• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحت مند زندگی کیلئے خوراک نہیں کیلوریز گھٹائیں

وزن میں کمی اور بہتر صحت کے لیے اکثر افراد ڈائیٹنگ کا سہار ا لیتے ہیں جو کہ ماہرین کی جانب سے مضر صحت قرار دی جاتی ہے، صحت مند وزن اور چاق و چوبند زندگی گزارنے کے لیے اعتدال میں رہتے ہوئے سب غذاؤں کا استعمال اور کیلوریز کو کم کرنا نہایت ضروری اور مفید عمل ہے۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق وزن کو مطلوبہ سطح پر لانے، دل کی صحت اور جسمانی اعضا کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ’کریش ڈائٹ‘ کو اپنانے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر ہر قسم کی غذا کو اعتدال میں رہتے ہوئے اپنے دسترخوان کا حصہ بنانا چاہیے۔

ماہرین کی جانب سے بہتر صحت کے لیے بازار سے ملنے والی ریڈی میڈ اور پروسیسڈ غذاؤں کے استعمال سے ہر حال میں گریز اور گھر کے بنے سادے کھانوں پر زور دیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق سادہ غذا کے استعمال میں ہی صحت اور لمبی زندگی کا راز ہے، ڈبل روٹی یا میدے سے بنی روٹی کھانے کے بجائے چکی کے آٹے کی روٹی کا استعمال کرنا مفید ہے، روزانہ کی بنیاد پر دو وقت کے کھانے کے ساتھ سلاد بھی لازمی کھانا چاہیے جس میں مختلف کچی سبزیاں جیسے کہ گاجر، مولی ،پیاز،ٹماٹر، پالک موجود ہو۔

سادہ اور گھر کے بنے کھانوں میں کیلوریز کم پائی جاتی ہیں اور ان کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر، کمر کے اِرد گرد اضافی چربی اور کولیسٹرول کی غیر معمولی سطح میں قابلِ ذکر حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

دو برس مشتمل ’دی لانسیٹ ڈائیبٹیز اینڈ اینڈو کرینالوجی‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے دوران رضاکاروں کو اپنی کیلوریز کی یومیہ کیلوریز میں 12فی صد یعنی 300 کیلوریز کم کرنے کو کہا گیا، کم کیلوریز لینے کے اس عمل کے دوران ان رضاکاروں کے موٹاپے میں 16پونڈ تک کمی دیکھنے میں آئی۔

تحقیق کے نتائج میں مزید یہ با ت سامنے آئی ہے کہ کیلوریز میں کٹوتی انسانی جسم کے وزن میں کمی، طویل عمر اور بہتر صحت پر اثرانداز ہوتی ہے جبکہ ورزش صرف انسانی صحت کے دورانیے پر اثرانداز ہوتی ہے، ورزش سے زندگی کا دورانیہ نہیں بڑھتا۔

طبی ماہرین کے مطابق ایک بالغ خاتون روزانہ کی بنیاد پر 1600 سے 2400 کیلور کا استعمال کر سکتی ہے جبکہ مرد حضرات کو 2 ہزار سے 3 ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ درکار کیلوریز کا براہ راست تعلق انسانی عمر، صنف، وزن اور جسمانی سرگرمیوں کی نوعیت پر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کیلوریز میں محدود پیمانے پر کمی لاکر انسان اپنی جسمانی صحت کو بہتر اور متعدد بیماریوں کے خطرات سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ہر شخص کو اس کی عمر، صنف، وزن اور جسمانی سرگرمیوں کے مطابق کیلوریز کی ایک خاص مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اور اس مقدار سے کم کیلوریز لینا اس کی صحت پر منفی اثرات بھی مرتب کرسکتا ہے۔


ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر صحت کے لیے ہمیں اپنی کیلوریز پر نظر رکھنے کے ساتھ روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے صحت مند غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے، جیسے تازہ سبزیاں، پھل، لال اور سفید گوشت، گری دار میوے، بیج اور پھلیاں وغیرہ۔

صحت سے مزید