انتخابی اصلاحات سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم ہو تو ٹھیک، ورنہ بے فائدہ، بلاول بھٹو
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتخابی اصلاحات سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم ہو تو ٹھیک، ورنہ بے فائدہ، بلاول بھٹو

انتخابی اصلاحات سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم ہو تو ٹھیک، ورنہ بے فائدہ، بلاول بھٹو


کراچی ( اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ انتخابات اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار اصل مسئلہ ہے اگر انتخابی اصلاحات میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم ہوتا ہے تو اس فائدہ ہے ورنہ اصلاحات کا کوئی فائدہ نہیں، انتخابی اصلاحات کاکام الیکشن کمیشن کرے۔ مولانا فضل الرحمن سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں، اگر عمران اسمبلی توڑنے کی بات کرتے ہیں اور ن لیگ استعفے کی تو یہ دونوں ایک پیج پر ہیں،این اے 249 کے الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں، اگر مسلم لیگ (ن) فوج کی مداخلت کی بات کر رہی ہے تو یہ انکے موقف کے برعکس ہے، ن لیگ سیاسی فائدے کیلئے بزدار حکومت کو چیلنج نہیں کر رہی، محسوس ہورہا ہے پنجاب میں نون لیگ اور تحریک انصاف کا مک مکا ہے، بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے بعد بے نظیرمزدورکارڈ شہید بے نظیربھٹو کے وژن کے تحت انقلابی قدم ہے، بے نظیر مزدور کارڈ زراعت کے شعبے میں کام کرنے والے مزدور کیلئے بھی ہے ،ای اوبی آئی ویلفیئر فنڈ اور اختیاروفاقی حکومت سندھ کومنتقل کرے ،ن لیگ نے ایک سیٹ ہارنے پر انتخابی معاملات میں فوج کی مداخلت کا مطالبہ کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو بلاول ہاس میڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پران کے ہمراہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیریں رحمٰن صوبائی وزراء سید ناصرحسین شاہ،و دیگربھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ دھاندلی کرنے والے کیساتھ ہم دھاندلی رکوانے کیلئے بیٹھیں، یہ بات ٹھیک ہے دھاندلی روکنے کیلئے الیکشن اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردار ہے انتخابی قانون سازی کا فائدہ نہیں۔

اہم خبریں سے مزید