رمضان المبارک میں منافع خوری!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی ادرہ شماریات نے (10تا16 اپریل) مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں 16اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور گیارہ میں کمی کی نشاندہی کی ہے ۔ جس کی رو سے بحیثیت مجموعی گذشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح 18.89 فیصد رہی جو 0.54 فیصد زیادہ ہے ۔ ملک کے 17 بڑے شہروں سے جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق سیب، کیلا، خربوزہ، ٹماٹر ، پالک ،آٹا، چکن، بیف ،مٹن، کھجور سمیت دیگر روزمرہ گھریلو استعمال کی اشیا ٹوٹاباسمتی ، گھی ، خوردنی تیل، واشنگ سوپ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ لہسن ، دالوں، انڈہ، چینی، پیاز، گڑ، ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کمی آئی۔ پنجاب حکومت نے حسب سابق صوبے میں 313رمضان بازاروں کے 800 خریداری مراکز پر آٹے سمیت جملہ اشیائے خورد و نوش امدادی نرخوں پر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جو مستحسن عمل ہے ۔ ان مقامات پر اشیا بظاہر حکومت کے مقررہ نرخوں پر دستیاب ہیں لیکن بیشتر دکانداروں کے بارے میں کم تولنے کی شکایات عام ہیں ۔ جہاں سرکاری و نجی میگا اسٹوروں پر روز مرہ اشیائے ضروریہ کی خریداری کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آرہا ہے یوٹیلٹی اسٹورز پر حکومت کی طرف سے رعایتی نرخوں پر دی جانے والی اشیا حسب سابق غائب ہوگئی ہیں ۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ عام دکاندار بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے یوٹیلٹی اسٹورز سے اشیا خرید کر مہنگا بیچتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے رمضان بازاروں پر نظر رکھنے کے لئے ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیاں قائم کر رکھی ہیں جن کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے ۔ دوسرے اسلامی ملکوں کے علاوہ بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی یہ دستور ہے کہ رمضان المبارک میں دکاندار از خود اشیا ئےضروریہ کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں جبکہ وطن عزیز میں ماہ صیام آتے ہی مہنگائی کو پر لگ جاتے ہیں ۔ صوبائی حکومتوں کو اس بارے میں انتہائی مؤثر اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین