• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدرتی ماحول اور انسانیت کو لاحق شدید خطرات

ماحولیات یا قدرتی ماحول کا مطلب ہے انہیں ماحول، آبی ماحول اور فضائی ماحول، کرہ ارض پر اور اس کے اردگرد جو کچھ ہے وہ قدرتی ماحول کا حصہ ہے، ماحولیات کے مسائل میں کچھ مسائل قدرتی طور پر موسمی تبدیلیوں سے رونما ہوتے ہیں مگر مسائل میں انسانی عمل اور طمع نے بہت سے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ جس سے کرہ ارض کا قدرتی ماحول بتدریج بگڑتا جا رہا ہے۔ مگر انسان کو اس کی پرواہ نہیں ہے وہ اپنے معمولات اور سرگرمیوں میں محو ہے۔ ماحولیاتی سائنس کے ماہرین، ارضیات داں مسلسل ماحولیات کے مسائل پر بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ لکھ رہے ہیں اور دنیا کو درپیش مسائل خدشات کے الگ الگ مسائل ہیں، مفادات ہیں اور معاشی مسئلے زیادہ اہم ہیں ایسے میں انسان کچھ کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ 

جبکہ دنیا کا سیاسی معاشی اور سماجی نظام اس قدر پیچیدہ ہیں کہ کمزور پسپا ہوتا رہا ہے اور طاقت کا بول بالا ہے۔ مگر کھلی سچائی یہ ہے کہ انسانوں کا بنایا ہوا نظام کمزور انسانوں کا استحصال تو کر سکتا ہے مگر قدرت اور قدرتی نظام کا استحصال نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جو کچھ کیا جا رہا ہے قدرتی ماحول اس کا جواب دے رہا ہے۔ قدرتی نظام سے بگاڑ کا نتیجہ بہت تشویشناک ہو سکتا ہے بس اس کی سنجیدگی سے سمجھنا ہو گا کہ زمین کا درجہ حرارت کیوں بڑھ رہا ہے۔ سمندروں کی سطح کیوں بتدریج بلند ہو رہی ہے۔ موسمی تغیرات کے اسباب کیا ہیں۔ 

سیلاب کیوں اُمڈ رہے ہیں۔ طوفانی بارشیں کیوں تباہی پھیلا رہی ہیں۔ گلوبل وارمنگ کیا کیا ستم ڈھا رہی ہے۔ پہاڑوں پر صدیوں سے جمی برف کیوں پگھل رہی ہے۔ خشک سالی قحط اور وبائی امراض میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے۔ مختصر یہ کہ ان سب سوالوں کے جواب انسان کے پاس ہیں۔ وہ قدرتی آفات اور ماحولیات میں بگاڑ کے اسباب سے بھی آگاہ ہے مگر مسئلہ وہی طمع، مفادات، خواہشات کی تکمیل اور اپنی اپنی اجارہ داریوں کو قائم و دائم رکھنے کی دوڑ اور تگ و دو کا ہے۔ قدرتی ماحول میں بتدریج بگاڑ میں اضافہ کا سب سے اہم مسئلہ دنیا کی آبادی میں بے ہنگم اضافہ ہے۔ افریقہ براعظم ایشیا اور لاطینی امریکہ کے بیش تر ممالک میں اپنی آبادیوں میں اضافہ پر کوئی کنٹرول نہیں اور نہ ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں اس بڑے انسانی مسئلے کو خاصی اہمیت دیتی ہیں۔ 

نتیجہ سامنے ہے کہ غریب ممالک جہاں آبادیاں زیادہ ہیں۔ غربت، پسپماندگی، جہالت، مختلف تعصبات اور ناانصافی عام ہیں ان ریاستوں اور معاشروں میں مزید آبادی میں اضافہ کس قدر خوفناک مسئلہ ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ یہ نوشتہ ٔ دیوار ہے۔ مثلاً وسطی افریقی، مشرقی اور مغربی افریقی ممالک اور ان کے پسماندہ معاشروں پر نظر دوڑائیں کہ ان ممالک کے عوام کی اکثریت کو دو وقت کی روٹی، پینے کا پانی بیماروں کو دوائیں نصیب نہیں ہیں۔ بیروزگاری، مہنگائی، جہالت، غربت اور ناانصافی عام ہے۔ تعلیم کی کمی نے معاشروں کو مختلف تعصبات نے گھیرا ہوا ہے۔ مفاد پرست اور رجعت پسند ٹولے عوام کو رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے عنوان سے آپس میں دست و گریباں رکھتے ہیں۔

انسانی تاریخ کا یہ ایک المیہ رہا ہے کہ جب جب کسی قوم نے طاقت، لیاقت اور ثروت حاصل کی اس نے مزید کے لالچ میں اپنی حاکمیت قائم کرنے کے جنون میں دیگر معاشروں کو تباہ و برباد کیا۔ اس کی نمایاں مثال یورپی ممالک میں نشاۃ ثانیہ کی تحریکیں ہیں۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں یورپی اقوام نے احیائے علوم کے بعد اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر اقوام پر اپنی حکمرانی قائم کرکے ان ملکوں کو اپنی نو آبادیات بنا لیا اور ایک طویل عرصے تک برطانوی، فرانسیسی، ہسپانوی، ٭٭٭٭ پرتگیزی اور دیگر نے ایشائی، افریقی اور لاطینی امریکی اقوام کو استحصال کیا ان ملکوں کے قدرتی وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا۔ 

ان ملکوں کے عوام کو تعلیم، تحقیق جدید علوم سے دور رکھا گیا۔ اس کے بجائے اپنی اپنی نوآبادیات میں ان یورپی ممالک نے مختلف تعصبات کو ہوا دے کر ان معاشروں کو تقسیم کرکے لڑائو اور حکومت کرو کے طریقہ کار پر عمل کیا جس سے آج کے ترقی پذیر معاشرے مزید غربت، پسماندگی اور جہالت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ پھر ان یورپی طاقتوں نے اپنی اپنی نسل زبان اور مفادات کی خاطر عظیم جنگیں لڑیں اور دنیا کو مزید مسائل میں جھونک دیا۔ 

بعدازاں انیسویں صدی اور پھر بیسویں صدی کے دو صنعتی انقلاب نے مغربی ممالک کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی حدود سے روشناس کروایا۔ بیسویں صدی میں دو عظیم جنگوں کے بعد یورپی ممالک نے امریکہ کی سرپرستی میں ترقی اور مفادات کی جدوجہد کا ایک نیا دور شروع کیا۔ جس میں ترقی پذیر ممالک مزید گھاٹے میں رہے۔ مگر مغربی ممالک کی طمع بڑھتی جا رہی ہے۔ دیگر ممالک کے قدرتی وسائل کا استحصال نئے نئے طور طریقوں سے جاری رہے۔

دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک کا قدرتی کوئلہ، سویا، تانبا، جیپسم، چاندی، سونا، قدرتی گیس اور تیل مغربی ممالک کے کارخانوں میں ان کی صنعتی ترقی اور پیداوار میں اضافہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ ترقی پذیر غریب ممالک مزید پسماندگی، غربت، قرضوں اور دیگر مسائل میں الجھتے جا رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں مغربی طاقتوں کے ہمنوا طبقات ترقی پذیر ملکوں کے استحصال میں مغربی طاقتوں کے لئے اہم ہاتھ ہیں جو ان کا کھاتے اور گاتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی مسابقت اور طمع دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کی پسماندگی اور کمزور حکمرانی، مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس طرح ہر جانب سے قدرتی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔ جیسے دنیا کی سپر پاور امریکہ دنیا کی آلودگی میں ایک چوتھائی کا ذمہ دار ہے۔ اس کے بعد تقریباً امتناہی چین بھی ذمہ دار ہے۔ اس کے بعد بھارت، برازیل، ارجنٹینا، فرانس، برطانیہ، اسپین، پرتگال اور دیگر ممالک ہیں۔ فضائی آلودگی میں گرین ہائوس گیسوں نے قدرتی کوئلہ کا استعمال، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی کارخانوں کا دھواں اور دیگر آلات اور بجلی کی اشیاء کا استعمال اور ان میں اضافی آلودگی میں اضافہ کا سبب ہے ۔ 

آبی آلودگی یا سمندری آلودگی بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے اوزون کی دبیز تہہ متاثر ہوئی۔ جس کی وجہ سے سورج سے خارج ہونے والی الٹرا وائلیٹ شعاعیں یا بالائے بنفشی شعاعیں زمین پر براہ راست پہنچ رہی ہیں جس کی وجہ اوزون کی قدرتی تہہ میں حدت سے پیدا ہونے والا شگاف ہے جس کا پہلا تجربہ آسٹریلیا میں ہوا تھا۔ اس کے بعد دنیا کے تمام ماہرین ماحولیات سمیت سائنس دانوں نے اس طرف توجہ مرکوز کی تب پتہ چلا کہ اس کرہ ارض کو کس قدر شدید خطرہ لاحق ہو رہا ہے تب سب نے سرجوڑ کر کرہ ارض کے قدرتی ماحول کو بہتر بنانے اور اوزون کی تہہ یا غلاف میں پڑنے والے شگاف کو بند کرنے پر غور شروع کر دیا۔ 

اگر یہ کیا جائے تو شائد غلط نہ ہو گا کہ اوزون میں پیدا ہونے والے شگاف اور آسٹریلیا کے ساحلوں پر غسل آفتابی میں مصروف چند لوگوں کے جسم پر نکل آنے والے دانوں نے پھر ان دانوں کے فوری اثرات نے دنیا کو دم بخود کر دیا۔ اس کے فوری بعد دنیا میں قدرتی ماحول اور کرہ ارض کے تحفظ کے عنوان سے دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس میں برازیل میں منعقد ہوئی۔ 

اس کے بعد قابل ذکر کیوٹو معاہدہ عمل میں آیا۔ بعدازاں مختلف ممالک میں ماحولیات میں سدھار کے لئے کانفرنسیں، سیمینار، لیکچرر ہوتے رہے پھر چند برس قبل پیرس میں دنیا کے سربراہوں کی بڑی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں سو سے زائد ممالک کے سربراہوں، سینکڑوں سائنس دانوں، ماہرین سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی تھی جس میں ایک وسیع تر جامع معاہدہ پر سب نے دستخط کئے ہیں۔ اس حالیہ معاہدہ کی رو سے دنیا کے تمام ممالک، تمام معاشرے اور انسان اس امر کے پابند ہیں کہ وہ فضائی، سمندر، زمینی اور اطراف کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔

مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ باوجود بڑے بڑے عالمی معاہدوں، رپورٹوں اور تشویشناک خبروں کے فضائی آلودگی، سمندری اور آبی آلودگی، زمینی آلودگی میں کوئی نمایاں کمی نظر نہیں آرہی بلکہ حالیہ جائزوں کے مطابق قدرتی ماحول مزید بگڑتا جا رہا ہے۔ حالیہ جائزوں اور رپورٹس میں بھی کہا جا رہا ہے کہ کرہ ارض کے قدرتی ماحول میں اس قدر بگاڑ پیدا ہو چکا ہے کہ آئندہ صدی تک اس زمین پر انسانیت کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے کا خطرہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ انسان کی اپنی کوتاہیاں ہیں، جدید طرز زندگی اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کا لالچ ہے جس کے لئے وہ ہر حد سے گزرنے کیلئے تیار ہے۔ المیہ یہ کو سائنس دان اور ماہرین جن اشیاء کے استعمال سے منع کرتے رہے اور طرز حیات میں تبدیلی پر زور دیتے رہے مگر انسان نے اس پر قطعی کان نہیں دھرے۔ مثلاً پلاسٹک بیگ کا بڑھتا ہوا استعمال، پلاسٹک کی بوتلوں اور دیگر اشیاء کا بڑھتا ہوا استعمال، اس نوعیت کا دیگر کوڑا کرکٹ جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ 

وہ سب زمین پر یا سمندر میں پھینکا جاتا ہے۔ زراعت میں بعض مضر دوائوں کا استعمال زمینی ماحول اور پانی کو زہرآلود کر رہے ہیں۔ سمندر میں روزانہ دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک اپنا تمام کوڑا کرکٹ سمندر برد کرتے ہیں اور بلین ٹن کوڑا کرکٹ سمندری حیاتیات کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں سمندری حیاتیات کی ہزاروں اقسام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نابود ہو چکی ہیں۔ ماہی گیری کے جدید طریقوں سے روزانہ لاکھوں ٹن مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں۔ مگر کارخانوں، زرعی زمینوں کا آلودہ پانی اور دیگر کوڑا زہریلا مواد جو سمندر میں پھینکا جاتا ہے۔ اس سے مچھلیوں کی بیش تر اقسام نایاب ہو چکی ہیں اور انسان اپنی ان کوتاہیوں سے سمندر سے حاصل ہونے والی قیمتی خوراک کو کم کرتا جا رہا ہے اسی خوراک کو اور دیگر اجناس اور پھلوں کو بھی زہر آلود کرتا جا رہا ہے۔ 

حرص اور لالچ جدید طرز زندگی اور خواہشات نے انسان کو اس قدر بے۔ حس بنا دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے حالیہ تحقیقی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال دنیا میں ایک ارب ٹن سے زائد پکی ہوئی خوراک یا کھانا کوڑے کی نذر ہو جاتا ہے۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ ہر فرد سالانہ 74 کلو خوراک کوڑے دان کی نذر کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صرف امیر ممالک میں نہیں ہو رہا ہے۔ بلکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ طرز عمل ہے۔ جبکہ ماہرین حیران ہیں کہ غریب ممالک کروڑوں عوام کم خوراک یا فاقوں کا شکار ہیں۔’’ تاہم بعض ممالک میں غیر سرکاری تنظیموں نے اپنی اپنی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خوراک کے ضائع ہونے کے عمل کو روکنے یا اس ضائع کردہ کھانے کو استعمال کرنے کے طریقہ کار پر غور کرے تاکہ خوراک ضائع نہ ہو سکے اور غریب افراد میں تقسیم کی جا سکے۔ مگر خدشہ ہے کہ ایسی کسی اسکیم پر عمل نہیں ہو گا۔ 

بہتر طریقہ یہ ہے کہ گھروں میں کھانا پکانے پر مامور افراد کو یہ آگہی فراہم کی جائے اور انہیں اس پر راضی کیا جائے کہ انسانیت کی خاطر کھانا پکانے میں اعتدال اور ضرورت کا پورا خیال رکھا جائے تاکہ خوراک ضائع نہ ہو سکے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ دنیا میں بعض کمیونٹیز ایسی بھی ہیں جو کھانا صرف اتنا پکاتی ہیں جتنا ان کے گھروں میں صرف ہوتا ہے وہاں خوراک کو کوڑے دان میں ڈالنا بہت معیوب تصور کیا جاتا ہے بلکہ بعض لوگ اس کو عظیم گناہ بھی قرار دیتے ہیں۔ معروف ماہر ماحولیات ڈاکٹر بروکیر نے کہا تھا کہ آب و ہوا کا نظام کسی ناراض جنگلی جانور جیسا ہے جس کو ہم نے چھیڑ چھاڑ کرکے مزید ناراض کر دیا ہے اگر یہ وتیرہ جاری رہا تو پھر اس جنگلی جانور کی ناراضی اور غصہ ہمیں بہت مہنگا پڑے گا جو نظر آ رہا ہے۔

امریکی خلائی سائنسی ادارے ناسا کے ایک حالیہ جائزہ کے مطابق دنیا میں پینے کے صاف پانی کے ذخائر میں نمایاں کمی آتی جا رہی ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں برفانی پہاڑ اور گلیشئرز ہیں وہاں برف کے پگھلنے کا عمل تیز ہوتا جا رہا ہے۔ شمال بحراوقیانوس میں واقع دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ جو غیر آباد ہے گرین لینڈ اس عظیم جزیرے پر موجود برف کی دبیز تہیں مسلسل سکڑتی ٹوٹتی جا رہی ہیں۔ قطب شمالی کا بھی یہی حال بتایا جاتا ہے۔ مگر قطب جنوبی میں انٹارکٹیگا کے عظیم برفانی ذخائر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں ابھی حال ہی میں قطب جنوبی میں عظیم برفانی جزیرہ کی بہت بڑی پٹی میں کئی کلو میٹر طویل شگاف پڑ چکا ہے اور لگتا ہے یہ جزیرہ کا کئی کلو میٹر برفانی خطہ بہہ کر سمندروں میں شامل ہو جائے گا۔ جس سے سمندروں کی سطح میں نمایاں بلندی عدد کر آئے گی یوں بھی سمندروں کی سطح بتدریج بڑھ رہی ہے اور ماہرین کا دعویٰ ہے کہ آئندہ پچاس برسوں میں دنیا کے ایک سو چالیس ساحلی شہر اور چھوٹے جزیرے شدید طور پر متاثر ہو سکتے ہیں جس سے انسانی جانور، اسلامک اور ماحول کو زبردست خطرات لاحق ہوں گے۔

واضح رہے کہ دنیا میں صاف پانی کے بڑے ذخائر میں سب سے بڑا برفانی ذخیرہ ہمالیائی پہاڑوں کا عظیم سلسلہ ہے جو براعظم ایشیا کے جنوب خطہ میں پھیلا ہوا ہے۔ جو چین، بھارت، پاکستان ، نیپال اور بھوٹان کی سرحدوں پر واقع ہے۔ ان پہاڑوں پر جمی صدیوں سے قائم برفیلی چٹانیں اور گلیشئرز اب گلوبل وارمنگ کے اثرات سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں بڑے گلیشئرز کے ٹوٹنے کا واقعہ شمالی بھارتی ریاست میں پیش آیا ایسا ہی واقعہ پاکستان کے شمالی خطے میں بھی وقوع پذیر ہوا ہے۔ جس سے ہر دو جانب بڑے نقصانات ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ بڑے چھوٹے گلیشئرز ٹوٹ چھوٹ کا شکار ہوں گے۔

اس تشویشناک صورتحال کے باوجود بیش تر لوگوں کی رائے میں یہ سب کچھ قدرتی عمل کا حصہ ہے۔ اس دنیا میں صدیوں سے موسم کبھی سرد کبھی گرم اور کبھی تر ہوتا رہا ہے۔ زلزلے، سیلاب، طوفان، آندھیاں، جنگلوں کی آگ سب کچھ ہوتا آیا ہے۔ اس تمام معاملے کو قدرت پر ہی چھوڑ دیا جائے۔ تو مناسب ہے۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگوں میں ایک سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور ان کے ہمنوا بھی شامل ہیں۔ 

بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں بیش تر سائنس دان اور ماہرین اس بات پر یقین رکھتے اور دلائل پیش کرتے ہیں کہ دنیا کے قدرتی ماحول میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں یہ سب کچھ قدرتی سائیکل کا نتیجہ ہے جو صدیوں صدیوں سے جاری رہے مگر بعض تحقیقی ادارے اور ان کے کرتا دھرتا کثیر فنڈز جمع کرنے اور اداروں کے سالانہ بجٹ میں اضافے کے لئے ماحولیات میں بگاڑ، کرہ ارض کو خطرہ ہے اس لئے کرہ ارض کے اور اس کے قدرتی ماحول کے تحفظ کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ان کا مؤقف یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا نہ جائے معاشروں میں سنسنی نہ پھیلائی جائے۔ اس نقطہ نظر کی حمایت کرنے والے بڑے چھوٹے صنعت کار اپنی پیداوار اور منافع میں اضافہ کے لئے قدرتی ماحول کی پر واہ کئے بغیر اپنے معمولات میں مگن نظر آتے ہیں امیر اور طاقتور ممالک اپنا قدرتی کوئلہ کم استعمال کرتے اور یہ کوئلہ غریب ترقی پذیر ممالک کو فروخت کرکے اپنے ہاتھ جھٹک لیتے ہیں کہ ماحول کو بہتر بنانے اور آلودگی میں اضافہ کو روکنے کے لئے ہم ماحول دوست اقدام کر رہے ہیں۔ 

سائنس دانوں کی واضح اکثریت گلوبل وارمنگ پر یقین رکھتی ہے۔ ماہرین موسمی تغیرات کی ٹائم مشین دراصل سمندری سطح، فضا میں کاربن کی مقدار، گلیشئرز کے پگھلنے اور کرہ ارض کے درجہ حرارت کو تصور کرتے ہیں۔ تاہم یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسان نے اس کرہ ارض کے قدرتی ماحول کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ جس کے نتائج سامنے آرہے ہیں مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ بیش تر ماہرین اس بات کو تسلیم کرنے سے اب بھی انکاری ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ سائنس دانوں اور ماہرین کے نزدیک کرہ ارض کے قدرتی ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ اس میں پہلا تشویشناک مسئلہ آبادیوں میں بے ہنگم اضافہ ہے۔ مثلاً جنوبی ایشیا، مشرق بعید، افریقی ممالک اور لاطینی امریکی ممالک میں آبادی میں اضافہ کی شرح نسبتاً زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان ممالک کے معاشرے مزید غربت، پسماندگی، جہالت، صحت عامہ کی سہولتوں کے فقدان اور بیروزگاری کا شکار ہیں۔ مزید یہ کہ قدرتی آفات جیسے گلوبل وارمنگ، سیلاب، موسلادھار بارشیں، آندھیاں، طوفان، خشک سالی، پینے کے پانی اور خوراک قلت جیسے مسائل کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ نسلی، مذہبی اور قبائلی تعصبات اور طرز معاشرتے ان ملکوں کے عوام کو آبادی میں اضافے پر اُکساتے ہیں ان افراد کی نظر میں بڑا خاندان، بڑی برادری اور بڑا قبیلہ ان کے تحفظ کی ضمانت ہوتا ہے۔ 

اس نوعیت کے واضح نظریات نے آبادی کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ صرف ہندوستان اور چین کی آبادیاں دو ارب ستر کروڑ سے زائد ہے۔ اس کے بعد جنوب مشرقی ایشیا میں بنگلہ دیش، پاکستان، انڈونیشیا، فلپائن اور دیگر ممالک میں بھی آبادیاں زائد ہے۔ براعظم ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو آج کے دور اور آئندہ آنے والے ادوار کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں قدرتی ماحول میں بگاڑ اور عالمی مفادات کی رسہ کشی کی وجہ سے، عالمی نظام میں ناہمواری کی وجہ سے جو مسائل جنم لے رہے ہیں ان کا سامنا کرنا کے لئے اپنی اپنی معیشوں کو مستحکم بنانے، تعلیم، صحت عامہ اور انتظامی شعبوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔ آج کے انسان کو جدید ٹیکنالوجی کی سہولتیں حاصل ہیں۔ اس سے بھرپور فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور معاشروں کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ عصری تقاضوں کی تکمیل کے لئے عصری جدید نظریات کو ملحوظ رکھ کر میں سامنا کیا جا سکتا ہے۔

خوش آئند بات یا پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف ممالک کی بیشتر غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے علاقوں میں ٹنوں کے حساب سے پھینکے جانے والا کوڑا کرکٹ جس میں پلاسٹک کا سامان، کانچ کی بوتلیں، پرانے ٹائر، کاغذی ردی اور دیگر بیکار سامان ہوتا ہے۔ اس کو جمع کر کے اور انہیں الگ الگ کرے، سائیکلنگ یا دوبارہ قابل استعمال اور کارآمد بنانے والے کارخانوں کو فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح اس کام سے وابستہ افراد کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کوڑا چننے کا کاروبار ایک طرح سے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ 

آسٹریلیا، جاپان ،امریکہ، کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی سمیت بیشتر دیگر ممالک میں کوڑا کرکٹ سے دوبارہ قابل استعمال مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ ایک محتاط جائزہ کے مطابق کوڑا کرکٹ دوبارہ کارآمد بنانے والی صنعت ایک سو ارب ڈالر سالانہ کما رہی ہے۔ کوڑا کرکٹ کا سب سے بڑا حصہ چین کا ہے۔ پھر امریکہ، بھارت، برازیل اور یورپی ممالک ہیں۔ چین میں ہزاروں افراد اس خود ساختہ پیشہ سے وابستہ ہیں اور ٹنوں مختلف بیکار اشیاء دوبارہ کار آمد بنانے والے کارخانوں تک پہنچاتے ہیں۔ کوڑا کرکٹ کو دوبارہ کارآمد بنانے والے کارخانے اربوں ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔

کوڑا کرکٹ کو دوبارہ کا بل استعمال بنانے کے لئے مزید ممالک میں بھی سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔ گتے کے خالی ڈبے، لکڑی کے بعض اشیاء اور کاغذی ردی کو دوبارہ کا آمد بنا کر ان سے نئے گتے کے ڈبے، اخباری کاغذ اور کاغذ کی دیگر اشیاء تیار کی جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے مالز اور اسٹورز میں دوبارہ کارآمد بنائی جانے والی اشیاء کے اسٹال الگ اور نمایاں طور پر ڈسپلے کئے جاتے ہیں اور ان ممالک کے صارفین دوبارہ کارآمد بنائی جانے والی اشیاء کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں جو خوش آئند ہے۔ ان صارفین کا کہنا ہے کہ ہم اس طرح قدرتی ماحول کے تحفظ کی کوشش میں اپنا بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔ 

قدرتی ماحول کو بہتر بنانے آلودگی میں اضافہ کی روک تھام کیلئے جو اقدام کئے جا رہے ہیں ان میں سولر کاروں اور الیکٹرک کاروں کی تیاری اور ان کاروں کی طلب میں اضافہ بھی خوش آئند ہے کرہ ارض کے قدرتی ماحول میں سدھار لانے اور بگاڑ کرنے کے اقدام کی روک تھام میں ایک روشنی کی کرن ہے۔ جوں جوں آگہی میں اضافہ ہو گا انسانوں کو اپنی آئندہ نسلوں کی بقاء کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کا موقع پر آئے گا۔ اس طرح انسان قدرتی ماحول کے تحفظ میں سنجیدہ ہوتا جائے گا۔ مگر خیال ہے کہ انسان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے جو کرنا ہے وہ کام جلد شروع کر دے۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔