• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نواسۂ رسولﷺ، حضرت امام حسن ؓ سیرت و کردار کا روشن باب

مخدوم زادہ حافظ مطلوب احمد چشتی

نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسن ؓ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ سرکار دوجہاںحضرت محمد ﷺ کے نواسے ،شیرخداحضرت علی المرتضیٰ کے لخت جگر خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ ؓکے نورعین اور سلطان کربلا سیدنا امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کے برادراکبر ہیں ۔ جنہوں نے اپنے لہو سے اپنے نانا جان حضور اکرم ﷺ کے دین کی آبیاری کی۔ حضرت امام حسن ؓ سر سے سینہ تک حضوراکرم ﷺسے بالکل مشابہ تھے جس کی تصدیق بخاری شریف میں کچھ اس طرح درج ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آپ کو دیکھا ،جب آپ گہوارئہ طفولیت میں تھے، دوڑ کر آپ کو اٹھا لیا اور شانہ مبارک پر بٹھا کرحضرت علی شیر خدا ؓ سے فرمایا کہ حسن ؓسرکار نبی محترمﷺ سے بہت ہی مشابہت رکھتے ہیں۔اسے سن کر حضرت علی ؓ مسکرادئیے۔یہ بات اظہر من الشمّس ہے کہ سرکار دوعالم حضرت محمد ﷺ اپنے نواسوں کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے تھے اور آپ کے نواسے بھی آپ سے بے حد لگائو رکھتے تھے۔ ہر لحظہ آپ کی خدمت ِاقدس میں رہا کرتے اور آپ ﷺ سے والہانہ محبت فرماتے ۔

حضرت امام حسن ؓکی پرورش سرکار دو عالم ﷺنے بڑی ناز ومحبت سے کی۔ کبھی آغوش محبت و شفقت میں لیے ہوئے نکلتے اور کبھی دوشِ مبارک پر سوار کئے ہوئے۔ حضرت امام حسن ؓ نہایت ذہین تھے اور سات سال کی عمر میں ہر وہ وحی یاد فرمالیتے جو اپنے نانا جانﷺ سے سنتے ۔ آپ کا علم براہِ راست تعلیم الہٰی کا نتیجہ تھا۔حضرت امام حسنؓکی ولادت باسعادت پندرہ رمضان المبارک 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ جس سے عاشقان رسولﷺ کے دل کھل اٹھے،ہر سُوشادمانی کا ظہور ہونے لگا ۔ آپ کے نانا جان حضوراکرمﷺ نے آپ کا نامـ"حسن" رکھا اور ساتویں روز آپ کا عقیقہ فرمایا۔ آپ کے سر کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔ حضرت امام حسنؓ اپنے نانا جان اور والدین کی طرح بڑے سخی اور خدا ترس مشہور تھے۔ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے ۔

ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا آپ نے اسے پچاس ہزار درہم عطا فرمادیئے ۔ اسی طرح آپ کی خدمت اقدس میں ایک مقروض شخص آیا اور عرض کی حضور ایک ہزار کا مقروض ہوں۔ آپ نے اسے دس ہزار درہم عطا فرمادیئے۔ لوگوںنے نواسۂ رسولﷺ سے عرض کیا کہ حضور ،باوجود اس کے کہ آپ خود فاقہ سے ہوتے ہیں ،لیکن سائل کو خالی نہیں جانے دیتے۔ آپ نے فرمایا کہ میں خود درگاہ الہٰی کا سائل ہوں ،جو مجھے دیتا ہے اور جو میرا سائل بن کر آتا ہے میں اسے دیتاہوں۔ اگر میں اپنے سائل کو لوٹا دوںتو مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا رب مجھے بھی خالی نہ لوٹا دے۔ آپ سخی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے زاہدو عابد بھی تھے۔

خوف و خشیت کا یہ عالم تھا کہ جب حضرت امام حسن ؓ وضو فرماتے تو آپ کے بدن کا جوڑجوڑ خوفِ الٰہی سے کانپنے لگتا ۔ آپ حرمین شریفین میں جاکر عبادت کرنے کو بے حد پسند فرماتے ۔آپ نے پچیس حج پیدل ادا فرمائے۔ لوگوں نے عرض کیا، حضور سواریاں ہوتے ہوئے آپ پیدل کیوں تشریف لے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے اپنے مولیٰ کے گھر کی طرف سوار ہو کر جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پیدل چلنے سے آپ کے پائوں مبارک پر ورم تک آجاتا۔ حضرت امام حسن نے سینتالیس سال کی عمر میں 29 صفر المظفر کو شہادت پائی۔ ظالموں نے آپ کو زہر دیا ،جس کا علم ہونے کے باوجود آپ نے کسی کو نہیں بتایا کہ آپ کو زہر کس نے دیا ؟ آپ کو جنت البقیع مدینہ منورہ میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی فاطمہؓکے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا ۔جہاں آپ محواسترا حت ہیں۔

لطائف اشرفی میں ہے کہ ایک رات حضرت امام حسنؓ اپنے نانا جان حضور اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے عرض کیا کہ والدہ ماجدہ کے پاس جائوں گا۔ نبی محترم ﷺنے فرمایا ،اچھا جائو ،پھر نواسئہ رسول ﷺ نے عرض کیا، نانا جان اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ کس طرح جائوں ؟اچانک دیکھا کہ آسمان سے ایک بجلی نمودار ہوئی اور حضرت امام حسنؓاس کی روشنی میں اپنی والدہ ماجدہ کے پاس تشریف لے گئے۔ شواہد النبوہ میں ہے کہ ایک بار آپ اور ابن زبیر نخلستان میں جارہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ قیام کیا۔اس جگہ سوکھے ہوئے کھجور کے درخت لگے ہوئے تھے۔ ابن زبیر نے عرض کیا کاش یہ درخت ہرا ہوتا اور اس میں کھجوریں ہوتیں۔حضرت امام حسن ؓنے فرمایا کہ تم کھجوریں کھانا چاہتے ہو،ابن زبیر نے عرض کیا ،جی ہاں آپ نے بارگاہ ایز دی میں ہاتھ بلند فرمائے اور ہونٹوں کو جنبش فرمائی ۔عین اسی وقت درخت ہرا بھرا ہوگیا اور اس میں تازہ کھجوریں آگئیں۔

کھجوریں توڑی گئیں اور سب نے کھائیں۔ حضرت امام حسن ؓ کا دستر خوان بڑا وسیع تھا۔ آپ کی مہمان نوازی کا شہرہ دور دور تک تھا ،جبکہ آپ خود فاقے سے ہوتے ۔ آپ کی زندگی آپ کے نانا جان حضور اکرم ﷺکی تعلیمات کا مکمل نمونہ تھی۔ اس کے علاوہ آپ اپنے والد محترم شیر خدا حضرت علیؓکے ان اقوال کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا کرتے ۔ ٭ خندہ روئی سے پیش آنا سب سے پہلی نیکی ہے۔٭ عقیدے میں شک رکھنا شرک کے برابر ہے۔٭ خیرات افضل ترین عبادت ہے اور ادب بہترین کمالات میں سے ہے۔٭ جلدی سے معاف کر دیناشرافت اور انتقام میں جلدی کرنا انتہائی رذالت ہے۔٭ جو کام لوگوں کے سامنے کرنا مناسب نہیں، مناسب ہے کہ اسے چھپ کر بھی نہ کیاجائے۔