• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف کا ووٹ بینک برقرار ہے بلکہ بڑھا ہے کم نہیں ہوا، عثمان بزدار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹ بینک برقرار ہے بلکہ بڑھا ہے کم نہیں ہوا ہے ۔ جہاں سے ن لیگ ضمنی الیکشن میں جیتی ہے وہ پہلے ہی ن لیگ کی سیٹیں تھیں ۔ انہوں نے کہا ضمنی الیکشن ہارنے پر مجھے کسی سرزنش کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ ہمارا ووٹ بینک بڑھا ہے ۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ ملک کی بہتری کے لئے آگے آکر اپنا ہاتھ بڑھائیں۔ پاکستان میں کووڈ کی پہلی لہر پر جو اقدامات کیے گئے اس کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ویکسینشن کے 136 سینٹرز پنجاب میں قائم کر دئیے ہیں سولہ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی دی گئی ہے بڑے شہروں میں موبائل سسٹم لاؤنچ کر رہے ہیں پنجاب گورنمنٹ نے ڈیڑھ ارب روپے خود مختص کیے ہیں اور دس لاکھ سے زیادہ ڈوز ہم خود منگوا رہے ہیں۔لوگوں کو بھی چاہیے احتیاط کریں تاکہ محفوظ رہ سکیں اور احتیاط کے حوالے سے ہم مہم بھی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بلوچ ہوں اور جنوبی پنجاب میں رہتا ہوں اور پہلی دفعہ بلوچ وزیراعلیٰ پنجاب کا بنا ہے تو میرا حق بنتا ہے کہ بحیثیت بڑا بھائی پنجاب کے اپنے تمام صوبوں کا خیال کریں اس جذبے کے تحت میں نے بلوچستان کے وزٹ بھی کیے ہیں اور پاکستان کا مستقبل بلوچستان میں ہے بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا۔تربت میں ایک اسپتال بنا رہے ہیں جس میں پنجاب حکومت بلوچستان حکومت کی حمایت کر رہی ہے ٹیکنیکل کالج بنا رہے ہیں اور بہت سے کام دوسرے ڈسٹرکٹ میں بھی کر رہے ہیں جب ہم ایک دوسرے سے ملیں گے وہاں کے سیاسی لوگ آئیں گے تو بہت سی بدگمانیاں ختم ہوجائیں گی۔ آپ کے علاقے میں ویکسین لگوانے کا رحجان ہے اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ابھی تک کم رحجان ہے لیکن جو رجسٹرڈ ہیں وہ لگوا رہے ہیں۔اپیکس کمیٹی میں پرائیوٹ اسپتالوں کے حوالے سے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ جتنے بھی پرائیوٹ اسپتال ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر ایس او پی طے کریں کہ وہ کس حد تک کورونا کے علاج کے پیسے لے سکتے ہیں۔ہم نے اسپیشل اکنامک ژونز اپروو کئے ہیں اور فیڈرل گورنمنٹ سے سات کے نوٹیفکیشن ہمیں وصول ہوچکے ہیں۔ پنجاب میں ستر سال میں بارہ سیمنٹ فیکٹریز لگی ہیں اور ڈھائی سال میں سولہ کی اپروول مختلف اسٹیج پر ہیں کچھ کی ہوگئی ہے کچھ کی ہونے والی ہے۔ یونیورسٹیز کے چارٹرڈ بنائے ہیں زمین مختص کی ہے اپروو بھی کی ہے اور وائس چانسلر کی تقرری بھی کر دی ہے یہ پراسیس جاری ہے جو آگے بھی چلے گا کچھ ہم نے کیے ہیں اور کچھ کر رہے ہیں پنجاب کے چھتیس ڈسٹرکٹ میں جہاں جہاں یونیورسٹی کی ضرورت ہوگی وہاں قائم کریں گے اور چلا کر دکھائیں گے۔ وزیراعظم کے وژن کے تحت پنجاب میں ہم نے کم قیمت ہاؤسنگ کا کام شروع کیا ہے، اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ حکومت پنجاب دس ہزار روپے مرلے کے حساب سے زمین دے گی جس نے اپلائی کیا ہوا ہے وہ ڈاؤن پیمنٹ ایک لاکھ تینتالیس ہزار دے گا اور تین لاکھ نیا پاکستان ہاؤسنگ اس کی سبسڈی دیں گے اور دس لاکھ پنجاب بینک اس کو قرض دے گا پھر ہم نے اس کی کنسٹریکشن ایف ڈبلو او کرے گی چھ مہینے سے لے بارہ مہینے کے درمیان گھر بنادے گی اور اس کی قسط دس ہزار تقریباً بنے گی، ابھی چھبیس تحصیلوں میں تینتیس مقامات کی نشاندہی کردی ہے اس میں انشا اللہ ایک لاکھ سے زائد گھر بنیں گے اور ہم 146 تحصیلوں میں اس کا نفاذ کریں۔اس سوال کہ افسران نیب کے خوف سے کام نہیں کرتے کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ بہت سارے مسائل کا ہمیں سامنا تھا شروع میں وزیراعظم عمران خان نے دن رات اس مسئلے پر توجہ دی اور اس کو حل کیا ہے ۔انہوں نے کہا اچھائی کی ہر وقت گنجائش رہتی ہے سرکاری افسران کو اپنا رویہ بہتر کرنا چاہئے ، ڈلیور کرنا چاہئے یہ ان کی صرف ڈیوٹی ہی نہیں کار خیر بھی ہے ۔ کتابیں پڑھنے کا بہت کم ٹائم ملتا ہے ، شاعری سے دلچسپی ہے مگر بہت کم ٹائم ملتا ہے ۔ جس منصب پر میں بیٹھا ہوں میری ذمہ داری ہے کہ میں لوگوں کو انصاف دوں ، غریبوں کے لئے کچھ کرسکوں ، میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے اچھے نام سے یاد رکھیں لوگ عثمان بزدار کو پنجاب بھر میں یکساں ترقی کے حوالے سے یاد رکھیں۔ جس کا جو حق ہے وہ اس کو ضرور ملنا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت سے منصوبے ایسے ہیں جن پر تیزی سے کام ہورہے ہیں گو کہ مشکل پراجیکٹس ہیں مگر کام ہورہے ہیں اور ان کو ہم نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے اور کام بھی انہی پر کررہے ہیں ۔اس وقت لاہور میں پینے کا پانی آلودہ ہے اسے صاف کرنے کا مشن ہم لے کر چلے ہیں اور آپ دیکھیں گے لاہور کا نقشہ ہی تبدیل ہوجائے گا ۔ سب کو ایک نیا شہر ، نیا لاہور نظر آئے گا ۔ َلوگوں کو میرا پیغام ہے کہ محنت کریں،ایمانداری سے اپنا کام کریں، ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دیں۔ میری عوام سے درخواست ہے کہ حکومت سے تعاون کریں، ماسک پہنیں، اپوزیشن سے کہوں گا کہ وہ بالکل ہمیں تنقید کا نشانہ بنائیں مگر حقیقی ایشوز پر، غلط باتوں سے پرہیز کریں۔ اپوزیشن کو بھی اس صوبے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ۔ پی پی اور ن لیگ کے ایم پی ایز سے ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا میں چیف منسٹر ہوں پنجاب کا جو مجھ سے ملنا چاہے گا میں اس سے ملوں گا میرے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں ۔ میں سب سے ملاقات کرتا ہوں مگر کسی سے پارٹی تبدیلی کا نہیں کہا ہے جس نے آنا ہے آجائے میرے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں کیونکہ ہماری خواہش صوبے کی ترقی ہے ۔ مہنگائی کے سوال کے جواب پر انہوں نے کہا مہنگائی تو ہر جگہ ہورہی ہے لیکن ہماری کوشش پرائس کنٹرولنگ ہے اور آپ دیکھیں کہ تمام چیزیں سسٹم کے تحت ملیں گی ۔ ڈالر کی قیمت اور تیل کی قیمت سے فرق پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو رمضان بازار لگے ہوئے ہیں یہ رمضان کے بعد سہولت بازار کے نام سے کام کریں گے اور یہ سارا سال چلیں گے اور ہم لوگوں کی خدمت کرتے رہیں گے ۔

اہم خبریں سے مزید