• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیپرا کو ’ ای پروکیورمنٹ منصوبہ‘ میں بے قاعدگیوں پر کارروائی کا حکم

اسلام آباد (عاصم جاوید) کابینہ ڈویژن نے پیپرا میں ورلڈ بنک کے تعاون سے شروع ہونیوالے ای پرو کیورمنٹ منصوبہ میں مبینہ سنگین بے قاعدگیوں ، کرپشن ، کک بیک ، غیر قانونی بھرتیوں پر مبنی شکایت پر چیئرمین پیپرا کو مناسب کارروائی کرنے کا مراسلہ جاری کیا ہے۔ پی پی رہنما مطلوب خان نے منصوبہ میں کرپشن اور بد انتظامی کی شکایت کی تھی ، ان کی جانب سے بھیجی گئی شکایت میں کہا گیا تھا کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ”پیپرا“ میں ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع ہونیوالے ای پروکیورمنٹ منصوبہ ”ای پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم“ آغاز میں ہی کرپشن اور بدانتظامی کا شکار ہو چکا ہے اور کمیشن ، کک بیکس ، لوٹ مار اور غیر قانونی بھرتیوں کا عمل جاری ہے جبکہ قواعد کے برعکس منصوبے کا پی سی ون بھی تیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس ترقیاتی سکیم کی منظوری پلاننگ کمیشن کے مجاز فورم ”سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی“ سے لی گئی ہے حالانکہ ای پروکیورمنٹ منصوبہ سرکاری اداروں کی سالانہ اربوں کھربوں روپے کی خریداریوں کو کمپیوٹرائزڈ اور شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لئے شروع کیا گیا ہے، شکایت کے مطابق بوگس کاموں پر پردہ ڈالنے کیلئے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔ شکایت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اعجاز رسول کی پٹیشن کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں ایم ڈی پیپرا ملک رضوان کو ڈی جی محمد زبیر کی جعلساری اور فراڈ کے ذریعے پیپرا میں بھرتی کرنے کی انکوائری کا حکم بھی دیا گیا تھا لیکن انکوائری کی بجائے ای پروکیورمنٹ کا منصوبہ محمد زبیر کے سپرد کر دیا گیا جنہوں نے اپنے ایک قریبی دوست سول انجینئر طارق جاوید خان کو چیف سافٹ وئیر سپیشلسٹ تعینات کر کے پراجیکٹ منیجر کا چارج دیا ہے۔ شکایت کے مطابق منصوبے کی ضروریات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر ایک انٹرنیشنل ٹینڈر شائع کیا گیا اور ایک مشکوک ایویلیویشن کے بعد 47 کروڑ کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دیدیا گیا جبکہ اسی کمپنی نے اسی نوعیت کا پیپرا بلوچستان کا ایک منصوبہ تقریباً 5 کروڑ روپے میں مکمل کیا ہے۔ شکایت میں درخواست کی گئی ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کروا کر اس منصوبے کو کرپٹ عناصر اور کمیشن مافیا کی لوٹ مار سے بچایا جائے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے کابینہ ڈویژن نے سیکرٹری کیبنٹ کی اجازت سے سیکرٹری خزانہ جو پیپرا بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں ، انہیں مناسب کارروائی کرنے کے لئے لیٹر ارسال کر دیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید