• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز شریف کی ضمانت منظور، آج رہائی کا امکان

شہباز شریف کی ضمانت منظور، آج رہائی کا امکان


لاہور(نمائندہ جنگ) جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کا فیصلہ برقرار‘ لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے متفقہ طور پر منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرلی۔

بنچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے 50، 50 لاکھ روپے کے 2 مچلکے بھی جمع کرانے کی ہدایت کی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مچلکے آج (جمعہ کو )جمع ہوجائیں گے اور آج ہی میاں شہباز شریف کی رہائی کا امکان ہے۔ 

بنچ نے استفسار کیا کہ جو ٹی ٹیز صدر ن لیگ کو آئیں یا منی لانڈرنگ کی وہ پیسہ کہاں سے آیا؟ نیب پراسیکیوٹر کے مطمئن نہ کرنے پر 3رکنی ریفری بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔

منی لانڈرنگ کیس میں قبل ازیں 2رکنی بنچ میں جسٹس سرفراز ڈوگر نے ضمانت کے حق اور جسٹس اسجد جاوید گھرال نے مخالفت کی جبکہ نئے تین رکنی بنچ نے شہباز شریف کی متفقہ ضمانت کا فیصلہ جاری کیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تشکیل دئیے گئے بنچ میں جسٹس مس عالیہ نیلم اور جسٹس سید شہباز علی رضوی شامل تھے۔ 

شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر گزشتہ روز سماعت ہوئی جس میں نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئےانہیں ضمانت پر نہ رہا کرنے کی استدعا کی۔

عدالت کے روبرو نیب پراسیکیوٹر نے شہبازشریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کی آبزرویشن پر اعتراض اٹھا دیا۔ جس پر اعظم نذیر نے کہا کہ نیب توہین عدالت کا نوٹس دلوانا چاہتی ہے، ہم باہر جا کر کلائنٹ کو کیا بتائیں کہ ضمانت ہوئی ہے کہ نہیں۔ 

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے موقف پیش کیا کہ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27 سال میں ایسا نہیں ہوا کہ فیصلہ جاری ہونے کے بعد تبدیل ہوا ہو، لیکن یہاں تین دن کے بعد ایک فیصلہ تبدیل کردیا گیا، کیا یہ عدالت کے خلاف بات نہیں ؟ ان کی یہ بات توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ میں اب بھی اپنے الفاظ پر قائم ہوں، نیب پراسیکیوٹر نے انتہائی سخت بات کی جو انہیں واپس لینی چاہئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ جملہ توہین آمیز ہے تو آپ کو اس واپس لینا چاہیے ۔ 

دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بے نامی دار ثابت کرنے کے لئے کیا اجزا چاہئیں اور نیب نے کیا تحقیقات کیں۔اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سلمان شہباز شریف نے 1996میں ٹی ٹیز وصول کیں ۔

اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو آپ سلمان شہباز سے متعلق بتارہے ہیں ، عدالت کو شہباز شریف سے متعلق بتایاجائے، آپ نے بتانا ہے کہ سلمان شہباز اپنے والد کے زیر کفالت تھے اور اس دوران انہوں نے کتنے اثاثے بنائے۔

تازہ ترین