• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا کی وبا نے عالمی سطح پر جو تباہیاں بربادیاں بپا کی ہیں اس کا تاحال دُرست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ وبا جاری ہے ایک عالم ہراساں اور پریشان ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے بموجب گزرے اٹھارہ ماہ اور اب تک پندرہ کروڑ سے زائد افراد اس مہلک وبائی مرض میں مبتلا ہوئے جن میں 33 لاکھ کے قریب افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امریکہ، بھارت، برازیل، برطانیہ اور اسپین اب بھی شدید متاثر ہیں۔ 

ان میں بھارت زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں عمومی طور پر اور بالخصوص دہلی، اُترپردیش، اڑیسہ کرناٹک، مہاراشٹرا اور کیرالہ میں کورونا نے قیامت ڈھا رکھی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تاحال چھ دن میں اٹّھارہ لاکھ نئے مریض سامنے آ گئے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ یہ ان مریضوں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہے جو ریکارڈ ہوئی مگر دُور دراز علاقوں اور دیہی علاقوں میں کورونا سے متاثر ہونے والوں اور اس وبائی مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا شمار نہیں ہے۔

کورونا کی وبا کی پہلی لہر سے اب تک بھارت میں مجموعی طور پر اس مہلک وبا سے بیمار ہونے والوں کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ اس وقت سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ آٹھ ہزار سے کچھ زائد ہے۔ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ باون لاکھ سے زائد ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ہر چار منٹ میں ایک مریض دَم توڑتا جا رہا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر سارا دن ایمبولینسز کے سائرن کی آوازیں سُنائی دے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے عالمی صحت کے ادارے ڈبلیو ایچ او کے ریسرچ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ کورونا کی یہ نئی لہر دُگنی خطرناک وبا ہے جو امریکہ، برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں پھیلی وبا کا مرکب ہے اور اب بھارت اس کا بڑا نشانہ بن رہا ہے۔ 

اس نئی تیسری لہر کے بارے میں ماہرین نئی ریسرچ پر کام کر رہے ہیں۔ مگر کورونا ہر بار نئی شکل میں نمودار ہو کر تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ لگ بھگ اٹھارہ ماہ سے کورونا کا وبائی مرض دُنیا میں ہلچل، پریشانی اور تباہ کن اثرات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ ہرچند کہ بیشتر مغربی ممالک کی بڑی دواساز کمپنیوں نے اس وبائی مرض کی ویکسین تیار کر لی ہے مگر کورونا کی ہر بار نئی شکل میں سامنے آنے کے باعث ویکسین کے فارمولے میں تبدیلیوں کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ ایسے میں ایک تو یہ کہ کمپنیوں نے ویکسین کی تیاری میں بڑی رقومات خرچ کی ہیں، دُوسرے ان کے پاس بیش تر ممالک کے ایڈوانس آرڈرز ہیں پھر ان کمپنیوں کے مابین کاروباری مسابقت بھی ہے۔

ان حالات میں یہ دیکھنے میں آیا کہ بہت سے ممالک اور کچھ کمپنیوں نے ویکسین اور کورونا سے متعلق دیگر متعلقہ دنوں کا اسٹاک کر لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ رواں سال میں امکانات معدوم ہیں کہ مہلک وبائی بیماری سے چھٹکارا مل جائے گا۔ مزید یہ کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس لئے بعض ممالک چاہتے ہیں کہ ویکسین کا اسٹاک روک سکیں آگے کے حالات میں کام آئے گا۔ اس رُجحان کو عام طور پر ذخیرہ اندوزی کہا جاتا ہے جو کسی بھی بہانے یا دلیل کے باوجود ایک سماج دُشمنی فعل ہے۔

گزرے اٹھارہ ماہ اور جاری حالات کے حوالے سے تمام عالمی سماجی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور مذہبی تنظیموں کی رپورٹس اورجائزوں میں بڑے بڑے نقصانات، مصائب و آلام اور مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً بھارت کی سماجی تنظیم جنتا ساہتیا سبھا کے مطابق دہلی، ممبئی، یو پی، اڑیسہ کرناٹک اور کیرالہ میں اسپتالوں کے باہر مریضوں کی قطاریں لگی ہیں، مریضوں کو لانے کے اسٹریچر کم پڑ رہے ہیں، طبّی عملہ دن رات کام کر کے ہلکان ہو چکا ہے ۔اب تک سات ڈاکٹر، پندرہ نرسیں اور وارڈ بوائے کووڈ سے ہلاک ہو چکے ہیں حکومت نے طبّی عملے کو ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کیا تھا مگر دُوسری ڈوز لگنے سے پہلے کورونا کا نیا حملہ نئی لہر کے ساتھ سامنے آ گئے ایسے میں طبّی عملے اور نیم طبّی عملے میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔ اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی نے مزید تباہی مچا دی ہے۔ 

بھارت میں آکسیجن فراہم کرنے والے ادارے پریشان ہیں۔ طلب اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ فوری سپلائی کرنا ممکن نہیں ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے آکسیجن فراہم کرنے والے ٹرک اور گاڑیوں کی حفاظت کے لئے پولیس کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے، ہر ٹرک کے ساتھ پولیس کی گاڑی ساتھ چل رہی ہے۔ مہاراشٹرا کےسرکاری ڈاکٹر منموہن مکرجی کا کہنا ہے کہ اس وقت جو نفسا نفسی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ کبھی نہیں دیکھی۔ دُوسری طرف لوگ اپنےرشتے داروں کو کار، موٹربائیک، آٹو رکشہ اور بعض ہاتھ کے ٹھیلوں پر لے کر اسپتال آ رہے ہیں مگر یہاں بستر خالی نہیں ہیں۔ ایمرجنسی فل ہے، آکسیجن کی قلت ہے، بعض حالات میں ایک بستر پر دو مریضوں کو لٹایا گیا اور ایک سلنڈر سے دو کو آکسیجن دی جا رہی ہے۔ 

ڈاکٹر مکرجی کا مزید کہنا ہے کہ اس سے زیادہ دردناک مناظر وہ سامنے آ رہے ہیں جن کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ مریض کے رشتے دار جیسے تیسے مریض کو اسپتال تک لے آئے مگر اسٹریچر کے انتظار میں مریض دَم توڑ گیا۔ ایسے بہت سے واقعات دیکھ کر ذہن سُن ہو چکا ہے۔ اس تکلیف دہ صورت حال میں فطری اَمر ہے کہ ہر نفس اپنی جان بچانے کی فکر کرے گا مگر اس کے باوجود افراد ایک دُوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ ایک انسانی رویوں کا مثبت پہلو بھی ہے۔

بھارتی اخبارات ٹائمز آف انڈیا، ہندو انڈیا ٹوڈے نے حکومت کی لاپروائی پر شدید تنقید کی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا ہے کہ کورونا کی پہلی لہر کے بعد وزیراعظم نے ویکسین کی تیاری پر فیاضی دکھائی اور ویکسین تقسیم کرنا شروع کی اس وقت تک ہرچند حالات قابو میں تھے مگر کیا وزیراعظم کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کورونا گیا نہیں پھر آنے والا ہے۔ یہ وبائی بیماری ہے جو گاہے بہ گاہے چلتی رہتی ہے تب آگے کیا کرنا ہے، کیا پلان ہے، اس سے سرکار نے غفلت برتی ہے۔ انڈیا ٹوڈے لکھتا ہے یہ غفلت ایک طرح سے مجرمانہ غفلت خیال کی جائے گی کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی نے خود الیکشن ریلیوں سے خطاب کیا۔ ریلیاں نکلیں، جلسے ہوئے جلوس ہوئے۔ پھر کمبھ کا میلہ آ گیا۔

بھارت کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کمبھ کا میلہ جس میں ہر بارہ سال بعد ہندومت کے پیروکار دریائے گنگا پر جمع ہوتے ہیں اور اشنان کرتے ہیں۔ یہ ان کی مذہبی روایات میں شامل ہیں۔ ہندو اساطیر کے مطابق گنگا نہانا متبرک ہے اس سے انسان کے سارے گناہ دُھل جاتے ہیں۔ یہ تو کہا نہیں جا سکتا کہ گناہ دُھلتے ہیں یا نہیں مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے جو اس وقت کی گنگا میں نہائے گا وہ دس بیماریاں ساتھ لے جائے گا۔ گزشتہ دنوں گنگا پر بڑا اجتماع ہوا تھا جس میں بھارت کے وزیر داخلہ اپنے بہت سے ساتھیوں سمیت گنگا میں نہاتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس اجتماع کے بعد ملک کے طول و عرض سے آئے یاتریوں نے ایک دُوسرے کو اور اطراف کو کورونا کی لہر میں دھکیل دیا۔ حالانکہ ایک عرصے سے بھارت کے ہوش مند افراد حکومت اور عوام کی توجہ دریائے گنگا کی آلودگی کے حوالے سے خبردار کرتے آ رہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے بھی بہت کچھ کہا اور لکھا مگر کسی نے ایک نہ سُنی اور اب بھگت رہے ہیں۔

عالمی سطح پر بھارت میں کورونا کی شدید لہر کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے واشنگٹن میں امریکا کے صدر بائیڈن کے مشیر صحت نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے اس صورت حال پر نظر رکھتے ہوئے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ ہر ممکن مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر نے جنیوا سے جاری ایک بیان میں بھی ایسی ہی بات کی ہے۔ بھارت کے بعض حلقوں کو خیرسگالی بیان میں بھارت کو ہرممکن مدد کا یقین دلایا اور کہا کہ مشکل گھڑی میں پڑوسی کا ساتھ دیں۔ ہماری ہمدردیاں بھارتی عوام کے ساتھ ہیں۔

بھارتی حکومت نے متاثرہ شہروں میں سخت لاک ڈائون لگا دیا ہے۔ اس پر بھی وہاں بعض رُجعت پسند حلقے نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں سب سے زیادہ تنقید بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پر ہو رہی ہے کیونکہ وہ ایک ذاتی جلوس کے ہمراہ میلے میں مذہبی رسومات ادا کرنے شریک ہوئے اور پھر گنگا میں نہائے یعنی حکومت کے ٹاپ لیول پر بھی کوتاہی اور بدانتظامی چھائی ہوئی ہے۔ اس پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے دستِ راست وزیرداخلہ امیت شاہ شدید تنقید کی زَد میں ہیں۔ 

بھارت کے انگریزی اخبارات کے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے، اس کے پاس وسائل اور ماہرین موجود ہیں۔ بھارت کی فارما انڈسٹری بہت وسیع ہے۔ وہ جلد ہی حالات پر قابو پانے کی جدوجہد کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے کسی بھی ملک سے کسی بھی طرح کی مدد کی اپیل نہیں کی ہے۔ تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ تاحال دُنیا میں امریکہ کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔ بھارت اچانک دُوسرے نمبرپر آ گیا۔ اگر حکومت احتیاطی تدابیر میں نرمی نہ برتتی اور اجتماعات پر پابندی رکھتی تو یہ نوبت نہ آتی۔ یہ حکومت کی زیادہ ہوشیاری اور زیادہ خود اعتمادی کا نتیجہ ہے جس کا شکار حکومت اور عوام دونوں ہیں۔

عالمی سطح پر کورونا کی نئی لہر کے ساتھ ہی اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد تین کروڑ اٹھائیس لاکھ سے زائد ہے جن میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ ستّر ہزار سے زائد ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر چین بڑی مثال ہے جس نے دُنیا میں کورونا کا اور ہر لہر کا مقابلہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور چین میں مریضوں کی مجموعی تعداد صرف نوّے لاکھ چھ سو رہی، جس میں بتایا جاتا ہے کہ اب تک کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد صرف چار ہزار آٹھ سو رہی۔ اسرائیل کی مجموعی آبادی اڑسٹھ لاکھ کے قریب ہے جہاں گزشتہ دس ماہ میں کورونا کا کوئی مریض نہیں آیا کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ کیمیاوی جنگ ہے اور بعض اس وبائی بیماری کے سلسلے کو اَعصابی جنگ کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ 

یوں بھی آج کل سازشی نظریات اور مفروضات کا چرچا عام ہے۔ سچ یہ ہے کہ کورونا کی وبائی بیماری جو تاحال دُنیا کو مسائل و مصائب کا شکار بنا رہی ہے سب سے زیادہ معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ تعلیمی ماحول شدید متاثر ہوا ہے، تجارتی سرگرمیاں محدود سے محدود تر ہوتی جا رہی ہیں، سماجی، معاشرتی اور مذہبی روایات طرز حیات بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ کورونا کے خاتمے کے بعد دُنیا بہت حد تک تبدیل ہو چکی ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کے سامنے سوالات ہیں کہ کیا کورونا وائرس کے بعد دُنیا ایک نئے ورلڈ آرڈر میں تبدیل ہو جائے گی۔ 

معاشی بحران، اقتصادی کساد بازاری، تجارتی سرگرمیوں میں گراوٹ، بے روزگاری اور مہنگائی کے طوفان کیا دُنیا کو نئی عالمی جنگ کی طرف لے جائیں گے۔ کیا بہت سے ترقّی یافتہ ممالک اور چند بڑی طاقتیں اپنا اسٹیٹس کو بحال رکھ سکیں گی یا انتشار کا شکار ہو جائیں گی۔ کیا کوئی طاقت دُنیا پر نظر رکھے ہوئے ہے جو وقت آنے پر اپنا کردار ادا کرے گی۔ غرض حالات آج خراب ہیں اور قیاس ہے کہ آئندہ مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ دُنیا کو بھارت کے حالات سے سیکھنا چاہئے اور آئندہ حالات پر گہری نظر رکھنا چاہئے۔

ماہرین طبّ اور ماہرین سماجی علوم کے نزدیک یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ بعد اَز کورونا دُنیا کس شکل اور حالت میں سامنے آئے گی۔ اسی بنیادی سوال سے جڑے ایک درجن سے زائد ضمنی سوالات بھی سر اُٹھا رہے ہیں، مثلاً معیشت، سیاست، تجارت، سیاحت، صحت عامہ، تعلیم، انتظامی امور، امن و امان اور صحافت، اَدب، ثقافت ان من جملہ امور کی آئندہ کیا صورت بنے گی۔ کورونا کی وبا کی پہلی لہر سے قبل کی دُنیا جس طرح چل رہی تھی اس کے مسائل، مصائب، تنازعات وہ چل رہے تھے۔ 

عوام میں بے چینی تھی، یروزگاری، مہنگائی، غربت، پسماندگی یہ بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ مگر کورونا کی ہولناک وبا نے تمام کاروبار زندگی کو اَتھل پتھل کر دیا ہے۔ بیشتر مغربی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کورونا کے بعد کے حالات میں جو گھمبیر مسائل سامنے آئیں گے تو اجارہ دار سرمایہ دار مزید سفاکی سے حالات کو قابو میں کرنے کی جدوجہد کر سکتا ہے۔ نیم جمہوری حکومتیں مطلق العنانیت پر مائل ہو سکتی ہیں۔ بعض جمہوریتیں سوشلسٹ اکنامی اور طرز حکمرانی کو ترجیح دے سکتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معاشرے اپنے کو بڑے معاشرے میں سمیٹ سکتے ہیں، اجتماعیت کا تصور فروغ پا سکتا ہے۔ 

غریب اور پسماندہ معاشروں میں اضطراب اور مایوسی میں اضافہ انہیں بدامنی یا سول وار کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں یونیورسٹیز کی سطح پر طلبہ کا دیرینہ مطالبہ چلا آ رہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ طلبہ کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں۔ مغربی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بھاری فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں اس کے علاوہ مارکنگ کا اوسط اور داخلوں کا نظام سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ حیقیقت ہے کہ نوّے فیصد سے زائد مارکس حاصل کرنے والے طلبہ ہی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے اور آگے پڑھ سکتے ہیں۔ مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا کے بعد تعلیم کا شعبہ مزید گراوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ صحت عامہ کے شعبوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ سکتی ہیں کیونکہ ماہرین طبّ اوراقوام متحدہ کے ادارۂ عالمی صحت نے کورونا کے بعد اس کے انسانی اجسام پر اَثرات کا پورا چارٹ شائع کر دیا ہے۔ 

ماہرین طبّ کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد عموماً سردرد، اعصابی دبائو، ذہنی انتشار، تھکن، طبیعت میں گراوٹ سستی اور جسمانی پٹھوں میں کھنچائو کی شکایات ہو سکتی ہیں۔ بالخصوص جو کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں انہیں زیادہ اثرات ہو سکتے ہیں جبکہ ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد چونکہ بیروزگاری، مہنگائی اور پسماندگی میں اضافہ کا قوی امکان ہے ایسے میں ترقّی پذیر ممالک کے معاشروں میں جرائم میں اضافہ اور اخلاقی گراوٹ کا اندیشہ ہے۔ ہرچند کہ مغربی اور ترقّی یافتہ معاشروں میں بھی اسی طرح کی کیفیات اور ہلچل کے امکانات ہیں۔

اقوام متحدہ کے سابق سکیرٹری جنرل بان کی مون نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ دُنیا میں کورونا سے زیادہ ناانصافی، ظلم و جبر، معاشرتی ناہمواری زیادہ تکلیف دہ اور خطرناک ہے۔ بڑی طاقتوں کی رقابتیں اور مسابقت خطرے کی سطح سے بلند ہوتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ شہرۂ آفاق دانشور ماہر لسانیات نوم چومسکی نے کہا کہ پہلے ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ ہم کیسی دُنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ کہ اس گھمبیر بحران کے بعد ہم دُنیا کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ بعض رجائیت پسند ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کورونا نے جو بھی نقصان پہنچا دیا ہے مگر اس وبائی مرض نے انسانوں کو یہ ضرور سکھا دیا ہے کہ وبائی مرض مسئلے مسائل جو بھی ہوں انسان ان سے نمٹنے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہے۔ اس سے نئی اُمیدیں اور حوصلے جاگ رہے ہیں۔

امریکی سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں چین تیزی سے اُبھر رہا ہے جبکہ امریکہ اور بیش تر یورپی ممالک کووڈ کی وجہ سے نڈھال ہیں۔ بعداَز کووڈ لگتا ہے ان ممالک کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ معاشی مسائل زیادہ مشکلات پیدا کر سکتے ہیں ایسے میں چین کو مزید آگے بڑھ کر کام کرنے کے مواقع میسر آ سکتے ہیں جس سے چین پوری طرح فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ بلاشبہ بڑی طاقتیں ہر موقع سے فائدہ اُٹھانے کی کوششیں کرتی ہیں۔ مگر کورونا کے علاوہ ایک بڑا اور پُرانا مسئلہ بھی تو ہے جس سے پوری دُنیا متاثر چلی آ رہی ہے وہ ماحولیات کا مسئلہ ہے آلودگی میں اضافہ کا مسئلہ ہے۔ سائنس دانوں نے پہلے ہی تمام حکومتوں کو خبردار کر دیا ہے کہ کرّۂ اَرض پر موسمی تغیرات کے اثرات اور آلودگی میں بتدریج اضافہ سے مزید کورونا جیسی نئی وبائی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں اور کورونا بھی اسی کا حصہ ہے۔ غرض یہ کہ ایک مسئلہ دُوسرے سے اور تیسرے سے جُڑا ہوا ہے۔

بھارت میں کووڈ کی نئی لہر پھوٹنے کے بعد جو خوفناک صورت حال سامنے آئی ہے اس نے حکومت اور حزب اختلاف کے مابین نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتی حزب اختلاف کا مؤقف یہ ہے کہ بھارت نے وافر مقدار میں ویکسین تیار کرلی تھی۔ مگر مفت تقسیم کے بعد ویکسین کی ایکسپورٹ کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ امریکہ اوریورپی ممالک نے اپنی ویکسین پر پابندیاں عائد کر دی ہیں کہ پہلے اپنی ضروریات پوری کریں گے اس کے بعد ایکسپورٹ ہو سکتی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے حالیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت نے کچھ غلط نہیں کیا ویکسین بڑی تعداد میں تیار ہوئی تھی اس لئے ایکسپورٹ کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ 

کچھ لوگ بلاجواز باتیں کر کے عوام کو اُکسا رہے ہیں۔ اخبار اسنٹین ٭٭ کی نامہ نگار اوشا دیوی نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بعض ملٹی نیشنل فارما کمپنیز پر شبہ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے بھارت کی اَرزاں ویکسین کی ایکسپورٹ کو اپنے کاروباری مفادات کے لئے بڑا خطرہ تصور کرتے ہوئے کچھ ایسا کیا ہے جس سے بھارت کو سبق سکھایا جا سکے۔ اس طرح کے شبہات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ملٹی نیشنل ادارے اور کارپوریشنز اپنے مفادات کے حصول کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ اس نوعیت کی بہت سی مثالیں زبان زدِ عام ہیں۔ یوں بھی ترقّی یافتہ ممالک کے اجارہ دار سرمایہ دار بھارت کو ناپسندیدہ ملک قرار دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت کو دُوسرا چین بنتے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یوں بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھارت کا برین ڈرین کر کے بھارتی نوجوانوں کی محنت اورلیاقت کا استحصال بہت پہلے سے کرتے آئے ہیں اوربھارت اس برین ڈرین سے مسلسل نقصان اُٹھاتا آیا ہے۔ نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بعض افریقہ ممالک کے ذہین نوجوان بھی اپنا مستقبل مغربی ممالک میں تلاش کرتے ہیں۔

بعداَز کورونا یہ دُنیا کیسی ہوگی اس پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تاہم حقیقی صورت حال تو بعداَز کورونا کے ختم ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔ فی الفور اس مہلک وبا سے جان چھڑانے کی کوششیں تیز تر کرنی چاہئیں۔

امریکی میڈیکل کے سربراہ کے مطابق آئندہ سال کے آخر تک کورونا وائرس ختم ہو جائے گا۔ لیکن دنیا کو ابھی اس کے عذاب جھیلنے ہیں۔

صحت اہم یا اسلحہ سازی

 جمہوریت کے دعوے دار اپنی ترجیحات بدلنے کو تیار نہیں

بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کرونا وائرس قیامت ڈھا رہا ہے۔ بھارت میں اس وبا سے اب تک متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 73 لاکھ سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں۔ بھارت سے پہلے اسپین، امریکا اور برازیل سمیت بحرانی صورت حال جنم لے چکی ہے۔ سپرپاور ہونے کا دعوے دار، امریکا بھی اپنے شہریوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومتوں کی ترجیحات میں عوام کو سہولیات فراہم کرنا شامل ہی نہیں، اگر ہے تو اولین ترجیح نہیں۔ 

امریکا کی طرح بھارت حکومت کی بھی اولین ترجیح ہتھیار ہیں۔ کم و بیش یہی حال بیش تر ممالک کا ہے۔ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قائم امن پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے سپری (SIPRI) کے مطابق 2020 میں پوری دنیا میں دفاع کے نام پر فوجی بجٹ اور ہتھیاروں پر 1981 بلین ڈالر خرچ کیے گئے عالمی سطح پر دفاعی شعبے میں خرچ کی گئی یہ رقم 2019ء کے مقابلے میں 2.6 فی صد زیادہ تھیں۔ 

سپری کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عالمی معیشت کی کارکردگی میں کمی اور کرونا وائرس کی وبا کے باعث بین الاقوامی برداری صحت اور سماجی ترقی کے شعبوں میں زیادہ رقوم ،فوجی بجٹوں اور اسلحہ سازی کے لیے کم رقم خرچ کرتی، لیکن ایسا نہ ہوا۔ اسلحہ کا انبار لگانے والے ان ممالک میں بھارت سرفہرست ہے، جس کے شہری آکسیجن نہ ملنے پر ہر روز سیکڑوں کے حساب سے موت کے منہ میں جارہے ہیں، مگر جمہوریت کے دعوے دار اپنی ترجیحات بدلنے کو تیار نہیں۔

عالمی معیشت کا خدا ہی حافظ

بڑے سرمایہ کار اداروں اور بینکوں کے ماہرین کو تشویش ہے کہ سرمایہ کاری اور قرضوں کا ایک نظام برسوں سے چلا آ رہا تھا مگر کورونا کی بیماری نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے ایسے میں تشویش ہے کہ کاروباری تجارتی سرگرمیاں بہت متاثر ہیں، مندی کا رُجحان ہے ایسے میں قرضوں کی وصولیابی دُشوار ترین مسئلہ ہے۔ اس طرح سرمایہ کاری اور قرضوں کی لین دن کا پورا ڈھانچہ ڈھے سکتا ہے۔ اگر نوبت یہاں تک آ گئی تو پھر عالمی معیشت کا خدا ہی حافظ ہے۔

جدید ٹچ بٹن نظام

ماہرین کی رائے یہ ہے کہ زیادہ تر حکومتیں اپنی عوام کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہیں۔ جدید ٹچ بٹن نظام جو اُنگلی کو چھوتے ہی بتلا دیتا ہے کہ فرد کہاں ہے، کیا کرنا چاہتا ہے، نقل و حرکت کا کیا مقصد ہے یہ معلومات سیکورٹی اداروں کے لئے اہم ہوتی ہیں وہی ان معاملات کی نگرانی پر مامور ہوتے ہیں۔

مگر اب کہا جا رہا ہے کہ حکومتوں اور ان کے سیکورٹی اداروں کو افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹچ بٹن کے ذریعہ فرد کے جسم کا درجہ حرارت، بلڈپریشر اور کورونا کی علامات میں اگر کوئی ہے تو وہ بھی چیک کرنا ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت کے طرفداروں کا کہنا ہے کہ اب روبوٹس کی اہمیت اور بڑھ جائے گی۔