گردشی قرضوں کا جنجال
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موجودہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک سے مالی معاونت جن شرائط پر حاصل کی ہے، گردشی قرضوں میں مسلسل کمی بھی اُن کا حصہ ہے۔ تاہم پاور ڈویژن کے ذرائع سے منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق گردشی قرضوں میں کمی کیلئے وضع کردہ دو سالہ منصوبے کے تحت مقرر کئے گئے اہداف کا حصول اس بناء پر محال دکھائی دے رہا ہے کیونکہ سبسڈی کے تعین میں حقیقت پسندی سے کام نہیں لیا گیا۔ پاور ڈویژن نے مالی سال 2021-22کے بجٹ میں نجی بجلی کمپنیوں کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے ناکافی رقوم مختص کیے جانے پر تحریری احتجاج کیا ہے جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مالی سال 2021-22کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کیلئے سبسڈی کی رقم 300ارب روپے رکھی جارہی ہے جبکہ اصل ضرورت 501ارب روپے کی ہے۔ اس طرح 201ارب روپے کی یہ کمی پہلے سے واجب الادا 352ارب روپے کو 553ارب کی وسیع خلیج میں بدل دے گی اور صورت حال مزید ابتر ہو جائیگی۔ وزراتِ خزانہ اس شکایت کا ازالہ کیسے کرتی ہے یہ ابھی دیکھا جانا ہے تاہم فی الحقیقت گردشی قرضوں کے جنجال سے نجات کیلئے غیرروایتی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔شمسی توانائی کی شکل میں قدرت نے ملک بھر میں بجلی کی ارزاں اور وافر فراہمی کا بندوبست کر رکھا ہے لیکن انتہائی ناقابلِ فہم بات ہے کہ اس سمت میں کوئی نتیجہ خیز پیش رفت نہ سابقہ ادوار حکومت میں نظر آئی نہ موجودہ حکومت اب تک کسی گرم جوشی کا عملی ثبوت دے سکی ہے جبکہ ڈھائی تین لاکھ روپے کے خرچ سے ایک اوسط گھرانا سولر سسٹم نصب کراکے بجلی کی بیشتر ضروریات میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔ حکومت اگر اس سلسلے میں لوگوں کو آگہی اور رہنمائی فراہم کرے اور بینک اس کیلئے آسان قرضوں کی اسکیمیں متعارف کرائیں تو ملک کی کثیر آبادی بجلی کمپنیوں کی مسلسل مہنگی ہوتی بجلی سے بےنیاز ہو سکتی اور یوں قومی معیشت پر مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ ختم کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین