• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

یہ ایک جرمن خاتون کے قبولِ اسلام کی ایمان افروز سچی داستان ہے، جو میری سہیلی، سونیا نے مجھے، سنائی، اُسی کی زبانی پیش کررہی ہوں۔

’’یہ اُن دنوں کی بات ہے، جب میرے شوہر جرمنی میں مقیم تھے۔ اُن کا تبلیغی جماعت سے گہرا تعلق تھااور تبلیغی حلقوں میں شرکت معمول تھا۔ کچھ عرصے بعدانہوں نے مجھے بھی اپنے پاس بلالیا، تو اُن کے توسّط سےمَیں بھی خواتین کے تبلیغی اجتماعات میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگی۔ یہ میرے لیے بڑی خوشی کی بات تھی، کیوں کہ میرا ایک دینی گھرانے سے تعلق تھا۔ 

وہاں جانے سے قبل مَیں مختلف وسوسوں، اندیشوں کا شکار تھی، مجھے کسی دوسرے ملک جاکر رہنا بہت مشکل لگ رہا تھا کہ وہاں شاید مجھے دینی تعلیمی حلقوں اور مدارس کی سہولت نہ مل سکے۔ مَیں دل ہی دل میں بہت افسردہ تھی اور جرمنی شفٹ ہونے کو بھی اپنے کسی گناہ کی سزا سمجھ رہی تھی۔ پاکستان کے دینی ماحول کو چھوڑ کر ایک غیر اسلامی ملک جابسنا، میرے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا، لیکن وہاں شفٹ ہونے کے بعد اندازہ ہوا کہ وہاں مختلف مذاہب و عقائد کے لوگ اپنے اپنے طور پر آزادانہ زندگی بسر کرتے ہیں، کوئی کسی کے مذہب عقیدے میں دخل نہیں دیتا۔

جرمنی جانے کے کچھ عرصے بعد ایسے ہی ایک تبلیغی حلقے میں جانے کا موقع ملا، جہاں ایک جرمن خاتون انجلینا سے ملاقات ہوئی۔ ان سے مل کر مجھے شدید حیرت ہوئی کہ کیا کوئی اس حد تک بھی باعمل مسلمان ہوسکتا ہے؟ اور وہ بھی ایک ایسے معاشرے میں جہاں مادر پدر آزادی ہو۔‘‘ انہیں دیکھ کر سب سے پہلے میرے ذہن میں یہی سوالات ابھرے تھے کہ ایک کٹّر عیسائی گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے سامنے تو بہت سے راستے تھے اور ہر راستہ پُرکشش اور دل فریب تھا، تو اس نے اسلام کا آفاقی نظام ہی کیوں قبول کیا۔

انجلینا نے قبولِ اسلام کے بعد اپنا نام زینب رکھ لیا تھا، ان سے رسمی گفتگو کے بعد تفصیلی بات چیت کا موقع ملا، تو ان کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا۔انہوں نے نہایت دھیمے، سادہ اور دل گداز لہجے میں اوراق زیست پلٹتے ہوئے بتایا کہ’’میرے والدین ہم سب بچّوں کے ساتھ باقاعدگی سے چرچ جاتے اور دیگر مذہبی رسومات بھی نہایت جوش و خروش سے ادا کرتے، مگر آغاز ہی سے میرے دل میں ایک بے قراری سی تھی، جو ہمہ وقت مجھے گھیرے رکھتی۔ اسی بےچینی اور بے قراری کے سدّباب کے لیے بالآخر میں نے دیگر مذاہب کا مطالعہ شروع کیا۔ 

عیسائیوں، یہودیوں، ہندوئوں، سکھوں اور مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد سے ان کے مذہب سے متعلق بات چیت کی، معلومات حاصل کیں، لیکن کسی کے جواب سے بھی مطمئن نہ ہوسکی۔ ہر کوئی اپنے ہی مذہب کو سچّا اور کھرا کہتا، مگر میرے دل کو تسلّی نہیں ہو رہی تھی۔ اسی کھوج اور جستجو میں مَیں نے مختلف مذاہب کا گہرا مطالعہ کیا۔ مگر جب اسلام کا غیر جانب دارانہ اسلوب میں مطالعہ اور دورِ حاضر کے مسلمانوں کا گہرائی سے مشاہدہ کیا، تو مجھ پر حیرت کے کئی دَر وا ہوتے چلے گئے۔ اور پھر ایک ایسے مرحلے پر جب مجھے یہ یقین ہوگیا کہ اب میں ایک باعمل مسلمان بن سکتی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی پابندی کرسکتی ہوں، تو باقاعدہ کلمہ پڑھ کر دائرئہ اسلام میں داخل ہوگئی۔ 

یہاں سے گویا میری نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ ایک ایسی زندگی، جس میں کچھ بھی پہلے جیسا نہ تھا۔ کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے تک، صبح آنکھ کھلنے سے لے کر، رات سونے تک۔ گھر کے اندر رہنے سے لے کر، گھر سے باہر کی زندگی تک۔ ہرہر شئے میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوچکی تھی۔ اور اب وقت آگیا تھا، کچھ لین دین کا، نفس کی قربانی کا۔ اللہ کی خاطر اپنے پیاروں کو چھوڑ کر جانے کا۔ اپنی آزاد زندگی چھوڑ کر اللہ کی عائد کردہ حدود میں داخل ہونے کا، لیکن جب ہدایت کا رستہ مل جائے، تو آزمائشیں بھی آتی ہی ہیں، کیوں کہ سونا آگ میں تپ کر ہی کندن بنتا ہے، لہٰذا میں بھی آزمائشوں کی بھٹّی سے گزرنے لگی۔ 

مَیں اپنی ایک مسلمان پڑوسن اور دوست سے اسلام کی تعلیمات سیکھ کر اُن پر عمل پیرا ہونے لگی۔ ایک، ایک آیت اور حدیث جو بھی سیکھتی، اسے اپنی زندگی میں شامل کرتی چلی جاتی۔ مَیں ’’سمعنا و اطعنا‘‘ (یعنی ہم نے سُن لیا اور ہم نے مکمل طور پر اطاعت کی) پر عمل کی ہر ممکن کوشش کرنے لگی۔اسلام کی محبت مجھے اپنی طرف کھینچتی تھی، تو میرا دل بھی گواہی دینے لگا کہ دنیا میں اگر کوئی سچّا مذہب ہے، تو وہ اسلام ہی ہے۔ اسلام سے متعلق مسلسل تحقیق میرے دل میں اس عظیم اور حق و صداقت پر مبنی مذہب کی محبت کے پودے کو تناور کررہی تھی۔ 

ہر گزرتے دن کے ساتھ میرادل اسلام کی طرف مائل ہوتا جا رہا تھا، لیکن میں بےعمل مسلمان نہیں بننا چاہتی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میرا اسلامی نام زینب تجویز ہوا،اور پھر سب سے پہلے میں نے مکمل اسلامی احکامات کی ادائی کے حوالے سے معلومات حاصل کیں، پھر نماز سیکھی، جب رمضان المبارک کا مہینہ آیا، تو پہلی بار روزہ رکھا اور یہ کوئی اتنا آسان کام بھی نہ تھا۔ خاص طور پر ایک ایسے انسان کے لیے کہ جو روزے کے مفہوم ہی سے واقف نہ ہو۔ لیکن میں نے ہمّت نہ ہاری اور خشوع و خضوع سے رمضان کے پورے روزے مکمل کیے۔ فلاح کے راستے پر چلنے کے لیے میں ایک اور قدم کام یابی سے آگے بڑھاچکی تھی۔اب میرا دل کچھ اور بھی نرم ہو کر اطاعت کے لیے راضی ہوچکا تھا۔

دائرئہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مَیں چاہتی تھی کہ میرے والدین بھی مسلمان ہو جائیں۔ کیوں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہی مجھ پر منکشف ہوا کہ دنیا و آخرت میں نجات اور رب کی رضا کا اگر کوئی ذریعہ ہے، تو وہ یہی اسلام ہے، مگر وہ تمام اعمال، جو مجھے آسان لگ رہے تھے، میرے والدین کے لیے قطعاً آسان نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ہدایت ہر دل کو یوں ہی تھوڑی مل جاتی ہے۔ یہ تو اللہ کی مرضی ہوتی ہے، وہ جسے چاہے عطا فرمادے، جسے چاہے، محروم کردے۔ مگر میرے لیے یہ بات نہایت تکلیف کا باعث تھی کہ میرے جان سے پیارے رشتے، میرے والدین ہدایت کی روشنی سے محروم ہیں۔ 

اسلام کے مطالعے کے دوران جب مَیں نے نکاح سے متعلق ایک حدیث مبارکہ پڑھی، تو اس نے میری سوچ کو ایک نئی سمت دے دی۔ ایک نیا سوال میرے سامنے آن کھڑا ہوا کہ نکاح کیا ہے اور کیوں ضروری ہے؟ جوں جوں میں نے اپنے اس سوال کے جواب کی کھوج شروع کی، مجھ پر بہت کچھ واضح ہوتا چلا گیا۔ میں نے جانا کہ شادی اور نکاح جیسا مقدّس رشتہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّتِ مبارکہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی فطری ضرورت اور معاشرے میں ایک بہترین خانگی زندگی گزارنے کی بنیاد بھی ہے، لہٰذا نکاح کا مقصد عیاں ہونے کے بعد مَیں خود بھی اس مقدّس و پاکیزہ سنّت پر عمل کرنا چاہتی تھی اور اس کے لیے میری بس ایک ہی خواہش تھی کہ جس سے نکاح ہو، وہ دین دار اور باعمل مسلمان ہواور دین کے معاملات میں میری بخوبی رہنمائی کرسکے۔ 

اولاد ہو، تو اس کی بہترین تربیت میں معاون اور اپنی اولاد کو ایک بہترین، باعمل مسلمان بناسکے۔ اس ضمن میں میری ایک پاکستانی سہیلی نے میری مدد کی اوراپنے ایک تبلیغی بھائی سے میرا نکاح کروادیا۔ نکاح کے بعد جب میں اپنے شوہر عبداللہ کے ساتھ اپنے والدین کے گھرگئی، تو شوہر کی داڑھی، لباس اور حلیہ دیکھ کر اُن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اُن کے لیے یہ سب کچھ ناقابلِ قبول اور ناقابلِ یقین تھا۔ بہرحال، شادی کے بعد میری زندگی نے ایک نیا موڑ لے لیا تھا۔ یہ گویا میرا دوسرا جنم تھا۔ ایک نئی زندگی،ایک نئی دنیا، جان لینے کا تجسّس، پالینے کی آرزو، ہر ہر قدم پر اسرار و رموز کے وا ہوتے نئے باب۔ 

ایمان کی دولت بے بہا تھی، جو مَیں دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لینا چاہتی تھی،اپنا دامن بھر لینا چاہتی تھی۔ میرے شوہر نے مجھے آدابِ زندگی سکھائے، جینے کا قرینہ بتایا اور میرے دل نے گواہی دی کہ ہاں، یہی تو ہے وہ سب کچھ، جو مجھے چاہیے تھا۔ فرائض تو میں نے پہلے ہی سارے سیکھ لیے تھے۔پھراپنے شوہر سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری تعلیمات اور سنّتیں سیکھنے لگی۔ عمل کرنے کی بھی حتی الامکان کوشش کرتی۔ اس طرح دھیرے دھیرے میرے تڑپتے دل کو قرار ملنے لگا۔‘‘

زینب کی زندگی یوں ہی رواں دواں تھی۔ وہ دینِ اسلام کی پیاری تعلیمات پر پوری طرح عمل پیرا اور کاربند تھی۔ اسے اللہ تعالی نے اولاد کی نعمت سے نوازا۔پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے۔ اُن سب کی تربیت زینب نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر دین کے بتائے ہوئے طریقوں کے عین مطابق کی۔ سب کو بہترین مسلمان اور معاشرے کے لیے بہترین انسان بنایا۔ ماشاء اللہ چاروں بیٹےحافظِ قرآن،تین عالمِ اور سب سے چھوٹا پاکستان کے ایک دینی مدرسے میں زیرِ تعلیم ہے۔ بیٹیاں بھی دین دار اور باعمل مسلمان ہیں۔ زینب نے قبولِ اسلام کے بعد انتہائی سادہ زندگی گزاری۔ 

بچّوں کی شادیاں بھی نہایت سادگی اور شریعت کے عین مطابق کیں۔ بچّوں کے رشتے کرواتے ہوئے بھی اس نے دین داری کو ترجیح دی۔ جہاں سے، جس سے بھی دین کی کوئی بات معلوم ہوئی، اُسے حرزِ جاں بنالیا۔ سچّی بات یہ ہے کہ حقیقی اسلام، دین کی اصل روح کیا ہے؟ یہ میں نے زینب کو دیکھ کر ہی جانا۔ بلاشبہ، زینب آج کی مسلمان خواتین کے لیے ایک رول ماڈل ہے، جسے ایک مکمل اور باعمل مسلمان خاتون کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا۔ میں سمجھتی ہوں کہ آج دنیا میں اسلام کی تعبیر اور اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کے لیے ایسے ہی مثالی افراد اور باعمل مسلمانوں کی ضرورت ہے، جنہیں دیکھ کر ربّ کی ربوبیت اور دین کی حقّانیت ،عظمت و صداقت کا نقش دل پر ثبت ہوجائے۔ (اُمّ ِہانی، مانسہرہ)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔