ہم نےفرانسیسی سفیر واپس بھیجنے کا معاہدہ نہیں کیا تھا، خرم دستگیر
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم نےفرانسیسی سفیر واپس بھیجنے کا معاہدہ نہیں کیا تھا، خرم دستگیر


کراچی (ٹی وی رپورٹ) ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ ہم نے فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے کا معاہدہ نہیں کیا تھا، ایک تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا پھر اس سے مذاکرات کیے جارہے ہیں

قوم جاننا چاہتی ہے کہ لاہور میں کیا ہوا، نہ حکومت نے اعداد و شمار دیئے نہ وزیراعظم نے حقائق سے آگاہ کیا، ایک تنظیم کو کالعدم قرار دینا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، کالعدم ٹی ایل پی کے تین ایم پی ایز ہیں ان کا کیا کریں گے؟ ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کی کیا ضرورت تھی، حکومت نے عجلت میں ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔

پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما ولید اقبال اور پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر شہادت اعوان بھی شریک تھے۔ولید اقبال نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی پر موثر اقدام لینے کی ضرورت ہے ، کسی تنظیم کو دہشتگرد قرار دیدیا جائے تو اس سے مذاکرات پر کوئی پابندی نہیں ہوتی،

تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا جانا بہت سنجیدہ بات ہے دیکھتے ہیں سپریم کورٹ اس کیس میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ ملک و قوم کو معلوم نہیں کہ کالعدم تنظیم سے کیا معاہدہ ہوا تھا، حکومت نے تین مہینے پہلے جس تنظیم سے معاہدہ کیا آج وہ دہشتگرد ہوگئی

حکومت نے تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا ان کے ساتھ مذاکرات کرنا خلاف قانون بات ہے، دہشتگرد کے ساتھ مذاکرات کرنا اس سے بھی بڑا جرم ہے، وزیراعظم کی تقریر کے بعد یہ معاملہ صر ف ٹی ایل پی کا نہیں رہا ہے، عمران خان نے اسے آزادیٴ اظہار رائے سے تشبیہ دیدی ہے، حکومت تمام پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر اگلا لائحہ عمل بنائے۔

اہم خبریں سے مزید