افغان جنگ میں ڈھائی لاکھ اموات، ساڑھے 22 کھرب ڈالرز خرچ ہوئے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان جنگ میں ڈھائی لاکھ اموات، ساڑھے 22 کھرب ڈالرز خرچ ہوئے

کابل (جنگ نیوز )افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بارے میں جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 20 برس کے دوران جنگ میں دو لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں امریکی بھی شامل ہیں۔اس جنگ میں ساڑھے 22 ارب ڈالرز کی خطیر رقم جھونک دی گئی جبکہ اس جنگ کا پھیلائو پاکستان تک ہو ا اور پاکستان نے غیر ملکی افواج کی مدد سے آپریشن کیے جس کیلئے امریکا نے فنڈ دیا۔ تحقیق کے مطابق یہ اموات براہِ راست اس جنگ کی وجہ سے ہوئیں۔ جن میں 71 ہزار 344 عام شہری، دو ہزار 442 امریکہ کے فوجی اہلکار، 78 ہزار 314 افغان سیکیورٹی اہلکار اور 84 ہزار 191 مخالفین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔رواں ہفتے جمعے کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر اب تک امریکہ کے 22 کھرب 60 ارب ڈالرز خرچ ہوئے ہیں۔امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے ʼواٹسن انسٹیٹیوٹ اور بوسٹن یونیورسٹی کے ʼپارڈی سینٹرکے مشترکہ ‘کوسٹ آف وار پروجیکٹ’ کے مطابق اس مالی اخراجات میں افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے آپریشنز بھی شامل ہیں۔کرافورڈ کے مطابق افغانستان میں خرچ ہونے والے فنڈز میں جنگ کے پاکستان تک پھیلاؤ، لاکھوں مہاجرین اور بے گھر افراد، جنگجوؤں اور غیر جنگجوؤں پر ہونے والے اخراجات اور امریکی فوجیوں پر ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔پاکستان جو کہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کا حصہ بنا اس نے لگ بھگ 2600 کلو میٹر کے علاقے میں فوجی آپریشنز کیے جس میں سے اسے افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی مدد بھی حاصل رہی۔واشنگٹن کی طرف سے پاکستان کو ان آپریشنز میں آنے والے اخراجات ‘کولیشن سپورٹ فنڈ’ کی مد میں ادا کیے گئے جو کہ اس مقصد کے لیے بنا تھا۔اس تحقیق کی شریک ڈائریکٹر اور براؤن یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھرین لٹز کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار جنگی نقصانات کا ثبوت ہیں جن کا سامنا سب سے پہلے افغان عوام، پھر افواج اور امریکہ کی عوام کو کرنا پڑا۔کیتھرین کے مطابق جنگ کا جلد سے جلد خاتمہ ہی منطقی اور انسانی حل ہے۔بوسٹن یونیورسٹی کی پروفیسر اور تحقیق کی سربراہ محقق نیٹا کرافورڈ نے ان اعداد و شمار کو اخراجات کا صرف ایک حصہ قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق باقی خرچوں میں جنگ کو جاری رکھنے کے لیے پنٹاگون کے بجٹ میں 443 ارب ڈالرز کا اضافہ، سابق فوجیوں کی دیکھ بھال کے لیے 296 ارب ڈالرز مقرر کرنا، جنوبی ایشیائی ممالک میں فوجی تعیناتیوں کے لیے 530 ارب ڈالر قرض اور بیرون ملک ہنگامی فنڈز کی مد میں خرچ کیے جانے والے 59 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید