• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جہاں شہباز شریف ہوں وہاں میرا ہونا ضروری نہیں: مریم نواز


مسلم لیگ نون کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ جہاں شہباز شریف خود موجود ہوں وہاں میری موجودگی ضروری بھی نہیں۔

مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کی، اس موقع پر ان سے ایک صحافی نے سوالی کیا کہ آپ شہباز شریف کے عشائیے میں شریک نہیں ہوئیں کیا کوئی چپقلش ہے؟

مریم نواز نے صحافی کے سوال پر جواب دیا کہ ہر چیز کو چپقلش بنانا چھوڑ دیں، میں پارلیمنٹیرین نہیں، شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر کا کردار ہے، انہوں نے پارلیمنٹیرینز کو عشائیہ دیا، میری عدم موجودگی کو ایشونہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے بطور اپوزیشن لیڈر عشائیے کی میز بانی کی تھی، ان کے عشائیے میں بجٹ سیشن کی پلاننگ تھی، اس کا پی ڈی ایم سے کوئی لینا دینا نہیں، شہباز شریف کا ڈنر پی ڈی ایم کا ڈنر نہیں تھا، شہباز شریف کے عشائیے کے معاملے کو کنفیوژ نہ کریں۔

نون لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا تھا کہ رمضان کے بعد میٹنگ میں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی، پی ڈی ایم کی میٹنگ آج کل میں ہونے والی ہے، شو کاز نوٹس کا جواب نہیں آیا، جب آئے گا تو دیکھیں گے کہ کتنا ٹھوس جواب ہے اور اس کا کیا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی صورت میں روز عوام پر ایک قیامت ٹوٹتی ہے، اپوزیشن کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ مہنگائی کے معاملے کو اٹھائے۔

مریم نواز نے شاہد خاقان عباسی کے بیان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان نے پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کی شمولیت پرجنرل سیکریٹری کی نشست چھوڑنے کا کہا تھا، شاہد خاقان عباسی کا جو مؤقف ہے میرا بھی وہی مؤقف ہے، اس معاملے پر نون لیگ اور مولانا فضل الرحمٰن کا ایک ہی مؤقف ہے، شہباز شریف کی بطور اپوزیشن لیڈر کچھ ذمے داریاں ہیں جو وہ نبھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، کوئی نیا اتحاد نہیں ہے، پی ڈی ایم کی میٹنگ آج کل میں ہونے والی ہے، یہ تو 4 سال سے منصوبے بنا رہے ہیں، بد نیتی سے کیا ہوا سارا کام آپ کے سر پر ہی آئے گا اور آ رہا ہے، ان کی پلاننگ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نائب صدر نون لیگ نے کہا کہ شاہد خاقان نے وہ ہی مؤقف پیش کیا جو نون لیگ کا ہے، انہوں نے بالکل ٹھیک بات کی، شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر عشائیہ دیا، اس سے پی ڈی ایم کا کوئی لینا دینا نہیں، پی ڈی ایم کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ غلط اعداد و شمار دکھا کر گمراہ کیا جا رہا ہے، جو ان کے اپنے لوگ بھی ماننے کو تیار نہیں، گروتھ کا اعداد و شمار سے ہٹ کر صحیح پیمانہ دیکھنا ہے تو آئیں غریب کے گھر چلیں، آئیں میرے ساتھ کسی سبزی منڈی چلیں اور دیکھیں وہاں حالات کیا ہیں، مہنگائی نے لوگوں کی زندگیوں کو عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم بیٹھے گی اور اپنا فیصلہ کرے گی، پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک کیلئے ہمارے پاس مطلوبہ نمبر سے زیادہ موجود ہیں، ارشد ملک کی گواہی کے بعد نوازشریف کے تمام کیسز ختم ہونے چاہئیں، شوکت عزیز کی گواہی کے بعد میرے کیسز ختم ہونے چاہئیں، سیاسی کیسز ہیں، انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی نے کہا کہ ریورس انجینئرنگ ہوگی تو نظر آ جائے گی، ابھی تک تو نظر نہیں آئی، ایک چیئرمین نیب کو ہٹائیں گے کوئی ویسا ہی دوسرا چیئرمین نیب لے آئیں گے، چیئرمین نیب کا ایشو نہیں ہے، جو نیب سے اس طرح کے کام لیتے ہیں ان کا ایشو ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب سیاسی انتقامی کارروائیوں میں استعمال ہوئے ہیں، انہیں استعمال کرنے والے زیادہ گناہ گار ہیں، چوہدری نثار تو آزاد رکن ہیں، نون لیگ سے کوئی تعلق نہیں۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ اگر وزیرِ اعلیٰ کے لیے چوہدری نثار کا نام سامنے آتا ہے تو؟

مریم نواز نے کہا کہ مجھے ان سازشوں کا کوئی علم نہیں، جو یہ سازشیں کرتے ہیں ان سے پوچھیں۔

ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ آرڈیننس کی وجہ سے کیا سینیٹر اسحاق ڈار حلف اٹھانے آئیں گے؟

مریم نواز نے جواب دیا کہ پہلے صدارتی آرڈیننس دیکھنے دیں اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید