• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کووڈ 19 کے بعد دنیا بھوک، قحط اور خواراک کی کمی سے دوچار

دُنیا میں خوراک کی کمی کا بحران گزشتہ تین برسوں سے شدّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔کوویڈ 19 کے بعد اس بحران نےمزید کئی بحران پیدا کردیئے۔ عالمی ادارۂ خوراک کے حالیہ جائزوں کے مطابق سال 2021ء میںکوویڈ سے متاثرہ ممالک میں دُنیا کی گیارہ فیصد آبادی کو رات کو کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ یہ بھوکے سوتے ہیں، جب کہ شمالی افریقی ممالک انگولا، بنین، بوسٹوانا، برونڈی، کیمرون، کانگو، وسطی افریقہ، چاڈ، ایتھوپیا، اریٹیریا، جنوبی سوڈان اور گابون سمیت لاطینی امریکی ممالک برازیل، یوراگوئے، وینزویلا، گوئٹے مالا، جزائر غرب الہند، جنوبی ایشیائی ممالک افغانستان، نیپال، مالدیپ اور کمبوڈیا میں اناج کی قلّت کی وجہ سے ان ممالک کو گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ مذکورہ ممالک میں خوراک کی کمی کی وجہ سے سب سے زیادہ چھوٹے بچّے اور بچوں کو دُودھ پلانے والی مائیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی حالیہ اَلمناک رپورٹ کے مطابق پانچ سال کی عمر سے کم عمر کے چودہ ہزار پانچ سو بچّے بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یمن، شام، شمالی افریقہ میں انسانی زندگیوں کو درپیش المناک مسائل پر بار بار اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ترقّی یافتہ ممالک کو آنے والے متوقع خطرات سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔

بعض مغربی ممالک مثلاً جرمنی، فرانس، بیلجیم اور آسٹریا نے متاثر ممالک کی مالی اور خوراک کے حوالے سے بڑی مدد کی ہے مگر ان ممالک میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ شمالی، مغربی اور وسطی افریقی ممالک میں بیشتر ممالک میں انتہاپسند مذہبی تنظیمیں بوکو حرام، انصار اسلامیہ، القاعدہ امدادی سامان کی تقسیم میں حائل ہوتی ہیں، ایسے میں امدادی کام کرنے والوں کی جان کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

غریب ممالک اور بعض ترقّی پذیر ممالک میں قبائلی، نسلی، مذہبی اور علاقائی تنازعات نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو اَجیرن بنا دیا ہے۔ وہ جہادی گروہ چھوٹے شہروں اور قصبوں کا محاصرہ کر کے پورے علاقے کی زندگی معطل کر دیتے ہیں اپنے علاقوں میں محصور عوام کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا۔ مقامی حکومتیں، فوج، پولیس انتظامیہ جہادیوں کا سامنا کرنے سے کتراتی ہیں۔ حال ہی میں نائیجیریا میں چار سو سے زائد ہائی اسکول کی طالبات کو دہشت گرد اغوا کر کے لے گئے۔

افریقی ممالک میں پھیلی دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے شائع ہونے والی خفیہ رپورٹوں میں بتایا گیا کہ بوکوحرام، الشباب، انصار اسلامیہ، سنی ملیشیا اور القاعدہ کا ایک گروہ خطرناک جنونی جنگجو افراد پر مشتمل تنظیمیں ہیں جو اپنے انتہاپسندانہ ایجنڈے کو چلانے کے لئے ہر خطرناک کارروائی کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ اس طرح ان ممالک میں خوراک، ادویات اور اشیائے صرف کی رَسد متاثر ہوتی ہے، لوٹ لی جاتی ہے اور عوام امدادی پروگرام سے محروم رہ جاتے ہیں۔ 

جن ممالک میں جاگیردارانہ نظام راسخ اور مستحکم ہے ان ملکوں میں غریب عوام غربت کی نچلی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان مسائل زدہ ممالک کے قرضے بھی بہت ہیں، ٹیکس بھی زیادہ ہیں، مہنگائی بھی زیادہ ہے، پھر ان ممالک میں زرعی ٹیکس بھی نافذ نہیں۔ عوام مفلوک الحال، پریشان حال مگر جاگیردار، زمیندار خوش و خرم مزے میں۔ یہ ناانصافی، معاشرتی ناہمواری اور حکومتوں کی نااہلی ہے۔ خلق خُدا کو بھوکا رکھ کر چند خاندانوں کےگودام بھرے جاتے ہیں۔ عالمی ادارۂ خوراک کے مطابق ایک صحت مند شخص مختلف اناج تقریباً 70کلوگرام ماہانہ استعمال کرتا ہے۔ فروٹ، سبزیاں دیگر الگ ہیں۔

دُنیا میں خوراک کا مسئلہ انسان کے وجود کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔ ہزاروں برس بعد زرعی طریقہ اپنایا مگر اس میں مزید تبدیلیاں تجربے ہوئے مزید ہزاروں برس بیت گئے۔ دُنیا میں شروع سے چاول کا استعمال بہت زیادہ رہا۔ آج لگ بھگ تین ارب سے زائد افراد چاول پر گزارا کرتے ہیں۔ چین، مشرق بعید اور بھارت میں چاول کی نئی نئی اقسام پر تجربہ کئے جاتے رہے ہیں۔ بڑی آبادی ایک پیالہ روکھے اُبلے چاولوں پر گزارہ کرتی ہے۔ امریکی فوڈ ایجنسی کے مطابق ایک ارب انسان بھوک کے مسئلے کا شکار ہیں۔ گوئٹے مالا میں قحط کا عالم ہے۔ چاول کا ایک پیالہ بھی نصیب نہیں۔ 

سال 2020ء کے اوائل میں کورونا نے جو آفت مچائی اس میں کچھ ممالک لاک ڈائون میں گئے، کچھ ملکوں نے نیم لاک ڈائون کیا۔ نتیجہ بیماری زیادہ علاقوں میں پھیلی۔ کاروباری سرگرمیاں معطل ہوئیں، سپلائی چین ٹوٹ گئی کم آمدن والے طبقہ کی کمر ٹوٹ گئی۔ اناج مہنگا، قوت خرید ،صفر نوبت فاقہ کشی تک آ پہنچی۔ ماہرین کووڈ۔19 کے بتدریج پھیلائو اور اس کی تباہ کاریوں کے حوالے سے مزید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان سب کی متفقہ رائے میں اب جبکہ گزشتہ تین برسوں سے عالمی خوراک کی پیداوار اور فراہمی میں کمی کا رُجحان سامنے آ رہا ہے تو ان ڈیڑھ دو برسوں بعدخوراک کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ 

افریقی سب صحرا ممالک کی حالت بہت مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔ وسطی جنوبی امریکی ریاستوں اور شام، یمن اور افغانستان میں غذائی قلّت کا بحران مزید تشویشناک صورت اختیار کر جائے گا۔ تاہم اس گھمبیر صورت حال میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ رواں سال پاکستان میں گندم کی پیداوار معمول سے کچھ زیادہ ہے۔ خدشہ ہے کہ اناج کے اسمگلرز اپنا کام نہ دکھا دیں اور گندم افغانستان اسمگل کر دیں۔ یہ سلسلہ بھی بڑے پیمانے پر جاری و ساری ہے۔ ماہرین ماحولیات کا شکوہ یہ ہے کہ اب تک ماحولیات، موسمی تغیرات، اندھادھند بارشوں، سیلاب اور پھر گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بڑے خطّوں میں شدید خشک سال کی وجہ سے فصلیں متاثر ہو رہی تھیں، تباہ ہو رہی تھیں، یہاں تک کہ کسان بھوکے مر رہے تھے۔ 

اس صورت حال میں اقوام متحدہ کا عالمی ادارۂ خوراک اور چند غیر سرکاری تنظیمیں حالات میں بہتری لانے کے لئے کوشاں تھے کہ اُوپر سے کووڈ۔19نے تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ جہاں سے چلے تھے وہیں آگئے مگر کورونا مزید حالات خراب کرتا جا رہا ہے۔ درحقیقت کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ خاص طور پر تنخواہ دار اور یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے جفاکش اپنی محدود آمدنی سے بھی محروم ہوگئے ایسے میں متعلقہ معاملات بھی متاثر ہونے لگے۔ جہاں جہاں لاک ڈائون لگایا گیا ان علاقوں کے مکینوں پر سو عذاب گزر گئے، زندگی عذاب بن گئی۔ لاک ڈائون ختم ہوا تو اکثر پسماندہ بستیوں کے مکینوں کی دُکانیں لوٹ لیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے ان حالات کے پیش نظر حال ہی میں سینیٹ سے 1.9 ٹریلین ڈالر کا بل منظور کرایا ہے تا کہ کم آمدنی والوں کو سوشل سیکورٹی کی مد میں خصوصی رقم ادا کی جا سکے۔ مگر ترقّی پذیر اور پسماندہ ممالک یہ سب نہیں کر سکتے۔ صدر جو بائیڈن نے سینیٹ سے خصوصی طور پر دو ٹریلین ڈالر کا بل مزید منظور کرا لیا ہے تا کہ انفرا اسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جائے اور ہنگامی اخراجات کی تکمیل کی جا سکے۔ انفرا اسٹرکچر میں صدر بائیڈن میڈیکل سہولیات، ڈاکٹرز اور متعلقہ اور دیگر طبّی سہولیات فراہم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

اصل مسئلہ دُنیا کے غریب ممالک کا ہے، جہاں ان میں طرح طرح کے مسائل غالب ہیں۔ جیسے ذخیرہ اندوزی، آبادی میں بے ترتیب اضافہ، ناقص زرعی منصوبہ بندی، خوراک کی تقسیم کا راسخ نظام اور افسر شاہی کی من مانیاں۔ مثلاً بھارت میں زرعی پیداوار میں بتدریج اضافہ عمل میں آ رہا ہے مگر اس کے باوجود بھارت کی پندرہ فیصد آبادی رات کو بھوکی سونے پر مجبور ہے۔

عام آدمی کی دو وقت کی سادہ خوراک پر کم از کم ڈیڑھ ڈالر خرچ آتا ہے مگر افسوس کہ دُنیا کی بارہ سے پندرہ فیصد آبادی ڈیڑھ ڈالر یومیہ کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ دو وقت سادہ خوراک سے ہی اپنی بھوک مٹا سکے۔

اگر تایخ قدیم اور قرون وسطیٰ کے اَدوار پر نظر ڈالیں تو انسانی المیوں کی ایک طویل اور دردناک تصویر سامنے آتی ہے۔ جیسے دو ہزار قبل مسیح میں مصر، اور شمالی افریقہ کے ممالک میں قحط سے لاکھوں افراد لقمۂ اَجل بنتے رہے ہیں، پھر اس پر طاعون، پلیگ، دق، فلو، مختلف بخاروں میں مبتلا ہو کر ہزاروں افراد ہر سال ہلاک ہو جایا کرتے تھے۔

خصوصاً مصر صدیوں سے سیلابوں کی زد میں رہا، دریائے نیل میں سال میں دو مرتبہ طوفانی سیلابوں اور بارشوں کے سلسلے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہوتی رہیں۔ اس پر ستم یہ کہ ریتلے طوفان، ٹڈّی دل کے حملے الگ اس طرح مصر میں قحط، خوراک کی کمی کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوتے رہے۔ بیسویں صدی میں دُوسری عالمی جنگ کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر اور روس کی دوستی رنگ لائی اور روس نے مصر میں دریائے نیل پر عظیم اسوان ڈیم تعمیر کر کے مصر کو دریائے نیل کے سیلابوں سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا دلا دیا۔ اسوان ڈیم جدید تعمیر کا نمونہ بھی ہے اور مصر کے عوام کے لئے عظیم تحفہ بھی ہے۔ 

بیسویں صدی میں بھی آئرلینڈ میں دُوسری عالمی جنگ کے بعد خوفناک قحط پڑا جس میں 26 ملین افراد ہلاک ہوئے۔ ایک سال بعد بنگال میں قحط پھوٹ پڑا جس میں پچاس سے ستّر ملین افراد لقمۂ اَجل بن گئے۔ بنگال کا قحط ایک معروف تاجر خاندان کے لالچ اور خودغرضی کا نتیجہ تھا جس نے دُوسری جنگ کے فوراً بعد بنگال کا ہزاروں ٹن چاول جاپان اسمگل کر کے کروڑوں روپیہ کمائے اور تاریخ کا ایک بڑا انسانی اَلمیہ اپنے نام لکھوا لیا مگر طرفہ تماشہ کہ اسی خاندان کو پاکستان کے قیام کے بعد خلعت فاخرہ سے نوازا گیا۔

انگریزی اُردو اور دیگر زبانوں کے اَدب میں بھوک کو تمام برائیوں کی ماں کہا گیا ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں ہے۔ بھوک انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بغیر خوراک کے ایک نارمل فرد زیادہ سے زیادہ نو سے گیارہ دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ فی الوقت دُنیا میں کم سن اور نوزائیدہ بچوں پر بڑی آفت ہے عالمی ادارہ خوراک و زراعت اور یونیسکو کے جائزوں کے مطابق ہزار بچّے 25ہزار افراد یومیہ خوراک نہ ملنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

بیسویں صدی کے پانچویں اور چھٹے عشرے میں دُنیا کا سب سے خوفناک قحط چین میں پڑا تھا جس میں آزاد ذرائع کے مطابق دو سال کے عرصے میں دو سے تین کروڑ افراد ہلاک ہوگئے۔ چین میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے جہاں درست اعداد و شمار فراہم نہیں کئے گئے مگر ہانگ کانگ کے میڈیا نے چین کے اسی قحط کے بارے میں جو اعداد و شمار شائع کئے تھے وہ کسی بھی ہوش مند کے ہوش اُڑانے کے لئے بہت تھے۔ چین میں اتنا خوفناک قحط کیوں رُونما ہوا اس کی داستان بھی عام ہے مگر پردہ بھی پڑا ہے۔

1962ء سے 1969 تک شمالی افریقہ اور سب صحارا افریقی ممالک شدید قحط اور خوراک کی کمی کے بحرانوں سے دوچار رہے جس میں 3.5 ملین افراد جاں بحق ہوگئے ان میں بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔ یورپی ممالک میں پندرھویں اور سولہویں صدی میں جو انقلابات، شورشیں بپا ہوئیں وہ سب خوراک کی کمی اور قحط کی صورت حال کی وجہ سے ہوئیں۔ انقلاب فرانس تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ یوں تو فرانس میں ایک عرصے سے خوراک کی کمی کا بحران جاری تھا۔ غریب طبقے کے افرد شدید مصائب و آلام میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ بھوک تو پھر بھوک ہے بڑھتی ہے تو آگ لگا دیتی ہے۔ 

ایسے میں پیرس کے مضافاتی علاقے میں ایک بارہ سالہ لڑکا بھوک سے بلکتا ہوا ایک بیکری کی طرف چلا گیا جہاں تازہ تازہ ڈبل روٹیاں تیار ہو رہی تھیں ، جنہیں دیکھ کر لڑکے کے ضبط کے سب بندھن ٹوٹ گئے اور وہ نہایت احتیاط سے ایک ڈبل روٹی اُٹھانے میں کامیاب ہوگیا اچانک بیکری کے مالک کی نظر پڑ گئی وہ لڑکے کے پیچھے لپکا۔ لڑکا پکڑا گیا مالک نے اس ناتواں بچّے کو کچھ اس طرح سے مارنا شروع کیا کہ وہ چند لمحوں میں ہلاک ہوگیا۔ ایسے میں اطراف کی پبلک نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور سارا دن پیرس کی سڑکوں پر آگ اور خون کا کھیل کھیلا گیا۔ یہ ہنگامہ دبا دیا گیا۔ اس طرح کے واقعات برطانیہ اور اٹلی میں بھی رُونما ہوتے رہے مگر وہ ریکارڈ پر نہیں ہیں۔

عام طور پر جنگوں، شورشوں، وبائی امراض، دیگر قدرتی آفات کے اَدوار میں لالچی اور طمع پسند تجارتی حلقے اناج کی ہولڈنگ کر لیتے ہیں اور منڈی میں کمی پیدا کرکے اشیاء کے دام دُگنے کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں یہ عمل اس دور میں زیادہ دکھائی دیا تھا جب مشرقی پاکستان ملک کا حصہ ہوتا تھا۔ منڈی میں شور ہوتا کہ دیکھو چٹاگانگ میں سیلاب آ گیا، دیکھو نواکھالی میں سیلاب آ گیا اور اچانک اشیائے صرف کے دام بڑھ جاتے تھے۔ 

اس کے علاوہ اناج پر حکومت سبسڈی دیتی رہی ہے آج بھی دے رہی ہے مگر منڈی پر چھائے عناصر یہ ثمرات عوام تک پہنچنے نہیں دیتے جس طرح حال ہی میں چینی کے بحران میں نظر آیا۔ واضح رہے کہ صدر ایوب خان کے خلاف تحریک چلانے میں چینی کے بحران کا بھی بڑا ہاتھ تھا، کہا جاتا ہے چینی کا وہ بحران بھی مصنوعی تھا اور حالیہ بحران بھی مصنوعی ہے۔

فی الوقت ایشیا میں یمن سب سے زیادہ خوراک کی کمی کا شکار ہے، روزانہ سیکڑوں بچّے خوراک نہ ملنے، اَدویات کی کمی کا شکار ہو کر ہلاک ہو رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس یمن میں دو اہم مسلم ممالک اپنی پراکسی وار لڑ رہے ہیں۔ ہر دو جانب مسلمان شہید ہو رہے ہیں۔ 

پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے، مرنے والوں کی صحیح تعداد نامعلوم ہے مگر ذرائع بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت دُنیا کی اہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں جلد جنگ بند نہ ہوئی تو بڑا انسانی سانحہ رُونما ہو سکتا ہے۔

دُنیا میں خوراک کی کمی کے حوالے سے بہت سی رپورٹیں، جائزے اور سروے شائع ہو چکے ہیں مگر ایک سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دُنیا میں اناج کی پیداوار اتنی ہے کہ اگر دس اَرب انسان دُنیا میں ہوں تو اُن کو بھی پوری خوراک مل سکتی ہے جبکہ اس وقت دُنیا کی آبادی سات اَرب اَسّی کروڑ کے قریب ہے پھر بھی خوراک کی کمی کا واویلا سُنائی دیتا ہے۔ یہ خبر واقعی چونکا دینے والی ہے، آخر اتنا زائد اناج کہاں چلا جاتا ہے۔ اس پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔

البتہ یہ بھی ایک نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ دُنیا میں سالانہ 1.3بلین ٹن خوراک ضائع جاتی ہے۔ ضائع ہونے والی خوراک کی لاگت 690 بلین ڈالر بنتی ہے۔ خوراک ضائع کرنے والے ممالک میں غریب اور متمول ممالک دونوں شامل ہیں جیسے سعودی عرب، نائیجیریا، یونان، عراق، آسٹریلیا، کینیا، میکسیکو، ایتھوپیا، فرانس، ملائیشیا، کینیڈا، انڈونیشیا اور برطانیہ ہیں۔ ان ممالک میں متموّل افراد اور غریب طبقہ کے افراد شامل ہیں۔ ایک طرف لاکھوں افراد بھوک سے بلک رہے ہیں دُوسری طرف ٹنوں خوراک ضائع جا رہی ہے۔

ماہرین خوراک اور زراعت کا کہنا ہے کہ کرۂ اَرض پر موسمی تغیرات کے جو اَثرات نمایاں ہو رہے ہیں اس میں یہ خدشات بڑھ رہےہیں کہ ایسے میں خوراک کی کمی، فراہمی، قیمتوں میں استحکام بڑے معرکہ بن کر سامنے آ سکتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میںبعض ممالک میں شدید موسلادھار بارشوں کی وجہ سے سیلاب اُمڈ آئے اور فصلوں کو زبردست نقصانات ہوئے۔ بعض ممالک میں اس کے برعکس گلوبل وارمنگ کی وجہ سے زمینوں کا بڑا حصہ خشک سالی کا شکار ہوا۔ 

فصلیں اُگانے کا کوئی موقع نہ تھا۔ کچھ ممالک شدید برف باری کی زَد میں رہے جہاں سال میں بمشکل ایک فصل بوئی جاتی ہے اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ ماہرین ماحولیات کا مزید کہنا ہے کہ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ خطرناک ترین مسئلہ یہ ہے کہ ماحول کے بگاڑ اور آلودگی میں اضاف کی وجہ سے جو نئی نئی وبائی بیماریاں سامنے آ رہی ہیں یہ مزید خطرناک ہیں۔ کورونا وائرس سے ابھی پوری طرح بچائو نہیں ہوا ہے اگر اس کے ساتھ ہی کوئی نیا وائرس پھوٹ پڑا تو کیا ہوگا؟

دُنیا کو کسی ایک مسئلے کا نہیں بلکہ ہمہ جہت مسائل کا سامنا ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں خوراک کی صورت حال پر ایک جائزہ رپورٹ سامنے آئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خوراک کی پیداوار قابل اطمینان ہے۔ حکومت قیمتوں میں استحکام کے لئے اپنے طور پر کوشاں ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر سالانہ 36ملین ٹن خوراک ضائع ہو رہی ہے جبکہ ہزاروں افراد رات کو بھوکے سوتے ہیں۔ صرف اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں 870 کلوگرام خوراک یومیہ ضائع جاتی ہے۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق عوام میںسوک سینس کے فقدان کی وجہ سے شادی اور دیگر تقریبات میں کھانا بہت ضائع کیا جاتا ہے،۔ تاہم بعض افراد ضائع کھانا جمع کر کے ہوٹلوں کو بھی فروخت کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں حکومت سمیت سول سوسائٹی کی فعال تنظیموں کو بھی اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور عوام میں یہ شعور اُجاگر کرنا ضروری ہے کہ خوراک ضائع نہ کریں یہ گناہ عظیم ہے اورانسانیت کے حوالے سے بھی یہ انتہائی نامناسب عمل ہے۔