہ ہونے کی راہ میں دوسرے ذرائع سے چلنے والے پاور پلانٹس کی ڈیمانڈ سے زیادہ پاور جنریشن کی وجہ سے غیر فعال اور بند پاور پلانٹس کو بھی capacity چارجز کی مد میں پیسے دیئے جا رہے ہیں۔ 

شاید یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایک جامع جوابدہی کی ضرورت ہے کہ آخر یہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو کمزور کیا گیا ہے ؟ اور یہ وجہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک عام صارف جس کو کہا جاتا ہے کہ وہ 80 فیصد ڈومیسٹک کیٹیگری کا حصہ ہے اور 300 یونٹس سے بھی کم بجلی صرف کرتا ہے ، جس کی بجلی خریدنے کی استعداد بھی کم ہے وہ اس صورت حال میں کسی بھی حکومت کے استحکام کے لئے لمحہ فکریہ ہے، کی صورتحال کو کیوں پیدا کیا گیا ہے؟ مہنگائی کے اعداد کی تعین میں یوٹیلیٹیز کی قیمتوں کا بھی حصہ ہوتا ہے اور بجلی کے مہنگے نرخ اور ان کا بتدریج مزید مہنگا ہونا ان تمام اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے جو مہنگائی کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔

آئی ایم ایف کے اوپر تنقید کرتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ پروگرام ہمیں ورلڈ بینک ، ایشین ڈویولپمنٹ بینک ، فرینڈز آف ڈیموکریسی آف پاکستان ، بہت سارے کثیر الملکتی ادارے اور کمرشل لینڈنگ اداروں کے نزدیک کر دیتا ہے اور ہماری معیشت کی موجودہ صورتحال اس وقت اس گلوبل سسٹم کے باہر رہنے کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے ، ہمیں خود انحصاری کی طرف بڑھتے ہوئے بتدریج شرائطی عوامل کے پروگراموں سے باہر نکلنا ہوگا کیونکہ ان کی طرف سے دی گئی شرائط مقامی صورتحال کی ضروریات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ہیں ۔ ان اصلاحات کا طرز کبھی کبھی ہمارے لئے مزید پیچیدگیوں اور مزید کمزوریوں کی راہ پیدا کرتا ہے ۔

اس وقت COVID-19 کی تیسری لہر میں کہا جاتا ہے کہ معیشت کی نمو ڈیڑھ فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی ، نیز بے روز گاری اور کم ہوتے ہوئے انٹرپرونرشپ ڈولپمنٹ اور مہنگائی کے رحجانات کا جاری رہنا ہمارے ملک کے لئے ایک بہت تکلیف دہ صورت حال ہے ۔

آج دنیا ریلیف دینے اور لینے کے تقاضوں کی طرف جا رہی ہے مگر ہم کتابی طرز کی اکنامی کی ترسیل کی باتیں کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک بار پھر گفت و شنید کرنے کی ضرورت ہے اور موجودہ حالات جس میں دنیا کی تمام حکومتیں رعایتی طرز کی مراعات دے رہی ہیں، اس صورت میں حکومت کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کی بجائے آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے معاہدات میں ترمیم ، پاور سسٹم میں اصلاحات کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں ٹھہرائو کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ 

مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بجلی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے نرخ اور ناقص کارکردگی ، غیر شفافیت کے حامل معاہدات کو بھی حکومت کو نظر انداز نہیں کرنے چاہئیں ۔ وقتی طور پر دی گئی کچھ مراعات طولانی مدت میں مستحکم نہیں ہوتی ہیں ، اسی لئے ہمیں اپنے پاور سیکٹر میں اصلاحات کرنے کی اشد ضرورت ہے اور حکومتی will اور writ کا انتظار ہے ۔ 

اس وقت بجلی کے نرخ 1.95 روپے فی یونٹ بڑھ چکے ہیں اور مزید 4 روپے 50 پیسے بڑھانے کا عندیہ دیا جا چکا ، جو کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کا ایک حصہ ہے ۔ اس وقت ہمارے بجلی کے نرخ اوسطا 17 روپے کے قریب آ چکے ہیں اور اگر ساڑھے چار روپے بڑھائے جائیں گے تو یہ 21 روپے سے زیادہ ہو جائیں گے، جو معاشی فروغ کی راہ میں بڑی رکاوٹ پیدا کرنے کے ساتھ مہنگائی کے رحجانات کو بھی فروغ دیں گے جو کسی سیاسی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ 

نیپرا ایکٹ میں کی گئی تبدیلیاں ، بجلی کے نرخوں میں اضافے کے حوالے سے آرڈیننس اب قومی اسمبلی میں پیش ہوں گے اور دیکھا جانا ہے کہ کیا اس کی مخالفت کے ساتھ اصلاحات اور جوابدہی کے مطالبات بھی ہوں گے یا نہیں ؟ بطور کل یہ سارے مسائل حکومتوں کی ناقص معاشی انتظامیہ کے پیدا کردہ ہیں ۔حکومتوں کی جوابدہی بھی بنتی ہے کہ انہوں نے معیشت کی درستگی اور ا س کی فعالیت کے عناصر کو کیوں نہیں مسابقانہ بنایا اور یہ کیا وجہ ہے کہ اثر و رسوخ پلاننگ کے اوپر ترجیح لیتے رہے ؟ اور جو لوگ پاور سیکٹر کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں ان کو پاور سیکٹر کے سلسلے میں کئے گئے فیصلوں کا حصہ بنایا گیا اور اس conflict of interest کی موجودگی کو بھی پارلیمنٹ میں بحث کرنا چاہئے۔ 

جب تک ہم پرانی کی گئی خرابیوں کی accountability نہیں کریں گے تو بجلی نرخ کے اضافوں کے علاوہ دیگر کسی بھی جہت میں کوئی بھی اصلاحات یا درستگی ممکن نہیں جس کی وجہ سے پیداوار اور پیداواریت کو تقویت ملے ، ملکی اشیاء بیرونی اشیاء کا اندرون ملک مسابقہ کر سکیں اور ایکسپورٹ بھی ایک مسابقے کے ساتھ بیرون ملک ایکسپورٹ کے بڑھانے کے رحجانات کو برقرار رکھ سکے۔