• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امید ہے آج بجلی کی سپلائی معمول پر آجائے گی، تابش گوہر


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا ہے کہ کراچی کو نیشنل گرڈ سے مجموعی طور پر 1200میگاواٹ بجلی دے رہے ہیں

امید ہے جمعرات تک بجلی کی سپلائی معمول پر آجائے گی، ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف بات کرنا حکومت کو ریلیف دینے کے مترادف ہے، ماہر افغان امور رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء میں تیزی کے ساتھ تشدد کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا کہ پچھلے اڑتالیس گھنٹے میں بجلی کا شارٹ فال اوسطاً ایک ہزار میگاواٹ رہا ہے

تربیلا کے ٹنل تین اور چار پر پچھلے کئی ماہ سے مرمت کا کام جاری ہے، اگلے تین سے پانچ دن میں یہ ٹنل دوبارہ نظام میں شامل ہوجائیں گے، گھوٹکی ٹرین حادثے کی وجہ سے ساہیوال پلانٹ کو کوئلہ پہنچانے کا کام متاثر ہوا، اس کے علاوہ بجلی گھروں کو گیس کی بھی کمی رہی، ہم نے آج 100 ایم ایم بی یوٹی گیس بڑھادی ہے، ہم نے دو ٹرمینلز تو لگادیئے مگر گیس اسٹوریج نہیں بنائی

کراچی سے لاہور گیس پائپ لائن نہ بننے کی وجہ سے آر ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس صلاحیت کے مطابق نہیں چل سکے،کراچی کو نیشنل گرڈ سے مجموعی طور پر 1200میگاواٹ بجلی دے رہے ہیں۔ تابش گوہر کا کہنا تھا کہ امید ہے جمعرات تک بجلی کی سپلائی معمول پر آجائے گی، اس وقت بجلی کی انسٹال پیداواری صلاحیت 32ہزار میگاواٹ ہے، عموماً انسٹال پیداواری صلاحیت اور دستیاب پیداواری صلاحیت میں فرق ہوتا ہے، شمسی توانائی پر چلنے پلانٹس رات کو دستیاب نہیں ہوتے ہیں، ہوا کی رفتار کم ہونے سے ہوا سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے، اسی طرح پانی سے چلنے والے بجلی گھروں کی صلاحیت میں بھی فرق آتا رہتا ہے۔

تابش گوہر نے کہا کہ پچھلے دور میں بجلی کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے گردشی قرضہ بڑھتا ہے، گردشی قرضہ بڑھنے سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ اکثر لیکویڈیٹی بھی چوک ہوجاتی ہے، ادائیگیوں میں تاخیر سے ایندھن کی متاثر ہوتی ہے

ایندھن نہ ہونے سے پاور پلانٹس مکمل صلاحیت پر نہیں چل پاتے، ریونیو بیسڈ لوڈشیڈنگ میں اضافہ نہیں ہوا لیکن گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگوں کو زیادہ احساس ہورہا ہے، پچھلے اڑتالیس گھنٹے میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے

اس وقت اوسطاً بجلی کی طلب 24ہزار میگاواٹ ہے۔ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف بات کرنا حکومت کو ریلیف دینے کے مترادف ہے، ن لیگ نے فیصلہ کیا ہے پیپلز پارٹی کو ہدف نہ بنایا جائے، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پارلیمنٹ میں پوری اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں، اپوزیشن بجٹ اور دیگر امور پر پارلیمنٹ میں ایک موقف اختیار کرے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں جلسوں کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں لانگ مارچ اور پھرا ستعفوں پر اتفاق نہیں ہوسکا، پی ڈی ایم بجٹ اجلاس کے بعد عوامی رابطے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گی،

پی ٹی آئی حکومت پراپیگنڈے اور جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہے، حکومت کی کارکردگی دیکھیں تو پی ٹی آئی کے لوگ انتخابی مہم میں نہیں نکل سکیں گے، اگر ہمارا استعفوں کا آپشن مان لیا جاتا تو 2021ء میں نئے الیکشن ہوجاتے، پیپلز پارٹی بطور اپوزیشن اپنا اور پی ڈی ایم اپنا کردار ادا کرے، ہماری کوشش ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کو ہی ہدف رکھیں۔

ماہر افغان امور رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء میں تیزی کے ساتھ تشدد کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، طالبان ذرائع کے مطابق انہوں نے 20سے زائد ضلعی ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کرلیا ہے، خود افغان منتخب نمائندے بھی کہہ رہے ہیں کہ طالبان کئی شہروں کا محاصرہ کرنے جارہے ہیں، بارودی سرنگیں صاف کرنے والے ادارے کے مزدوروں پر حملہ داعش نے کیا ہے

حملہ آور مزدووں سے پوچھ رہے تھے کہ آپ میں ہزارہ برادری کے لوگ کون ہیں، افغان حکومت نے جلد بازی میں اس حملے کا الزام طالبان پر لگایا، افغان طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان دوحہ میں ملاقات خوش آئند ہے، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے پرا ختلاف ہے۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بجلی کا بحران سنگین ہوتا جارہا ہے، مختلف شہروں میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، شہری سخت گرمی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں، اپوزیشن حکومت پر تنقید کررہی ہے، خود حکومتی اراکین بھی بڑھتی لوڈشیڈنگ کی شکایت واحتجاج کررہے ہیں اور اسمبلی میں سوالات اٹھارہے ہیں

شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ سے اسکول کے بچے بھی متاثر ہورہے ہیں، اسلام آباد کے سرکاری اسکول میں بدھ کو سخت گرمی میں بجلی نہ ہونے سے 25بچے بیہوش ہوگئے اورا ن کی ناک سے خون آنا شروع ہوگیا، نیپرا نے بھی ملک بھر میں اضافی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا ہے، کے الیکٹرک سمیت بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کے سی ای اوز کو جمعے کو طلب کرلیا ہے، اپوزیشن تنقید کررہی ہے کہ جب ملک میں زیادہ بجلی موجود ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے

گزشتہ روز تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا سے رکن اسمبلی نورعالم خان نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ ملک میں بائیس بائیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، خیبرپختونخوا میں حکومتی اراکین اسمبلی سڑک پر بھی احتجاج کررہے ہیں، پشاور سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی آج بھی گرڈ اسٹیشن میں زبردستی داخل ہوگئے اور اپنے علاقے کی بجلی بحال کردی

اس سے پہلے انہوں نے ہفتے کو بھی درجنوں افراد کے ساتھ گرڈ اسٹیشن میں زبردستی داخل ہو کر اپنے علاقے کی بجلی بحال کرائی تھی۔شاہزیب خانزادہ کاکہنا تھا کہ حماد اظہر دعویٰ کررہے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں سرمایہ کاری نہیں کی تھی ہم ان دونوں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، نیپرا کی رپورٹ کے مطابق اس حکومت کے پہلے سال میں این ٹی ڈی سی کے سسٹم میں 47.4ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی، گزشتہ حکومت کے آخری دو برسوں میں یعنی 2016-17ء میں 44.1ارب روپے اور 2017-18ء میں 42.3ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی یعنی نیپرا کے اعداد و شمار حکومتی دعوے کے برعکس ہیں،

ن لیگ نے شروع میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پر کم اور بجلی پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دی تھی، اب جبکہ بجلی پیدا ہوگئی تھی پھر بھی تحریک انصاف ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کو ن لیگ کے مقابلہ میں بہتر نہیں کرپائی، تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی کھپت بجلی کی پیداوار کے حساب سے نہیں بڑھ سکی،سوال اٹھتا ہے کہ کیا وجہ ہے بجلی کی پیک ڈیمانڈ کا 2021ء کیلئے 29ہزار 325میگاواٹ کا اندازہ لگایا گیا مگر حکومت آج اتنی بجلی فراہم کیوں نہیں کرپارہی ہے

اگر تیاری 29ہزار 325میگاواٹ کی فراہمی کی تھی لیکن 22ہزار 600میگاواٹ کی فراہمی پر ہی سسٹم میں فالٹس کیوں آرہے ہیں اور عوام کو شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑرہا ہے۔

شاہزیب خانزادہ نے تجزیئے میں مزید کہا کہ وزیرعمران خان مسلسل افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان سیاسی سیٹلمنٹ پر زور دے رہے ہیں، پاکستان گزشتہ کئی دنوں سے اس حوالے سے متحرک ہے، خبریں سامنے آرہی ہیں کہ گزشتہ روز افغان حکومت اور افغان طالبان کے نمائندوں کی دوحہ میں ملاقات ہوئی ہے

اس ملاقات کو افغانستان کی بگڑتی صورتحال کے تناظر میں اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے،افغانستان میں افغان طالبان مسلسل اپنا کنٹرول بڑھاتے جارہے ہیں، داعش کے افغانستان میں زیادہ متحرک ہونے کی بھی خبریں آرہی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید