• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: ہارون مرزا۔۔۔راچڈیل
1947سے 2021تک کا طویل ترین اور تھکا دینے والے سفر کے دوران غریب آدمی کیلئے یہ دنیا ایک امتحان گاہ رہی ہے قران پاک میں بھی دنیا کو ایک آزمائش گاہ قرار دیا گیا ہے پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت برسر اقتدار ہو عوام سے الیکشن کے موقع پر وعدے وعید کرتی ہے جنہیں الیکشن گزرتے ہی بھلا دیا جاتا ہے رمضان المبارک کی آمد پر غریب محض اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اسے اس مہینے میں خداوندکریم کی قربت کے علاوہ کہیں سے افطاری بھی آ جاتی ہے تو امیر آدمی اس لیے خوش ہوتا ہے کہ وہ گیارہ مہینے کی کمائی اس ایک مہینے میں حاصل کر لیتا ہے کورونا وائرس کی وجہ سے انسانیت کو درپیش چیلنجز سے ہر کوئی آگاہ ہے لوگوں کا کاروبار ٹھپ اور بیروزگاری عروج پر ہے پردیسی اپنے والدین سے ملنے کے لیے بیتاب اور والدین اپنے بچوں کے ساتھ عید منانے کیلئے بے قر ار ہیں مگر شاید ایسا ممکن نہ ہو سکے والدین ‘ بھائی بہن ‘ کے علاوہ مختلف پارٹیوں کے سربراہان اور حکومت نے جو بھی وعدے وعید کر رکھے ہیں وہ اس عید پر پورا ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘ وعدوں کی کھیر بڑی لذیز ہوتی ہے برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز کی غلامی سے نجات کے لیے بے شمار قربانیاں دیں اور ایک طویل عرصہ تک مختلف مذاہب کے لوگوں نے اس آزادی کی جنگ میں حصہ لیا۔پاکستان بننے کے بعد اپنے ہی ہم وطنوں نے نشیمن پر بجلیاں گرائیں خود ہی جاگیردار اور بیوروکریٹ بن بیٹھے سیاست بھی انہی کے مقدر میں لکھی گئی جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ میں دولت کی لکیر بھی نمایاں طو رپر نظر آنے لگی پاکستان قیام سے لیکر سیاستدانوں نے ہمیشہ غریب عوام کا ہمدرد بن کر نعرے بلند کیے مگر اس غریب آدمی نے بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے کے باوجود ان پر اعتبار کیا الیکشن جیتے سے پہلے ہر امیدوار اپنی انتخابی مہم میں عوام کو متاثر کرنے کیلئے دھڑا دھڑ جلسے جلوس اور تقریریں کرتے ہیںبڑے بڑے وعدے اور دعوے کیے جاتے ہیں عوا م کو خواب دیکھائے جاتے ہیں دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو پارسا ثابت کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے عام آدمی بار بار ان دلفریب نعروں میں آ جاتا اور حکمرانوں سے سب اچھے کی امید لگا لیتا ہے مگر جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے اسے یہ احسا س شدت سے ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران بھی سابقہ حکمرانوں کا تسلسل ہیں اور وہ ایک بار پھر دھوکے کا شکار ہو گیا ہے موجودہ حکومت نے بھی برسراقتدار آنے کیلئے تبدیلی کا نعرہ لگایا لوگوں کو روزگار ‘ گھروں کی فراہمی جیسے دلفریب نعرے لگائے لیکن بدترین مہنگائی‘ بیروزگاری اور معاشی بحران کے سوا عوام کو کچھ نہیں دیا جا سکامہنگائی پہلے سے کئی گناہ بڑھ چکی ہے مہنگائی کی وجہ سے غریبوں کی چیخیں نکل رہی ہیںغریب بیچارہ رو رہا ہے لیکن اس کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں ہے پاکستانی قوم شاید دنیا کی ان چند قوموں میں سے ایک ہے جو ہر چیز پر اتنا ٹیکس ادا کرنے کے باوجود پاکستا ن کی اکثریت کو عزت کی روٹی اور سکون کی نیند سے محروم ہے امیدوار الیکشن سے قبل ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں کہ غریب آدمی یہ تصور کر لیتا ہے کہ اسکے کامیاب ہوتے ہی تمام مسائل جادو کی چھڑی سے حل ہو جائیں گے غربت ختم اور اسکے حالات دنوں میں تبدیل ہو جائیں گے مگراس کا خواب اس وقت چکنا چور ہوتا ہے جب وعدے وعید کرنیوالے حکمران الیکشن جیتے ہی حلقے سے غائب ہوجاتے ہیں اور پھر مڑ کر پانچ سال واپس نہیں دیکھتے غربت ‘ مہنگائی ‘ بیروزگاری جیسے سنگین بحرانوں میں گھرے ہوئے عوام گزشتہ تقریبا ڈیڑھ برس سے عالمی وباء کورونا وائرس کا شکار ہیں پاکستان جیسے غریب ملک کی کمزور معیشت کو کورونا بحران نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ‘ صنعتکار ‘ تاجر برادری ‘ کاروباری طبقہ بدترین معاشی حالات کا سامنا کررہا ہے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں کورونا وائرس کی تیسری لہر نے سر اٹھا لیا جس پر حکومت کو ایک بار لاک ڈائون کی طرف جانا پڑا ، لاک ڈائون سے ایک بار پھر معیشت کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا ہے فیکٹریوں ‘ کارخانوں ‘ دوکانوں ‘ اور تجارتی مراکز پر تالہ بندی سے جہاں کاروباری طبقہ معاشی بدحالی کا شکار ہو گا وہیںمزدور دار طبقہ بالخصوص دیہاڑی دار مزدور پس کر رہ جائیں گے ۔ پاکستانی سیاست دانوں کے ہمیشہ دو چہرے ہوتے ہیں ایک الیکشن سے پہلے اوردوسرا الیکشن کے بعد الیکشن سے پہلے ہرامیدوار یا پارٹی اپنا خوبصورت منشور پیش کرتے ہیں اور پھر جو بعد میں مکر جاتے ہے اور ایسی ہی صورتحال موجود ہ حکمرانوں کی بھی ہے آج بیس کروڑ عوام حکومت کی طرف سے کیے جانیوالے وعدے وعید پورے ہونے کے منتظر ہیں جو شاید اس عید پر بھی پورے نہیں ہوں گے۔
یورپ سے سے مزید