ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکسٹائل کے شعبے میں گزشتہ سال جولائی سے جاری شرح نمو میں اضافے کے بعد فروری میں 3.12فیصد کی کمی اگرچہ حکومت کے لئے تشویش کا باعث بنی تاہم مارچ کا مہینہ اسی قدر حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ قومی ادارہ شماریات کے مطابق اس مہینے میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ویلیو ایڈڈ سیکٹر کی بدولت پاکستانی برآمدات ایک سال پہلے کے مقابلے میں 30.4فیصد زیادہ رہیں جس کی رو سے ان کی برآمدی مالیت ایک ارب 35کروڑ 50لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی جو پیوستہ کے مقابلے میں گزشتہ سال ایک ارب تین کروڑ ڈالر زیادہ تھیں جبکہ مجموعی طور پر اس عرصے میں برآمدات کی سطح 11ارب 35کروڑ ڈالر تک پہنچی۔ یہ حجم گزشتہ مالی سال کے انہی مہینوں میں 10ارب 41کروڑ ڈالر تھا اس طرح اس کی شرح نمو میں جولائی تا مارچ 9.6فیصد اضافہ ہوا۔ دنیا میں بہترین شمار کی جانے والی پاکستانی کپاس ایک ایسی پیداوار ہے جو پہلے کسانوں دوسرے خام کاٹن تیسرے ٹیکسٹائل صنعت اور اس کے بعد ویلیو ایڈڈ سیکٹر کی بدولت اپنے ہی ملک کے لاکھوں کنبوں کی کفالت کا ذریعہ اور متذکرہ ہر مد میں حکومت کے لئے سیکڑوں ارب روپے کے محاصل کا ذریعہ ہے۔ بدقسمتی کہ گزشتہ برسوں میں حکومتی عدم توجہی اور مناسب زرعی پالیسی کے فقدان کے باعث کپاس کی پیداوار معمول سے اس قدر کم ہو رہی ہے کہ برآمد کرنے والا ملک کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے اسے درآمد کرنے پر مجبور ہے حالانکہ عالمی سطح پر پاکستانی ٹیکسٹائل کی طلب میں اضافے کی بدولت اس صنعت کے لئے کپاس کا مقامی پیداواری ہدف اسی قدر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کے مسائل سن کر ان کا بلا تاخیر مناسب حل نکالے تاکہ کپاس کی درآمد پر صرف ہونے والا کثیر زرمبادلہ بچایا جاسکے۔

تازہ ترین