• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، کیا سندھ میں خاص طور پر کچے کے جنگلات میں ایک بار پھر ڈاکو راج قائم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا سر اٹھانا اور پولیس کی رِٹ کو چیلنج کرنا، ڈاکووں کے پاس جدید خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اغوا کی وارداتوں میں اضافے کے ساتھ بعض اضلاع میں پولیس کی انتہائی کمزور گرفت اور ان اضلاع میں کسی سینئیر تجربہ کار آفیسر کا تعینات نہ ہونا بھی حکومت اور پولیس کی اعلی قیادت پر سوالیہ نشان ہے۔

سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں چوری ڈکیتی ، لوٹ مار، اسٹریٹ کرائم کے واقعات تو اب معمول کا حصہ بنتے جارہے ہیں اور شاید اب پولیس کی بھی ان واقعات پر کوئی خاص توجہ دکھائی نہیں دیتی، لیکن گزشتہ ایک سے دو سال کے دوران اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی فزیکل وارداتوں نے پولیس کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اور ان واقعات نے ایک بار پھر سندھ کے کچے کے جنگلات کو ڈاکووں کی انڈسٹری میں بدل دیا ہے۔ پولیس کی کمزور گرفت کے باعث ڈاکووں کی جانب سے اب اغوا برائے تاوان کی فزیکل وارداتیں انجام دے کر پولیس کی رٹ کو چیلنج کیا جارہا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ رمضان المبارک کے ابتدائی ایام میں پیش آیا، جب ڈاکووں نے سکھر کے نواحی علاقے بائیجی سے کلوڑ برادری کے دو نوجوانوں کو شام کے وقت اسلحے کے زور پر اغوا کرلیا، نامعلوم اغوا کار ڈاکو واردات کے بعد مغویوں کو کچے کے علاقے گدپور لے گئے اورمغوی نوجوانوں کی موٹرسائیکل بائیجی کے علاقے نرچھ کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے، اغوا کی اس واردات کا مقدمہ نامعلوم ڈاکووں کے خلاف درج کیا گیا۔ ترجمان پولیس کے مطابق ڈاکو مغوی نوجوانوں نور الہی اور فراز رحمن کو بائجی سے شکارپور کے نزدیک کچے کے علاقے تک دریا پار کرا کر جنگل میں پیدل لے گئے۔ 

اغوا کی اس واردات کے بعد ڈاکووں کی جانب سے نامعلوم کال کے ذریعے ورثا سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا جارہا تھا ، رقم نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی تھیں، واقعے کے بعد ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں نے اغوا کی واردات کا نوٹس لےکر فوری طور پر مغوی نوجوانوں کی باحفاظت بازیابی کے لیے کچے کے علاقے گدپور سدھوجا میں ڈاکووں کے خلاف اور مغویوں کی بازیابی کے لیے آپریشن کا آغاز کیا۔ 

آپریشن میں پولیس کی بھاری نفری نے جدید ہتھیاروں، دور تک مار کرنے والی دوربینوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ڈاکووں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا، تو ڈاکووں نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی ، پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سعید شیخ ڈاکووں کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے، جب کہ تیغانی گروہ کے 4 ڈاکو بھی مقابلے میں زخمی ہوئے، آپریشن کی سربراہی کرنے والے ایس ایس پی سکھر کے مطابق مقابلے میں زخمی ہونے والے ڈی ایس پی کو سی ایم ایچ پنوعاقل منتقل کیا گیا اور ڈاکووں کے خلاف آپریشن کو مزید تیز کردیا گیا۔ 

میں نے خود اپنا کیمپ وہاں قائم کیا اور رمضان المبارک میں آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور جوانوں کے ساتھ سحری اور افظاری بھی کی ساتھ ہی ڈاکووں کے خلاف مسلسل آپریشن کو بھی جاری رکھا گیا۔ آپریشن میں پولیس نے ڈاکووں کے خلاف جدید ہتھیاروں اور مارٹر گولو کا استعمال کیا،جدید ہتھیاروں کے استعمال مارٹر گولے فائر کئے جانے اور 4 ڈاکووں کے زخمی ہونے کے بعد آخر کار پولیس کی محنت رنگ لائی اور 8 سے 10 روز میں ڈاکو پسپا اور مغویوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے، پولیس نے دونوں مغوی نوجوانوں کو بغیر تاوان کے بازیاب کرالیا۔اس آپریشن کو جاری رکھا جائے گا آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کی محفوظ پناگاہیں نظر آتش کی گئیں اور انہیں مسمار کیا گیا اور ڈاکوؤں کے قبضے میں کچے کے علاقے کو کلیئر کروایا گیا اور دریا کے اطراف میں پولیس کی چوکیاں قائم کردی گئی ہیں ۔

ان چوکیوں میں تربیت یافتہ کمانڈوز جدید ہتھیاروں اور دور تک مار کرنے والی دوربینوں کے ذریعے ڈاکووں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے اور ان کی کسی بھی کارروائی کو بروقت ناکام بنائیں گے۔ ہماری اولین ترجیح مغویوں کی باحفاظت بازیابی تھی، جو کسی چیلنج سے کم نہیں تھی، پولیس افسران اور جوانوں نے جس طرح رمضان المبارک میں بہادری کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے مقابلے میں حصہ لیا اور ڈاکووں کے منصوبے کو خاک میں ملایا، وہ قابل تحسین ہے، میرا کیمپ کچے کے علاقے میں مستقل طور پر قائم رہے گا اور جب تک سکھر میں تعینات ہوں، میری ایک ہی ترجیح ہے، ضلع سے ڈاکووں کا قلع قمع کرنا، اس لیے آپریشن اب بند نہیں ہوگا اور ڈاکووں کو جواب ایسا دیا جائے گا کہ انہوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ 

واضح رہے کہ ایس ایس پی سکھر کے کام یاب آپریشن کی بدولت پولیس کو یہ بڑی کام یابی ملی ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ڈکیتی لوٹ مار اور اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں پولیس کے ہر گزرتے دن کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہیں، خاص طور پر کچے کے علاقوں اور دریائی جنگلات جہاں پانی آنے کے بعد پولیس کے لیے آپریشن مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے، لیکن سندھ کے جنگلات گزشتہ تین سے چار سال کے دوران ڈاکووں کی جنت میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ 

اس وقت دریائے سندھ میں پانی کم تھا اور یہ موسم ہوتا ہے پولیس کے لیے کام یاب آپریشن کرنے کا، لیکن شاہ بیلو کے جنگلات سندھ پنجاب اور بلوچستان تین صوبوں کی دریائی سرحدیں ملتی ہیں اور یہ تین صوبوں کے سنگم پر مشتمل ہے کشمور سے لے کر شکارپور اور گھوٹکی رحیم یارخان راجن پور تک پھیلا ہوا ہے، لیکن گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران صرف کشمور ضلع میں ایس ایس پی امجد شیخ نے ڈاکووں کے خلاف خود آگے بڑھ کر آپریشن میں حصہ لیا ، یہ وہ موقع تھا کہ جب خطرناک جنگلات میں پولیس کا کمانڈر خود اگلے مورچوں پر لڑ رہاہو، جس سے پولیس کا مورال بہت زیادہ بلند ہوا اور پولیس نے اس خطرناک علاقے میں ڈاکووں کے کوٹ اور نو گو ایریا جو محفوظ ٹھکانے تھے، وہ مسمار کرکے علاقوں کو کلئیر کرکے وہاں کی عوام میں ڈاکووں کے خوف کا خاتمہ کیا اور پولیس نے مستقل چوکیاں قائم کیں۔

امجد احمد شیخ ، تنویر حسین تنیو اور عرفان علی سموں نے شاہ بیلو اور باگڑجی بیلو میں بڑے آپریشن کئے جس کا آغاز تنویر حسین تنیو نے کیا اور ان کے تبادلے بعد امجد احمد شیخ نے یہ بیڑا اٹھایا، پھر عرفان علی سموں نے کارروائیوں کو جاری رکھا، یہاں ایک ٹیم ورک کی ضرورت ہے۔ ڈاکووں کے خلاف لڑنے والے ایسے ہی کمانڈر جن میں امجد احمد شیخ کے ساتھ اگر اینٹی ڈکیٹ آپریشن میں سندھ میں سب سے زیادہ شہرت پانے والے تنویر حسین تنیو، جو ہمیشہ خود کمانڈ کرتے ہیں۔ سرفراز نواز شیخ ، پیر محمد شاہ، عبداللہ شیخ کی خدمات حاصل کی جائیں تو کم وقت میں بہت جلد اور اچھے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ 

آئی جی سندھ مشتاق مہران تمام اضلاع اور خطرناک جنگلات سے بہ خوبی واقف ہیں، کیوں کہ ان کا ضلع شکارپور سے تعلق ہے اور وہ ماضی میں سندھ میں بہتر انداز میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ تاہم آئی جی سندھ کے طور پر جو توقعات ان سے کی جارہی تھیں۔ شاید وہ اس پر تاحال پورا اترتے دکھائی نہیں دے رہے۔ بہترین شہرت یافتہ افسران کی ٹیم ان کے پاس ہے، لیکن اس ٹیم کی تعیناتی دُرست نظر نہیں آتی ۔ اس لیے یہ خطرناک اغوا برائے تاوان کے فزیکل جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید