اسلام کو اسلامیات تک محدود کرنے کی تجویز
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کو پڑھ کر میں دنگ رہ گیا۔ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے، اس لئے اس رپورٹ پر اپنی رائے ابھی نہیں دینا چاہوں گا لیکن میری سپریم کورٹ اور اس کی طرف سے بنائے گئے متعلقہ یک رکنی اقلیتی کمیشن سے یہ درخواست ضرور ہے کہ اس معاملہ پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اسلامی اسکالرز اور ماہرینِ تعلیم کو بھی سن لیں تاکہ انصاف ہو اور کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو جس سے ممکنہ طور پر معاشرے میں اشتعال پیدا ہو۔ میری اسلامی جماعتوں، ماہرینِ تعلیم، علماء حضرات سے بھی درخواست ہو گی کہ وہ نہ صرف متعلقہ عدالتی کیس میں فریق بنیں بلکہ یک رکنی کمیشن کے سامنے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات اور نقطۂ نظر پیش کریں جس سے سب کے لئے بہتری ہو گی۔ بغیر کسی رائے زنی کے قارئین کرام کی خدمت میں یک رکنی کمیشن کی متنازعہ رپورٹ (جسے اقلیتوں کے لئے قومی کمیشن رَد کر چکا ہے) کے اہم نکات ذیل میں پیش کر رہا ہوں۔

اقلیتوں کے حقوق سے متعلق 2014 میں سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے قائم کردہ یک رکنی مینارٹی کمیشن نے سپریم کورٹ کو سفارش کی ہے کہ آئین کی شق 22 کے مطابق تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے لازمی مضامین جیسا کہ اردو، انگریزی اور معلوماتِ عامہ کی کتب سے حمد، نعت، حضور پاکﷺ، خلفائے اسلام، اسلامی تاریخ کی نامور شخصیات اور مسلمانوں کے حوالے سے تاریخی حوالہ جات ختم کیے جائیں۔ کمیشن نے 30 مارچ کو سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ یکساں قومی نصاب (سنگل نیشنل کریکولم) کے مختلف مضامین (اردو، انگریزی، جنرل نالج وغیرہ) میں شامل تمام اسلامی اور مسلمانوں کے حوالوں کو نکال کر اسلامیات یا اسلامک اسٹڈیز کی کتب میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ مضمون خصوصی طور پر مسلمان طلبہ کیلئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھیں تو اسلامی مواد کا اردو اور انگریزی کی کتب میں ہونا ’’مذہبی ہدایت‘‘ دیے جانے میں شمار ہوتا ہے اور کسی بھی غیرمسلم کو یہ مواد پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن نے اقلیتی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے کئی اسکالرز اور سرگرم سماجی کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لازمی مضامین میں اسلامی مذہبی مواد کا شامل کیا جانا اقلیتی طلبہ کو اسلامی مذہبی تعلیمات حاصل کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ تاہم، وزارتِ تعلیم کے عہدیدار نے کمیشن کی رپورٹ سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدایات پہلے ہی ٹیچرز کیلئے دے دی گئی ہیں کہ اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اسلامی نصاب پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا نہ ہی غیرمسلم طلبہ کا امتحان اسلامی مواد سے لیا جائے گا لیکن کمیشن نے وزارتِ تعلیم کے افسر سے اتفاق نہیں کیا اور لکھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ غیرمسلم طلبہ کو اسلامی مواد پڑھنے سے علیحدہ کیسے رکھا جا سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب یہ مواد لازمی مضامین میں شامل کیا گیا ہے اور وہ بھی اس وقت جب پرائمری اسکولز میں ایک ٹیچر ہوتا ہے یا پھر ایک کمرہ ہوتا ہے یا پھر دونوں۔ کمیشن نے اپنے مشاہدات میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 22(1) میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی ایسے طالب علم کو وہ مذہبی تعلیمات نہیں دی جا سکتیں جن کا اس کے مذہب سے تعلق نہ ہو۔ کمیشن نے یہ بھی لکھا کہ سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھا جائے تو انگریزی اور اردو کی کتب میں اسلامی مواد کا ہونا مذہبی تعلیمات دینے کے زمرے میں آتا ہے اور کسی بھی غیرمسلم طالب علم کو اسے پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن نے پہلی تا پانچویں جماعت تک کے نصاب میں اردو، انگریزی اور جنرل نالج کے مضامین میں سے اسلام، اسلامی ہستیوں، ہیروز اور ہر قسم کے اسلامی مواد کی نشاندہی کرتے ہوئے اُسے اُن مضامین میں سے نکالنے کی سفارش کرتے ہوئے اسے صرف اور صرف اسلامیات میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ یعنی اسلامیات کے علاوہ کوئی اسلامی حوالہ یا مواد ہمارے نصاب میں شامل کسی دوسرے مضمون کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔

تازہ ترین