• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم نے دنیا کی ہر زبان میں، ہر سلطنت، ہر حکومت کے زوال کے اسباب پڑھے ہیں۔ مثلاً مغلوں میں کتنے بیٹوں نے باپ کو قید کرکے حکومت کی۔ کس مغل بادشاہ نے سارے بھائیوں کو قتل کروایا پھر بادشاہ بنا، زندگی کے آخری دنوں میں ٹوپیاں سینے لگا اور مرہٹے علاقے پر قابض ہوگئے۔ ہر کتاب میں پہلے لکھا ہوتا تھا کہ حکومت انگلیسیا کاسورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اب وہ ایک چھوٹا سا ملک رہ گیا جس میں شہنشاہت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اندلس میں چھ سوسال تک مسلمانوں کی شاندار حکومت رہی اور الحمرا جیسے محلات کو آج بھی دیکھنے کیلئےدنیا بھر کے لوگ برسوں پہلے ٹکٹ خرید لیتے ہیں۔ مسجد قرطبہ کی ہیبت اور جلال کو ختم کرنے کے لئے پاپائیت نے بہت جال پھینکے، اس کے باوجود اس کا حسن قائم اس لئے بھی ہے کہ علامہ اقبال نے اس کے بارے میں عظیم نظم لکھی اور دنیا بھر میں ترجمہ ہوئی۔ پھر وہ سلطنت بھی عیاشیوں کی نذر ہوگئی۔ آخر کومزانکو جیسے ڈکٹیٹر نے اندلس کو گہن لگا دیا۔ اس طرح جتنی سلطنتیں تباہ ہوئیں ان کو مختصراً ترجمہ ڈاکٹر آغا افتخار حسین نے اپنی کتاب ’’قوموں کے شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ ‘‘میں درج کیا ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ فوجی بھی آدمی ہوتے ہیں، فرشتہ سیرت۔

یہ تو ہوئے آپ کے لئے ماضی کے چند حوالے۔ اب ذرا پاکستان کے قیام کے بعد کے حالات پر نظر ڈالنا شروع کریں۔ ہجرت، نئے ملک میں آنے کی خوشی اور انجانے لوگوں سے واسطہ، یہ سب مل کر، ایک سر چھپانے کی جگہ سے پھیلتے پھیلتے، لوگوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں کے چکر، ہر طرح کے کارخانوں پر قبضے اس لئے پھیل گئے کہ نفع و نقصان کے ترازو میں محض طلب اور ہوس رہ گئی۔ شرفا اپنی اوقات میں رہے اور اس وقت کا قبضہ مافیا اب پورے ڈپارٹمنٹ کی شکل میں موجود ہے۔ ہر دور کے بحالیات کے وزیر، اگلے دور میں مقدموں کا سامنا کرتے کرتے یا تو زندگی سے ٹہل گئے یا انکوائریوں سے۔

لیاقت علی خان کے قتل، ناظم الدین صاحب کے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کو جمہوریت کہا گیا۔ غلام محمد کے تھوکنے اور گالیوں کو عقل مندی کہا گیا۔آج کل جیسا ماحول تھا۔ پھر مارشل لا میں پہلی دفعہ جمہوریت بلکہ بنیادی جمہوریت کا نقاب اوڑھا مگر سچ یہ ہے کہ دیہات میں پہلی دفعہ نالیاں بنانے اور کچرا اٹھانے کا واقعی کچھ کام ہوا۔ اس طرح سیاست کے نام پر سیاست دان پلڑے بدلتے رہے، مارشل لا تو کبھی بنامِ جمہوریت شو ہوتے گئے۔ عقل تب بھی نہ آئی جب وہ حصہ الگ ہوا کہ جس کے لوگوں کی پٹ سن کی کمائی پر مغربی پاکستان میں شہروں شہروں، تہذیب اور اخلاقیات کو اسمگلنگ اور منشیات کی کمائی سے تیار شدہ کلف لگی اکڑی قمیض والوں کو عزت ملتی رہی۔ آج تک آدھے اِدھر اور آدھے اُدھر ۔

جس مشرقی پاکستان کے لوگوں کو چھوٹے، کمزور اور ناکارہ کہاجاتا تھا۔ وہ علیحدگی کے بعد، اپنے ملک کو اتنا آگے لے گئے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہونے لگا۔ ہماری کپاس، مصر کی کپاس کے بعد، سب سے زیادہ اہم تھی۔ ہمارے چاول باسمتی کی نقل، انڈیا اور دوسرے ملک چراتے رہے۔ ہماری آبادی بڑھتی گئی اور انکے علما نے مساجد میں وعظ اور دوائیوں کی ایسی ترغیب دی کہ وہاں آبادی کے بڑھنے کی رفتار کم سے کم ہوگئی۔ ہمارے یہاں گیس نکلی تو خواتین ایک ماچس کی تیلی بچانے کے لئے سارا دن گیس جلتی رکھتیں۔ اُدھر جہاں سے گیس نکلی تھی وہاں کےلوگوں کو اب تک پوری گیس نہیں ملی ۔ پنجاب کا علاقہ، غیر منقسم ہندوستان کو گندم فراہم کرتا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ ضرورت کی دالیں بھی ملایشیا اور دوسرے ممالک سے منگوا رہے اور دال روٹی کی عمومی کیفیت تو بریانی سے بھی بڑھ کر مہنگی ہوگئی ہے۔

پاکستان میں ہائوس بلڈنگ کارپوریشن گھر بنانے کو قرض دیا کرتی تھی۔ اس پر سود اتنا بڑھتا جاتا تھا کہ ساری عمر اس کے دینے میں کٹ جاتی تھی۔ اب کہنے کو تمام بینکوں کو غریبوں کو تھوڑے سے سود پر قرض دینے کو کہا گیا ہے۔ چونکہ اس کے لئے گارنٹی چاہئے۔ کون دے گا غریبوں کی گارنٹی۔ پہلے گاڑیاں، بینکوں کو کہا گیا کہ ماہانہ قسطوں پر دیں۔ انجام کیا نکلا۔ بہت سی بری حالت میں چھیننی پڑیں۔ البتہ بڑے سیاسی لوگ، اربوں کے قرضے، معاف کروا کر پھر نئی پارٹی کے ساتھ اجاگر ہوگئے۔ جب تک قرض دینے اور لینے والے بے ایمان ہوں گے توہم آئی ایم ایف کی سخت سے سخت شرائط مانتے رہیں گے۔ کیوں نہیں ہوتا کہ دیہات میں یہ بینک اپنی شاخ کھولیں۔ اپنے سامنے گھر بنوائیں۔ مقامی مزدوروں کو کام مل جائے گا اور شرط یہ بھی ہوگی کہ گھر کے ساتھ گلی بھی پختہ ہوگی اور عورتیں بھی مزدوری میں شامل ہوں گی۔ میں مشکل بات کررہی ہوں مگر مشکل فیصلے تو کرنا ہی پڑتے ہیں۔ ہم نے کپاس چھوڑکے بلاسوچے سمجھے، گنا اُگایا۔ شوگر ملیں لگائیں۔ پھر بھی سٹہ بازی کسی صورت کم نہ ہوئی۔ چینی ایکسپورٹ کیوں کی، کون بتائے!

آپ چاہے 25ماہرین کی کمیٹی بنائیں چاہے ایک عقلمند کو عقل کل سمجھ کر بٹھائیں مگر ایسے اعلانات مت کریں کہ کراچی کے ساحل پر ڈرلنگ شروع کی ہے۔ کل سے پیٹرول نکل آئے گا۔ ملک میں تعلیمی ادارے کورونا کے سبب بند رہیں گے۔ فیکٹریوں اور محکموں میں 50فیصد عملہ آئے گا۔ گھر سے کام کرنے کا رویہ، ہمارے ملک میں کاغذی ہی رہے گا کہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں اتنی جگہ ہی نہیں ہوتی کہ فائلوں کے انبار سنبھالے جاسکیں۔ مقامی حکومتوں کو جلد اختیارات دینے ضروری ہیں کہ ایم این اے تو گرانٹ اپنی عاقبت سنوارنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ مشرف کے زمانے میں مقامی حکومتوں میں 337خواتین کی شرکت نے چھوٹے گھروں کی خواتین کو بھی الیکشن لڑنے کی ہمت دی تھی۔ ایسے ہی رویے جاری رکھیں گے تو شاید تاریخ ہمیں آگے لے جاسکے۔ نئے اسپتال کھولنے کی بجائے موجود ہیلتھ سینٹرز میں ڈاکٹر، عملہ اور ادویات فراہم کردیں تو بڑا کرم ہوگا۔ کورونا کے انجکشن کے لئے پولیو کی طرح دیہات میں ٹیمیں جائیں۔ منصوبوں کو ڈبوں سے نکالیں۔ تقریریں نہیں، عمل چاہئے۔

تازہ ترین