لندن (پی اے) ایک تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ جامعات کو ان طلبا کو قبول کرنے پر پابندی عائد کرنی چاہئے جو ڈگری کورس کے لئے تشہیری داخلہ شرائط پوری کرنے میں ناکام رہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ تمام درخواست دہندگان کے لئے شفافیت موجود ہے۔ایجوکیشن تھنک ٹینک ای ڈی ایس کے نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت ان طلباء کو قرض کی مالی معاونت فراہم نہ کرے جو کسی کورس کے لئے داخلے کے گریڈ سے محروم رہنے کےباوجود یونیورسٹیو ں میں بھرتی ہوجائیں۔ محکمہ تعلیم (ڈی ایف ای) نے پیش گوئی شدہ گریڈز کی درستگی کے بارے میں خدشات کے پیش نظر یونیورسٹی داخلہ نظام میں اصلاحات کے سلسلے میں مشاورت کا آغاز کیا تھا جس کا اختتام جمعرات کو ہوگیا ہے ۔وزرا کی جانب سے ایک آپشن پر غور کیا جائے گا جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ طلبا یونیورسٹی میں درخواست دیں گے اور انہیں اے لیول نتائج کے بعد اداروں سے آفرز وصول ہوں گی جس کے بعد یونیورسٹی کا آغاز ہو سکے گا۔ دوسرا آپشن ایک پوسٹ کوالیفکیشن سسٹم (پی کیو اے) ہے جس میں طلباء ٹرم کی مدت کے دوران معمول کے مطابق درخواست دے سکیں گے ، لیکن گرمیوں میں نتائج کے دن کے بعد ہی انہیں داخلوں کی پیش کش ہو گی۔ اس مشاورت کے جواب میں ، ای ڈی ایس کے نے کہاہے کہ حکومت کو اصلاحات کے ساتھ مزید جر ات مند انہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ پیش گوئی شدہ گریڈ کے استعمال کو مکمل طور پر مسترد کردیا گیا ہے۔تھنک ٹینک نے مشورہ دیا ہے کہ وزراء سخت اقدامات کے ساتھ پی کیو او داخلہ ماڈل اپنائیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو ان طلبا کو داخلہ لینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے جو ان کی تشہیر شدہ داخلہ گریڈ کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس کا استدلال ہے کہ اس اقدام سے غیر مشروط پیش کش ختم ہوجائے گی۔تھنک ٹینک کے مطابق ، متوقع طلباء ، خاص طور پر پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلباء پر ، ڈگری کورسز کے لئے مشتہر شدہ گریڈ اور قبول شدہ گریڈ کے درمیان موجودہ عدم مماثلت غیر منصفانہ ہے۔یوکاس کی جانب سے 2019 میں جاری کردہ اعدادوشمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسکول چھوڑنے والوں میں سے تقریبا نصف (49 فیصد) ڈگری کورسوں میں قبول کیے گئے تھے جوکہ داخلہ کی ضروریات اے لیول سے کم گریڈ کےتھے۔ ای ڈی ایس کے نے خبردار کیا کہ یونیورسٹیاں تیزی سےغیر مشروط پیش کش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جہاں حتمی نتائج سے قطع نظر ڈگری کی پیش کش کی جاتی ہے تاکہ طلبہ کو ترغیب ( رشوت) دی جائے کہ ان کے تعلیمی ادارے میں شمولیت اختیار کرلیں۔اس کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو ہر درخواست کے طریقہ کار کے آغاز پر ہر ڈگری کورس کیلئے دستیاب جگہوں کی تعداد شائع کرنے کی ضرورت ہوگی ، جو بعد میں نتائج کے دن کے بعد تبدیل نہیں کی جاسکتی ہیں۔