• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دریائے گنگا کے کنارے 40 لاشیں، لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا


بھارتی ریاست بہار اور اتر پردیش کے سنگم پر دریائے گنگا میں 40 سے زائد لاشیں تلف ہونے کے لیے چھوڑدی گئیں، جن کو دیکھ کر مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ لاشیں چوسا ٹاؤن کے قریب دریا میں بہتی ہوئی دیکھی گئی ہیں، جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ 

مقامی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ لاشیں اترپردیش سے بہتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہیں جبکہ یہ ممکنہ طور کورونا سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی ہیں جن کے لواحقین کے پاس ان کی آخری رسومات تک پوری کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق چوسا ضلعی افسر اشوک کمار نے اس دہشت زدہ مقام کا دورہ کیا اور بتایا کہ یہ ممکنہ طور پر 40 سے 45 لاشیں ہیں۔ 


ان کا کہنا تھا کہ ان لاشوں کو دریائے گنگا میں پھینکا گیا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق یہ 100 کے قریب لاشیں ہوسکتی ہیں۔ 

ایک اور حکام کے کے اُپدھیے نے کہا کہ یہ لاشیں پھولی ہوئی ہیں، جبکہ انھیں دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تقریباً 5 سے 7 روز سے پانی میں ہیں۔ 

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم لاشیں نکال کر ان سے متعلق کارروائی کر رہے ہیں، تاہم یہاں یہ بھی پتا لگانے کی ضرورت ہے کہ یہ آئی کہاں سے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ یہ لاشیں یہاں کی نہیں لگ رہیں، کیونکہ ہارے یہاں مردے کو دریا میں بہانے کی روایت موجود نہیں ہے۔ 

مقامی آبادی میں بھی لاشوں کو پانی میں دیکھ کر پانی کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پایا جارہا ہے۔ 

ایک مقامی شہری کا کنہا ہے کہ ہمیں ان لاشوں کو دفنانا ہوگا۔ 

بین الاقوامی خبریں سے مزید