مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
خون کے رشتے فطری رشتے کہلاتے ہیں۔ اِن رشتوں میں ماں باپ، بہن بھائی اور والدین شامل ہیں۔ پھر والدین کی نسبت سے ددھیالی اور ننھیالی رشتے ہوتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پروکر ان کے حقوق بھی مقرر فرمادیے ہیں۔ جن کا ادا کرنا لازم ہے۔ بلاشبہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطری طور پر سب ہی کو اپنے والدین بہت عزیز ہوتے ہیں۔ والد سے محبت کا جذبہ بھی اتنا ہی قوی ہے، جتنا ماں سے محبت کا۔ ماں سراسر محبت، الفت و چاہت کا استعارہ ہے، تو باپ بھی جو بظاہر رعب و دبدبے کا پہاڑ نظر آتا ہے، اولاد کے لیے اندر سے کسی چھوٹے بچّے کی طرح نرم و نازک احساسات رکھتا ہے۔
آج جب مَیں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے کاغذ، قلم کا سہارا لیا، تو احساس ہوا کہ اس عظیم ہستی کے لیے کچھ لکھنا کس قدر مشکل امر ہے۔ میرے والد، اکبر جمال انتہائی شفیق، رحم دل، اور ہر کسی کے دُکھ درد میں کام آنے والے انسان ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے فزیو تھراپسٹ ہیں۔ جب میں بہت کم سِن تھی، تو وہ ہمارے لیے باپ کے ساتھ ماں بھی بن گئے، کیوں کہ زندگی نے اپنا کچھ ایسا تلخ رنگ دکھایا، جو شایدکوئی اور دیکھتا، تو ہمّت ہاربیٹھتا، مگر وہ کئی بار ہمّت ٹوٹنے کے باوجود دوبارہ عزم و حوصلے سے کھڑے ہوجاتے۔ اپنی پہچان اور اپنے نام کو بچپن سے لے کر اب تک بھرپور طریقے سے بخوبی نبھاتے چلے آرہے ہیں۔
وہ ہم سب بھائی بہنوں کے پپّا ہونے کے ساتھ خاندان بھرمیں بھی ’’پپّا‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ اور اپنے نام سے زیادہ پپّا کے نام سے جانے جاتے ہیں، یعنی اللّٰہ نے اُنہیں باپ کا درجہ دیا، تو گویا وہ جگ بھر کے پپّا ہوگئے۔ انہوں نے ہمارے لیےبیش بہا خاموش قربانیاں دیں کہ جنہیں شمار ہی نہیں کیا جاسکتا۔وہ اس دوران راہ میں آنے والی لاتعداد پریشانیوں کو خاموشی سے جھیل گئے اور ہم بس ان کی فراہم کردہ نعمتیں ہی گنتے رہ گئے۔
ہم بہن بھائی ابھی کم سِن ہی تھے کہ کچھ ایسے کٹھن دن دیکھنے پڑگئے کہ زندگی کی بنیادی چیزوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے، مگر آفرین ہے، انہوں نے ہمیں کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیا، خود چلچلاتی دھوپ میں بسوں کے دھکے کھاتے اور ہمیں بڑے ٹھاٹ سے ویگن میں اسکول بھیجتے۔ان کی شخصیت میں رعب و دبدبے کے ساتھ بذلہ سنجی بھی خوب ہے۔ انہیں کبھی افسردہ نہیں دیکھا، اکثر کوئی لطیفہ، چٹکلہ سنا کر یا کوئی پُرمزاح بات کہہ کر پوری محفل زعفران زار بنادیتے۔
ہم نے انہیں دن رات محنت کرتے ہی دیکھا، پھر ہر موضوع پر معلومات ایسی رکھتے ہیں کہ چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا کہا جاسکتا ہے۔ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہتے ہیں، نہ صرف اپنوں، بلکہ غیروں کا بھی حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ مجھے ایک مقابلے میں اوّل انعام ملا، تو اس موقعے پر اُن کا بچّوں کی طرح والہانہ انداز سے تالیاں بجانے اور خوشی سے بے خود ہونے کا انداز، میں کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
میں نے پپّا کو کبھی روتے نہیں دیکھا تھا،توجب زندگی میں پہلی بار روتے دیکھا، تو بڑی حیرت ہوئی، یقین نہیں آیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے، میرے پپّا تو سب کے آنسو پونچھنے والوں میں سے ہیں، آج ان کی آنکھیں کیسے نم ہوگئیں۔ میں آج لوگوں کا موازنہ کرتی ہوں،خصوصاً انسانی رشتوں کا جائزہ لیتی ہوں تو احساس ہوتا ہے، باپ جیسا دل ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ لوگ باتیں تو بہت بڑی بڑی کرلیتے ہیں،لیکن عملاً ایسا باپ بننا آسان نہیں۔
پپّا، بچپن ہی سے ہم بھائی بہنوں کو ہمیشہ یہی کہتے کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ اس مُلک کو کم از کم تین پڑھے لکھے شہری تو دے دوں۔‘‘ اور پھر ہم تینوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ آخر میں بس یہ کہنا چاہوں گی ؎مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا .....مَیں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کی پَرچھائیں میں۔’’پپّا! بہت شکریہ، آپ نے ہمیشہ ہماری چھوٹی بڑی خواہشیں پوری کیں۔ ہمیں آرام و آسائش بہم پہنچانے کی خاطر اکیلے ساری دنیا سے لڑتے رہے، ہمیشہ ہماری حفاظت کی۔
الفاظ شاید انصاف نہ کرسکیں۔ تاہم، خواہش ہے کہ میرے یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ کسی ننّھے بچّے کے ادُھورے الفاظ کی طرح آپ تک پہنچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ اولادکے سر پر ماں باپ کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھے اورمیرے پپّا جیسے بہت سے لوگ، جو خاموش جنگیں لڑرہے ہیں، اُن کے لیے ڈھیروں آسانیاں پیدافرمائے،آمین۔ (عشبا جمال، کراچی)