یہ نوجوان بیزار ہیں مگر ہمارے اپنے ہیں
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں ہی پنجاب کے شہروں میں روزے داروں کو جو پُر تشدد مناظر دیکھنے کو ملے۔ وہ انارکی نہیں تو اور کیا تھی۔ نوجوان اچانک سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اور وہ پُر امن احتجاج کی بجائے گاڑیوں کو آگ لگارہے تھے۔ اپنی محافظ پولیس کے کانسٹیبلوں اور افسروں کو گھیرے میں لے کر بے رحمانہ تشدد کررہے تھے۔ حکومت نے قوم کو بے خبر رکھا ہوا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کے یہ جواں سال کارکن اس تشدد پر کیوں اتر آئے تھے۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ تحریک سے حکومت کا فرانسیسی سفیر کے سلسلے میں کیا معاہدہ ہوا تھا۔ مظاہرے پہلے بھی ہوئے۔ دھرنے بھی۔ 1977کے انتخابات کے بعد پی این اے کی تحریک بھی کسی حد تک متشددانہ تھی۔ لیکن ان دو تین روز میں یہ لگ رہا تھا کہ ان شہروں میں ریاست کی طاقت بے بس ہوگئی ہے کوئی فیصلہ نہیں کر پارہی۔ راستے مسدود ہیں۔ ایمبولینس گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ شہری گھر سے کام کی جگہ نہیں جا پارہے ہیں۔ کارخانوں سے واپس گھر نہیں پہنچ رہے۔ حکومت کے پاس ایسے حالات میں موبائل فون سروس سوشل میڈیا بند کرنے اور بالآخر اس تحریک کو ہی کالعدم قرار دینے کے علاوہ کوئی فوری حل نہیں تھا۔ پابندیاں پہلے بھی سیاسی پارٹیوں۔ مذہبی تنظیموں پر لگتی رہی ہیں۔ لیکن ان کے کارکنوں کے دل اور ذہن میں جو عقائد۔ خیالات اور نظریات ہوتے ہیں وہ کسی وزارت داخلہ کے اعلان سے کالعدم نہیں ہوجاتے۔ ہمارے ہاں تجزیہ کاروں نے بھی خانے بنارکھے ہیں کہ یہ تنظیم فرقہ وارانہ ہے۔ مذہبی شدت پسند ہے۔ یہ قوم پرست ہیں۔ یہ انتہا پسند ہیں۔ یا یہ سب اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ہیں۔ اب اسٹیبلشمنٹ خود بھگتے۔

ہم سب کے یہ رویے فرسودہ سوچ کے بھٹوں میں پک کر اتنے پختہ ہوچکے ہیں کہ ہم اس سے آگے سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔ خفیہ ایجنسیاں۔ تھانوں کی سی آئی ڈی تو ایسے پکنے والے لاوے سے پہلے سے با خبر ہوتی ہے۔ انہیں متعلقہ حکمرانوں حلقوں کو خبردار کرنا چاہئے۔ ان چنگاریوں کو بھڑکتے شعلوں میں تبدیل ہونے سے پہلے وزیروں۔ کمشنروں۔ ڈپٹی کمشنروں کو ان تنظیموں کے سربراہوں سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ جب یہ سڑک پر آتے ہیں تو ضروری نہیں کہ معاملات پھر ان کے ہاتھوں میں رہ سکیں۔ ملک میں بے شُمار مسائل سلگ رہے ہیں جن کا حل سنجیدگی سے نہیں نکالا جاتا۔ ایسے احتجاج میں پھر سب محرومین۔ مظلومین اور حکومت بیزار عوامل شامل ہوجاتے ہیں۔ تاک میں بیٹھی سیاسی جماعتیں بھی جلتی پر تیل چھڑکتی ہیں۔ وہ نوجوان جو مہینوں سے ڈگریاں لے کر نوکری کے لیے جوتے گھسا رہے ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایسے مظاہروں میں شریک ہونے کا جواز تلاش کرلیتے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان پچھلے کچھ عرصے میں جتنی مقبول ہوئی ہے اور اب صوبائی قومی اسمبلیوں تک جا پہنچی ہے کسی نے اس کی تیز رفتار پسندیدگی کے اسباب تلاش کرنے کی سعی کی ہے۔ مذہبی تنظیمیں مذہبی سیاسی جماعتیں پہلے سے موجود تھیں۔ کچھ پاکستان جتنی پرانی ہیں۔ کچھ نئی ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کی سیاسی تنظیمیں بھی پہلے سے سرگرم ہیں۔ ان سب سے الگ یہ تحریک لوگوں کے دلوں میں کیوں اتری ہے۔ اس کے حامیوں اور کارکنوں کے دل اور ذہن میں اس نئی تنظیم کے لیے گنجائش کیوں موجود تھی۔ یہ نوجوان جو گھر سے نکلا ہے۔ پولیس والوں سے مزاحمت کررہا ہے۔ جتھے بناکر ایس ایچ او اور سب انسپکٹروں پر حملے کررہا ہے۔ اس کے دماغ میں کیا نظریات کیا عزائم ہیں۔ یہ ذہن کس نے بنایا ہے۔ پنجاب کی قریباً 11کروڑ آبادی میں 64فی صد نوجوان ہیں یعنی 7کروڑ جواں سال ہیں۔ 15سے 29 سال کے درمیان۔ ان میں بے روزگار۔ 5فیصد ہیں۔ بہت سے اسکولوں اور کالجوں میں بوجوہ تعلیم جاری نہیں رکھ سکے۔ ایک اکثریت ایسی ہے کہ جو کسی سیاسی پارٹی کے لیے اپنے دن رات صَرف کر رہی تھی۔ پارٹی جب بر سر اقتدار آئی تو ان کے روزگار کے لیے کچھ نہیں کیا۔ وہ اپنی پارٹیوں سے باغی ہوگئے۔ ایسی تنظیموں کے بارے میں ایک حلقہ تو یہ تجویز کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ یہ سب اسٹیبلشمنٹ کا کیا دھرا ہے۔ ایک متبادل طبقہ اس کا الزام پڑوسی ممالک پر عائد کردیتا ہے کہ وہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

کووڈ کی عالمگیر وبا نے بھی بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ سیاسی پارٹیاں جب اپنے اندر جمہوریت نہ رکھتی ہوں۔ خاندانی کمپنیاں بن گئی ہوں تو وہ اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت نہیں کرتی ہیں۔ ملک میں جمہوری سیاسی عمل بھرپور انداز میں جاری ہو تو نوجوان فرقہ پرستوں۔ قوم پرستوں۔ لسانی۔ نسلی شدت پسندوں کی طاقت نہیں بنتے ہیں۔

کوئی یونیورسٹی۔ کوئی ادارہ کوئی سیاسی پارٹی ایسی تحقیق کررہی ہے کہ وہ توانا صحت مند نوجوان جو ملک کی معیشت کی طاقت بن سکتے ہیں۔ کسی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ وہ بوجھ کیوں بن گئے ہیں۔ علما اپنے طور پر سرگرم ہیں۔ ترغیبی تقریر کرنے والے تربیت دہندگان بھی موجود ہیں۔ مولانا طارق جمیل کے وعظ چینلوں پر جاری ہیں۔ تبلیغی اجتماعات میں بھی پہلے سے زیادہ نوجوان شریک ہوتے ہیں۔ اعتکاف میں بھی نوجوان نسبتاً بڑی تعداد میں بیٹھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا۔ سوشل میڈیا کیا ان نوجوانوں کے ذہنوں کی پیاس بجھارہا ہے۔ یہ ہمارا اثاثہ اس طرح سڑکوں پر غیر منظم احتجاج کرنے پر کیوں مجبور ہوجاتا ہے۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے پُر امن احتجاج کیوں نہیں ہوتا۔ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے منظم انداز کیوں نہیں اختیار کیا جاتا۔قومی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی زبان بھی ایسے ہی اشتعال انگیز جملے ادا کرتی ہے۔ وقار۔ متانت۔ سنجیدگی بھی کالعدم ہوچکے ہیں۔ ٹاک شوز بھی روزانہ بیزاری پیدا کرتے ہیں۔ معاملات طے کروانے کی کوشش نہیں کرتے۔

یہ جو کچھ ہوتا رہا ہے ملک میں کسی سسٹم کے نہ ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ یہ بہت خطرناک رجحان ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے ادارے پولیس کو بے بس بنایا گیا۔ یہ ذہن جو دو تین روز پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص اکثریتی صوبے پنجاب میں جس بیزاری اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں یہ آئندہ بھی یہی شقی القلبی اختیار کرسکتے ہیں۔ کل کسی اور نام سے سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ یہ تحقیق کی جائے کہ ان کے ذہنوں میں یہ بے سمتی اور منفی لہر کس نے پیدا کی ہے‘ یہ رویے ملک کیلئے اور خود ان نوجوانوں کیلئے خطرناک ہیں۔ ان سے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے ذہنوں سے بیزاری کاعنصر نکال کر انہیں وطن عزیز کے لیے کارآمد بنایا جائے۔ یہ ہر چند مشتعل ہیں بیزار ہیں۔ مگر ہمارے اپنے نوجوان ہیں۔کسی ماں نے انہیں بہت سی دعائوں سے پایا ہے۔ کسی باپ کو بڑی مرادوں سے ملے ہیں۔ کسی بہن کے لاڈلے ہیں۔ انہیں محبت سے سمجھانا ہے۔

تازہ ترین