• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نواز شریف کا ضامن کیسے باہر جاسکتا ہے، عدلیہ کوثبوت دیں گے، حکومت، الزامات ثابت بھی کرنا ہونگے، ن لیگ

نواز شریف کا ضامن کیسے باہر جاسکتا ہے، عدلیہ کوثبوت دیں گے، حکومت


لاہور، اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں، ٹی وی رپورٹ) حکومت کا کہنا ہےکہ نواز شریف کا ضامن کیسے باہر جا سکتا ہے،عدلیہ کو شہباز شریف کیخلاف کو ثبوت دینگے، وفاقی وزیر فواد چوہدری اور مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ شہبازکی رہائی چیلنج کرینگے، عدالت کو درست طریقے سے بات بتائی نہیں گئی۔

ن لیگ نے دو ادوار میں منظم کرپشن کی ،شہباز کو باہر نہیں بھیجنا چاہتے، مقدمات حتمی نتائج تک پہنچائینگے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور رانا ثناء نے کہنا ہے کہ حکومت، جو مرضی کرلیں شہباز شریف ضرور جائینگے۔

حکومت کوالزامات ثابت کرنا ہونگےنیب نے مان لیا شہباز شریف نے کرپشن نہیں کی، عمران خان کی مرضی سے لوگ جیل نہیں جا سکتے، ذرائع آمدن کا تعین کیے بغیر الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے؟ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ نیب نے عدالت میں اعتراف کیاشہبازشریف نے کوئی کرپشن نہیں کی،روز وزراء الزامات لگاتے ہیں کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں، کدھر ہیں ثبوت؟ثبوت نہیں توآپ کے پاس موجودوالیم کی کوئی حیثیت نہیں، تمام وزرا ء کی ایک ایک کرکے حقیقت سامنے آچکی، شہبازشریف پرالزامات بے بنیاد ہیں،عمران خان مسلم لیگ (ن) کی کامیابیوں سے خوفزدہ ہیں۔

3سال سے حکومت شہبازشریف اورن لیگ کی کردارکشی کررہی ہے، شہبازشریف نے دیانت کے ساتھ 10سال پنجاب کی خدمت کی،نیب شہبازشریف کے خلاف ایک روپے کی کرپشن ثابت نہ کرسکا۔ ان خیالات کا اظہاراتوار کو مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں شاہد خاقان عباسی ،احسن اقبال اور رانا ثناء خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈربننے کے بعدشہبازشریف نے آدھاعرصہ جیل میں گزارا، نیب نے کس جرم میں شہبازشریف کو جیل میں ڈالا؟ 3سال سے الزامات لگائے جارہے ہیں ،ان کی حقیقت کیا ہے؟ نیب نے اعتراف کیاہے کہ شہبازشریف نے کوئی کک بیک نہیں لیا۔

شہبازشریف کے بدترین دشمن بھی ان کی خدمات کااعتراف کرتے ہیں،نیب نے عدالت میں اعتراف کیاشہبازشریف نے کوئی کرپشن نہیں کی ،کبھی صاف پانی توکبھی آشیانہ کاکیس بنایا جاتا ہے، رنگ برنگے وزیرٹی وی پر آکر ہرقسم کاالزام لگاتے ہیں، یہ وزیربتائیں ان کانیب سے کیاتعلق ہے؟

شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ چیلنج کرتاہوں عمران خان اوران کے وزراء ثبوت لائیں، روز وزراء الزامات لگاتے ہیں کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں، کدھرہیں ثبوت؟ثبوت نہیں توآپ کے پاس موجود والیم کی کوئی حیثیت نہیں،آپ کے پاس 55والیم ہوں یا55ہزار، اس میں کچھ ہونابھی چاہیے، کوئی ثبوت نہیں کہ شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کی ہے،شہبازشریف نے 10سال پنجاب کی خدمت کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ تمام وزرا ء کی ایک ایک کرکے حقیقت سامنے آچکی، شہبازشریف پر الزامات بے بنیاد ہیں، عمران خان مسلم لیگ ن کی کامیابیوں سے خوفزدہ ہیں، 3سال سے حکومت شہباز شریف اورن لیگ کی کردارکشی کررہی ہے۔ 

رانا ثناء خان نے کہا کہ شہبازشریف نے دیانت کے ساتھ 10سال پنجاب کی خدمت کی،نیب شہباز شریف کے خلاف ایک روپے کی کرپشن ثابت نہ کرسکا جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے تاہم شہباز شریف بیرون ملک جانے کی اجازت کے خلاف اپیل کا حق استعمال کرینگے۔

20سالوں میں شریف فیملی نے لوٹ مار کر کے اربوں ڈالر جائیدادیں بنائیں ،شریف فیملی میں بچہ بعدمیں پیدا ہوتا ہے لیکن اپارٹمنٹ پہلے اس کے نام ہوتا ہے ،قانون نواز شریف فیملی اور عام لوگوں کیلئے برابر ہونا چاہیے ،چھوٹے چوروں کو بھی بڑے چوروں جیسے حقوق ملنے چاہیے۔

کرپشن کیخلاف یہ جدوجہد عمران خان کی نہیں پورے معاشرے کی ہے ،ہر ادارے کو اس میں کردار ادا کرنا چاہیے ، ہم تو امید کررہے تھے کہ نیب اور عدالت شہباز شریف کی نواز شریف گارنٹی کا پوچھیں گے کہ اب تک وہ واپس کیوں نہیں آئے لیکن شہباز شریف کی ایک ہی دن میں درخواست کا دائر ہونا ، نوٹس ہونا ، پراسکیویشن کو نہیں سنا گیا اور فوری فیصلہ ہوجاتا ہے۔ وہ اتوار کو پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ گزشتہ ایک دو دنوں سے شہباز شریف کے بیرون ملک روانگی کے حوالے سے جو معاملات جل رہے ہیں ، اس پر بات کرنے آئے ہیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ’ پی ٹی آئی‘ میری یا شہزاد اکبر کی شبہاز شریف سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے اور نہ شریف فیملی نے جو پیسے لوٹے ہیں وہ ہمارے ہیں جس کیلئے ہم اقدامات کررہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ 1988سے1999 پھر 2008سے 2018 کے 20سالوں میں منظم کرپشن کی گئی ۔ پاکستان میں دو خاندانوں نے باری باری حکومت کی جس میں شریف فیملی کا ذیادہ حصہ رہا ، ان ادوار میں اربوں روپے پاکستان سے چوری کیے گئے اور پیسہ مختلف طریقوں سے باہر بھجوا کر جائیدادیں خریدیں گئیں ۔ 

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف اور ان کے بچے جہاں رہائش پذیر ہیں وہاں پر اربوں روپے مالیت کے 4اپارٹمنٹس ہیں جبکہ برطانیہ میں ایک اپارٹمنٹ شریف فیملی کے نام پر ہے صرف برطانیہ کے اپارٹمنٹ کی قیمت 45ملین پاونڈ ہے جبکہ جائیدادوں کی مجموعی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے ۔ 

انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے ٹی وی پر آکر کہا کہ لندن تو کیا پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں ہے لیکن جب ایک جرمن اخبار نے دنیا کے بدنام ترین حکمرانوں کی جائیدادوں کی کہانی پاناما اسکینڈل کے نام سے سامنے آئی اس میں ایک چیز مشترک تھی کہ غریب ممالک کے حکمران امیر ترین ہیں ، ان حکمرانوں نے اپنے ملک کا پیسہ امیر ملکوں میں انوسٹ کیا ، شریف فیملی کا نام بھی اس اسکینڈل میں آیا ۔ 

وفاقی وزیر نے کہا کہ کرپشن کیخلاف پاکستان تحریک انصاف نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب پوری قوم کو اس میں حصہ ڈالنا ہے جس میں عدالتیں، پراسکیوشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمارے اختیارات لامحدود نہیں ہیں ، لوگوں کو پکڑ کر کہا جائے کہ پیسے واپس کریں تو رہائی ملے گی ،ہمار ے ہاں عدالتی اور پراسکیوشن کا نظام ہے ۔ 

انہوں نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے 400ارب روپے ملزمان سے لیکر قومی خزانے میں جمع کرائے، یہ شاندار کارکردگی ہے ،عدالتوں نے پاناما کیس سمیت شاندار فیصلے کیے جس سے پاکستان میں یہ تاثر بنا کر کرپشن کے خلاف عدالتی اہم کردار ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نظام کی بوسیدگی ہے ،ایک دن میں درخواست دائر ہوئی ، نوٹس ہوا ، ایک ہی دن باہر جانے کی اجازت مل جاتی ہے ہو سکا ہے کوئی ایمرجنسی کا معاملہ ہے لیکن پراسکیویشن تک کو نہیں سنا گیا ۔ 

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد شہباز شریف سے کئی ذیادہ بیمار ہے اگر وہ پاکستان میں رہ کر علاج کررہی ہیں تو نواز اور شہباز کو چاہیے کہ وہ بھی اپنا علاج پاکستان میں کرائیں۔

اہم خبریں سے مزید