وزیراعظم اور تحفظ ِحرمت رسولﷺ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا طیارہ جب مدینۃ النبیﷺ کے ہوائی اڈے پر اُترا تو دنیا بھر کی نگاہیں اس پر مرکوز تھیں۔ عالمی مبصرین اور علاقائی و بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین شرق و غرب میں چلنے والی تبدیلی کی تیز ہواؤں کے تناظر میں نومنتخب وزیراعظم پاکستان کے دورۂ سعودی عرب کے سیاستِ عالم کی بساط پر اثرات پرکھنے کیلئے بےچین تھے تو ذرائع ابلاغ اس دورے کی جزیات کو کیمرے کی آنکھ سے دنیا بھر میں نشر کرنے کیلئے نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔ خود میزبان اپنے معزز مہمان کے بھرپور خیرمقدم اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین تعاون و تعلقات کے نئے دور کے آغاز کے حوالے سے پُرجوش اور یکسو تھے۔ اسی اثنا میں وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان طیارے کی سیڑھیوںپر آئے تو دنیا چونک گئی۔ پیغام دو ٹوک تھا۔ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا سربراہ ننگے پاؤں جہاز سے اتر رہا تھا۔ تمام تر سفارتی و سرکاری رسوم سے بےغرض آقائے نامدار جنابِ محمد الرسول ﷲﷺ کا غلام خود کو روضہ اقدس پر حاضری کیلئے تیار کئے ہوئے تھا۔ ادب و انکسار اوڑھ کر سراپا تواضع و احترام بنے نبیﷺ کا سچا عاشق دنیا کو دوٹوک پیغام دے رہا تھا کہ مخدوم و محبوبﷺ کے شہر کے خاکِ و خِشت بھی لائقِ تعظیم ہیں۔ تاریخِ حاضر کا یہ واقعہ ہر لحاظ سے غیر معمولی تھا۔ اہلِ مغرب کی باگیں شیاطین نے تھام رکھی تھیں جو فتنے برپا کررہے تھے۔ رسولِ مکرمؐ کی شانِ اقدس میں توہین کا معاملہ اگرچہ نیا نہیں تھا مگر امریکہ پر نو گیارہ کے حملے اور یورپ میں اسلام کے تیزی سے پھیلنے کے بعد ابلیس کے کارندے نئی شرانگیزیوں پر اُتر آئے تھے۔ پوری دنیا میں اسلام اور پیغمبرِ اسلامؐ کیخلاف ہرزہ سرائی، بہتان تراشی اور تضحیک و توہین پر غیرمعمولی وسائل جھونکے جارہے تھے۔ اسلامی دنیا بےبس اور لاچار نظر آرہی تھی۔ کہیں کہیں سے عوامی سطح پر احتجاج کی نحیف سی صدائیں تو بلند ہوتیں مگر حکومتیں مکمل طور پر گنگ اور عاجز تھیں۔ کم و بیش یہی حال اسلامی ممالک کی علاقائی اور عالمگیری تنظیموں کا بھی تھا۔ او آئی سی، جو اقوامِ متحدہ کے بعد ریاستوں کی سب سے بڑی انجمن ہے بھی کوئی قابلِ ذکر اور مؤثر قدم اٹھانے میں ناکام تھی۔ چنانچہ سوا ارب مسلمانوں پر بیچارگی طاری تھی جسے دیکھ کر شیاطین اور بھی بےباک ہورہے تھے مگر مدینۃ النبیﷺ کے ہوائی اڈے پر کھڑے جہاز سے ننگے پاؤں نکلنے والے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے بزبانِ حال ان شیاطین کو للکار دیا۔ اس سے قبل ایک واقعہ ہند کی سرزمین پر پیش آیا جب چند سال قبل صفِ اول کے ایک بھارتی اشاعتی ادارے (انڈیا ٹوڈے) نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو ایک مذاکرے میں شرکت کیلئے مدعو کیا۔ اس تقریب میں پیغمبرِ اسلامﷺ کی شانِ اقدس پر اپنے قلم سے کیچڑ اچھالنے والے ملعون سلمان رشدی کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ یہ اطلاع ملنا تھی کہ نبیﷺ کا وفادار امتی ڈٹ گیا۔ منتظمین پر واضح کر دیا گیا کہ آقا علیہ السلام کے غلام کو ملعون رشدی کی موجودگی گوارا نہیں۔ ان دو غیرمعمولی واقعات نے تاریکیوں میں روشنی کے آثار پیدا کر دیے تھے۔ بتدریج واضح ہو رہا تھا کہ بےآواز قوم کی رگوں میں ارتعاش ابھر رہا ہے۔ جلد ہی اہلِ عالم نے دیکھا کہ مدینہ کی پاک بستی میں آدابِ حاضری بجا لانے والا غلام نہایت اعتماد و بانکپن سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کھڑا مستحکم اور بااعتماد لہجے میں دنیا کے سامنے تہذیب و تمدن کے لبادے میں چھپے شیاطین اور ان کے کارندوں کو برہنہ کررہا تھا۔ اسلام اور اہلِ اسلام کو ایک پُرعزم وکیل دستیاب تھا جو ﷲ کے دین اور اس کی کتاب کے بارے میں بنے گئے جھوٹ کے تاروپود بکھیر رہا تھا۔ اپنے اس تاریخی خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا ہی کو مسمار نہیں کیا بلکہ دنیا پر دوٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ حبِ رسولِ کریمؐ ہماری زندگیوں کا محور اور حرمتِ رسولؐ ہمارا نصب العین ہے جس پر کسی ادنیٰ درجے کا سمجھوتہ بھی خارج از امکان ہے۔ وزیراعظم نے او آئی سی کے پلیٹ فارم پربھی کہا کہ ہمیں اسلام اور پیغمبرِ اسلامؐ کی ذاتِ بابرکات پر ہونے والے حملوں کو مستقل طور پر روکنا ہوگا۔ اسی دوران جناب رجب طیب اردوان اور ڈاکٹر مہاتیر محمد بھی وزیراعظم کی ہمنوابنے اور تینوں نے مل کر خصوصی وسائل مہیا کرنے اور اسلاموفوبیا کے تدارک کے ساتھ تہذیبی یلغار کے مقابلے کیلئے مشترکہ اقدامات اٹھانے میں پہل کا اعلان کیا۔ حال ہی میں فتنہ گری کی نئی لہر کا آغاز ہوا۔ اس بار شیطان کئی مغربی حکومتوں کے ساتھ اعلانیہ اتحاد قائم کرکے سامنے آیا جن میں سرفہرست فرانس تھا۔ فرانسیسی صدر کے نہایت بیہودہ اور اشتعال انگیز بیان نے امت میں شدید ردعمل کی نئی لہر کو جنم دیا جس پر وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو جھنجھوڑا اور ان سے اپیل کی کہ ان ممالک میں بسنے والے نبی کریمؐ کے نام لیواؤں کی امنگوں کی روشنی اور بنیادی فریضہ ایمانی کی بجا آوری کیلئے سکوت توڑیں اور آگے بڑھ کر اس فتنے کی بیخ کنی کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ آج وزیراعظم عمران خان ملتِ اسلامیہ کو پھر سے دعوتِ عمل دے رہے ہیں اور اپنی ذات کو اس فرضِ عظیم کیلئے وقف کرتے ہوئے عالمی سطح پر بھرپور مہم جوئی کا عزم کررہے ہیں۔ ہدف یہ ہے کہ محسنِ انسانیت ؐ کی حرمت و ناموس کو ناقابلِ دراندازی بنا ڈالیں۔ قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایسا اہتمام لازم ہے کہ آئندہ شرق و غرب میں شیطان حرمت و ناموسِ رسالتؐ پر نگاہِ شر ڈالتے ہوئے کانپے۔ لازم ہے کہ اس قبیح اور حرام امر کو قانوناً ممنوع اور قابلِ تعزیر قرار دیا جائے اور آزادئ اظہار کے نام پر ایسی شرانگیزی کا راستہ ہمیشہ کیلئے روکا جائے۔ یہ آسان نہ ہوگالیکن ان شاءﷲ رب ذوالجلال کی مدد شاملِ حال ہوگی۔

(صاحبِ تحریر وفاقی وزیر مواصلات ہیں)

تازہ ترین