• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جو ہمارا، آپ کا ’’یومِ عید‘‘ ہے ، وہ دراصل بچّوں کا ’’یومِ عیدی‘‘ ہوتا ہے کہ وہ نئے کپڑوں اور عیدی ہی کو عید سمجھتے ہیں، باقی بکھیڑوں سے اُنہیں کوئی سروکار نہیں۔ ہم بھی ایسے ہی تھے۔ چاند رات کو دو ہی خوشیاں ہوتیں۔ بار بار نئے کپڑوں، جوتوں کو دیکھنا اور عیدی کا انتظار۔ رات بَھر کڑکڑاتے نوٹ نظروں میں گھومتے رہتے۔ عید سے پہلے ہی گھر کے بڑوں سے عیدی طے کرنے لگتے، ایک ایک کو بتاتے کہ اِس بار اِتنے پیسے لیں گے۔

باقاعدہ وعدے لیے جاتے، اگر کوئی مطلوبہ عیدی دینے پر تیار نہ ہوتا، تو بُرا منہ بنانے کے ساتھ رونا پیٹنا بھی شروع ہو جاتا، جو اُس وقت تک جاری رہتا، جب تک اپنی بات منوا نہ لیتے۔ گھر والوں سے عیدی ملتی، پِھر رشتے داروں اور جاننے والوں کے گھر سویّاں وغیرہ لے کر جاتے، تو وہاں سے بھی جیب گرم ہو جاتی۔ گلی میں کھیل کود رہے ہوتے، مگر جیسے ہی کسی مہمان کو اپنے گھر آتا دیکھتے، دوڑ کر اُس کے برابر آ ٹکتے کہ اُن سے عیدی ملے گی۔ 

عیدیاں پاکر یوں لگتا، جیسے ایک دن کی بادشاہت مل گئی ہو۔ دِل کرتا‘ پوری دنیا خرید ڈالیں۔ سادہ دَور تھا‘ تو کھلونے بھی سادے ہوتے۔ پلاسٹک کی گاڑیاں‘ اونٹ‘ گھوڑے‘ ہاتھی وغیرہ خریدتے‘ جنہیں اپنے ہاتھوں ہی سے اِدھر اُدھر چلانا پڑتا۔ چابی اور سیل والے کھلونے ذرا منہگے ملتے۔ مٹّی سے بنے کھلونے بھی خریدتے، جن میں سے ایک کھلونا تو آج بھی اچھی طرح یاد ہے‘ بلکہ پچھلے دِنوں اُسے ایک جگہ بِکتے بھی دیکھا۔ مٹّی سے بنی دو پہیّوں والی توپ نُما رنگ برنگی گاڑی میں ایک ڈھولکی لگی ہوتی۔ جب اُس گاڑی کو ڈور پکڑ کر کھینچتے، تو ایک چھڑی اُس ڈھولکی پر پڑتی‘ جس سے ڈَپ ڈَپ کی آواز آتی اور بچّے اُسے سُن کر خوشی سے نہال ہوجاتے۔ 

ہماری والدہ مختلف حیلے بہانوں سے ساری عیدی اپنے پاس رکھ لیتیں‘ جو پھر ہمیں مختلف اقساط میں واپس ملتی۔ شاید باقی مائیں بھی ایسا ہی کرتی ہوں تاکہ بچّے پیسے خرچ کرنے کا ہنر سیکھیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے‘ والدہ ہماری شادی شدہ بہنوں کو ہر اہم تہوار پر ایک پوٹلی بھجواتیں‘ جس میں بیٹی، داماد کے لیے کپڑوں کے جوڑے اور کھانے پینے کی مختلف اشیاء جیسے سویّاں‘ میدہ‘ سوجی‘ چینی‘ گھی وغیرہ ہوتا‘ ساتھ میں کچھ نقد پیسے بھی ہوتے۔ عید سے پہلے بھی بیٹیوں کے لیے خاصے اہتمام سے اسی طرح کی پوٹلی تیار کی جاتی۔ 

بیٹیاں اس عیدی کا سال بھر انتظار کرتیں اور اسے بڑے فخر، مان سے اپنے سُسرالیوں کو دِکھاتیں کہ’’ دیکھیں! امّاں نے میرے لیے بھجوائی ہے۔‘‘ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اُن کے گھر یہ سامان نہ ہوتا‘ بات صرف اِتنی سی تھی کہ اِس عیدی سے اُنہیں خود کو اہمیت دینے کا احساس ہوتا۔ مگر اب یہ خُوب صُورت رسم نہ جانے کہاں کھو گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں منگنی کے بعد پہلی عید پر سسرال کی جانب سے لڑکی کو عیدی بھیجنے کی بھی رسم ہے‘ جو رشتوں کو مُشک بار بناتی ہے۔ یہ عیدی کرنسی نوٹوں کے ساتھ ہونے والی بہو کے لیے خُوب صُورت لباس‘ چوڑیوں اور منہدی وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اِسی طرح ہونے والے داماد کے لیے بھی اسپیشل عیدی بھجوانے کا رواج ہے۔ عیدی تو بیویوں کو بھی دی جاتی ہے‘ اگر مزاج برہم نہ ہو تو شُکریہ‘ وگرنہ وہ اسے رمضان میں برتن دھونے کی مزدوری قرار دے دیتی ہیں۔

عیدی پر سمجھوتا... کسی صُورت ممکن نہیں!!
ڈاکٹر پیرزادہ  قاسم صدیقی

جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر‘ معروف دانش ور‘ شاعر اور ادیب‘ پیرزادہ محمّد قاسم رضا صدیقی نے اپنے زمانے کی عیدی کی کچھ یادداشتیں یوں بیان کیں ’’ہمارے ہاں پورے اہتمام سے عید کی تیاریاں کی جاتیں۔ بچّے صبح نہا دھو کر اپنے بڑوں کے ساتھ نمازِ عید کے لیے جاتے اور پھر سب خاندان کے بڑے بزرگوں کے ہاں جمع ہو جاتے۔ 

اُن کی طرف سے عیدی بھی ملتی۔ وہ آج سے بہت مختلف زمانہ تھا‘ اِس لیے عیدی خرچ کرنے کی خواہشات بھی مختصر سی ہوا کرتی تھیں۔ مَیں نے اپنے ہاں بزرگوں سے چلتی آرہی اِن روایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ 

عیدی پر سمجھوتا... کسی صُورت ممکن نہیں!!
ڈاکٹر رؤف پاریکھ

معروف ماہرِ لسانیات‘ ادیب و دانش ور‘ ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’’امّی‘ ابّا‘ چچا‘ ماموں غرض کہ تمام ہی رشتے داروں کی طرف سے عیدی ملتی تھی اور ہم اُس کے انتظار میں بھی رہا کرتے تھے۔ عیدی کو کافی دنوں تک سبنھالے رکھتے اور اپنی پسند کی چیزیں خریدتے۔ ہم بھی اپنے بچّوں کو عیدی دیتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ ہم تو10 روپے ملنے پر بھی خوشی سے پُھولے نہ سماتے اور آج کے بچّے ہزار روپے پر بھی خوش نہیں ہوتے۔‘‘ 

عیدی پر سمجھوتا... کسی صُورت ممکن نہیں!!
ڈاکٹر فاطمہ حسن

نام ور شاعرہ، ادیبہ، ڈاکٹر فاطمہ حسن نے عیدی سے متعلق سوال پر کہا’’یہ ہماری روایات کا ایک خُوب صُورت اور خوش کُن حصّہ ہے۔ اس سے بچّوں میں اپنائیت کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ 

ہم تو سال بھر عیدی کا انتظار کیا کرتے کہ اُس زمانے میں بچّوں کو عام دِنوں میں پیسے دینے کا رواج ہی نہیں تھا‘ بس اُن کی ضروریات پوری کر دی جاتی تھیں۔ ہم ڈھاکا میں رہتے تھے، جہاں گھر کے قریب ہی آئس کریم کی ایک بڑی دُکان تھی‘ تو عید سے پہلے یہی منصوبے بناتے رہتے کہ عیدی ملنے پر ڈھیر ساری آئس کریم خریدیں گے۔ خود میری یہ عادت ہے کہ گھر کے جو بھی چھوٹے ہیں‘ خواہ وہ کتنے ہی امیر یا بڑی ملازمتوں پر کیوں نہ ہوں‘ اُنہیں باقاعدگی سے عیدی دیتی ہوں۔ ہمارے بزرگوں کا بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی برتائو تھا، تو اس روایت کو ابھی تک تو جاری رکھا ہوا ہے۔‘‘

دنیا بدل گئی‘ مگر بچّے پِھر بھی بچّے ہی رہے۔ 21 ویں صدی کے کمپیوٹرائزڈ بچّے بھی عیدی کو اِتنا ہی پسند کرتے اور اُس کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں‘ جتنا کہ پچھلی صدی میں کیا جاتا تھا۔ بچّوں کو سال بَھر ٹھیک ٹھاک جیب خرچ ملتا ہے اور وہ اُسے اپنی مرضی سے خرچ بھی کرتے ہیں‘ مگر نہ جانے عیدی میں ایسی کیا خوش بُو ہے‘ جسے تھامتے ہی اُن کے چہرے کِھل اٹھتے ہیں۔ کورونا وبا نے جہاں تہواروں کی چہل پہل کو متاثر کیا ہے، وہیں بچّوں کی’’ عیدی مہم‘‘ بھی اس کی زد میں آئی ہے۔ 

پچھلی عید سہمی سہمی سی گزری۔ لوگ ایک دوسرے سے مِلنے سے کتراتے رہے اور ایسا ضروری بھی تھا کہ جان ہے تو جہان ہے‘ زندگی رہی‘ تو عیدیں بہت۔ اِس بار بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں کہ انسانی جان کے تحفّظ کے لیے سماجی فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اِس بار نئے کرنسی نوٹ بھی جاری نہیں کیے‘ اِس لیے بچّوں کو پرانے نوٹوں ہی پر گزارہ کرنا پڑے گا۔تاہم، اِن سب باتوں کے باوجود بچّے عیدی سے دست برداری پر آمادہ نہیں۔ اگر مذاق میں بھی عیدی نہ دینے کی بات کی جائے، تو اُن کے منہ بن جاتے ہیں۔ 10 سالہ عمّار محمود عید پر بہت پُرجوش ہیں۔ 

اُن کا کہنا ہے’’مجھے پچھلی بار پاپا‘ تایا ابّو‘ چچا‘ دادی امّاں اور دیگر رشتے داروں نے عیدی دی اور جب پاپا کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے گیا، تو اُن کے دوستوں نے بھی عیدی دی۔ اِس بار بھی اُن سب سے عیدی لوں گا اور پھر ان پیسوں سے اپنے لیے نئی سائیکل خریدوں گا۔‘‘ عبدالرحمٰن فہیم ایک بَھری پُری فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور عید کو خُوب انجوائے کرتے ہیں۔ عیدی سے متعلق اُن کا کہنا ہے ’’پچھلی بار سب رشتے داروں نے عیدی دی تھی، مگر مَیں نے امّی کے کہنے پر آدھے پیسے اُن کے پاس رکھوا دیے اور باقی پیسوں سے آئسکریم وغیرہ کھانے کے ساتھ کچھ کھلونے بھی خریدے۔

اب بھی یہی کروں گا۔‘‘ ریہام اشفاق اپنے نئے کپڑوں پر بہت خوش ہیں‘ لیکن اُنہیں اپنے دادا، ابّو اور چچائوں سے عیدی لینا بھی یاد ہے۔ اُنہوں نے بتایا ’’مَیں نے ابّو کو پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اِس بار زیادہ پیسے لوں گی‘ کیوں کہ مَیں بڑی ہو گئی ہوں۔‘‘ محمّد گو کہ ابھی بہت چھوٹے ہیں، مگر عیدی کا اُنہیں بھی پتا ہے۔ ہم نے پوچھا ’’بتائو عید پر کیا ہوتا ہے؟‘‘ تو بولے’’پیسے ملتے ہیں۔ پاپا‘ چچا اور امّی پیسے دیں گے۔‘‘ پیسوں کا کیا کریں گے؟ کہا’’پکوڑے کھائوں گا۔‘‘ملک محمّد ثاقب معاویہ کئی بہنوں کے اِکلوتے بھائی ہیں، تو اُن کی عید کی تیاریاں بھی کچھ زیادہ ہی اہتمام سے ہوتی ہیں۔ والدین کے ساتھ بہنیں بھی عیدی دیتی ہیں۔ پیسوں کے خرچ سے متعلق اُن کا کہنا ہے’’عیدی تو کافی جمع ہوجاتی ہے۔ کولڈ ڈرنک‘ آئسکریم اور برگر وغیرہ خرید کر گھر لاتا ہوں۔ سب مل کر کھاتے ہیں، تو بہت مزا آتا ہے۔‘‘

ایک بات اور…یہ عید بھی حسبِ سابق گھر پر رہ کر ہی منائی جائے گی اور منانی بھی چاہیے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم بہت سے رشتے داروں یا دوست احباب کے ہاں شاید اُس طرح نہ جاسکیں، جس طرح ہمارا معمول رہا ہے۔ تو کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اگر ہمارے قریب میں کوئی یتیم خانہ ہے، تو اِس عید پر وہاں چلیں جائیں اور عیدی اُن بچّوں کو دے دیں، جنھیں عیدی دینے والا کوئی نہیں۔ روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نمازِ عید سے فارغ ہوکر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ آپؐ کی نظر ایک بچّے پر پڑی، جو میدان کے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔ 

نبی کریمﷺ اُس کے پاس تشریف لے گئے اور اُس کے سَر پر دستِ شفقت رکھا، پھر پوچھا’’ کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘بچّے نے کہا’’ میرا باپ مرچُکا ہے، ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے، میرے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے، نہ پہننے کو کپڑا۔‘‘یتیموں کے ملجاﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،فرمایا کہ’’ اگر میں تمہارا باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہو، تو خوش ہو جائو گے؟‘‘ کہنے لگا’’ یارسول اللہﷺ! اس پر مَیں کیسے راضی نہیں ہو سکتا۔‘‘حضورِ اکرمﷺبچّے کو گھر لے گئے۔(بعض روایات میں یہ واقعہ کچھ اور الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے)۔گویا خوشی کے اِس موقعے پر یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھنا رحمت اللعالمینﷺ کی سُنتِ مبارکہ ہے۔