ریکارڈ 149 اموات
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس کی پہلی لہر کے خلاف کامیاب حکمتِ عملی اور سخت اقدامات اُٹھانے کی وجہ سے نہ صرف ہمیں کم جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا بلکہ عالمی سطح پر بھی ہماری پالیسیوں کی خاص طور پر پذیرائی کی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلی لہر کے خلاف نبردآزما ہونے کے بعد حاصل ہونے والے تجربے کی روشنی میں کورونا وائرس کی دوسری اور تیسری لہر سے نمٹنے کے لئے زیادہ کامیاب حکمتِ عملی بنائی جاتی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا سارا زور اب صرف ویکسین لگانے پر ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اِس بیماری کے خلاف احتیاطی تدابیر کے حوالے سے اب ویسی سختی نہیں برتی جا رہی جیسی اِس وبا کے پھیلنے کے آغاز میں برتی گئی تھی۔ اسی لئے نہ صرف آئے دن اِس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں حیران کن تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اموات کی تعداد کے بھی پچھلے سب ریکارڈ ٹوٹتے نظر آ رہے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 6ہزار 127کیس سامنے آئے ہیں اور مزید 149افراد اس موذی وبا کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، اموات کی یہ تعداد جون 2020کے بعد ایک روز میں سب سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 16ہزار 243ہو چکی ہے جبکہ کل مریضوں کی تعداد 7لاکھ 56ہزار 285جا پہنچی ہے۔ بعض شہروں میں مثبت کیسوں کی شرح میں ہولناک تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر پہلی دونوں لہروں سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ حکومت کا سارا زور ویکسی نیشن پر ہے، ایسے میں عوام کو سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے احتیاطی تدابیرپر سختی سے عملدرآمد کو اپنے طور پریقینی بنانا چاہئے کہ جان بوجھ کر ہلاکت کو دعوت دینا بہادری نہیں حماقت ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین