• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کی ریکوری میں مدد کیلئے اجرتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، ماہر اقتصادیات

لندن (پی اے) بنک آف انگلینڈ کے سرکردہ ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی ریکوری میں مدد کے سلسلے میں برطانویوں کو اپنے فرنٹ رومز سے باہر نکلنے اور کام پر واپس آنے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کیلئے اجرتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بنک آف انگلینڈ میں نئی شرح سود مقرر کرنے اور سبکدوش ہونے والے چیف ماہر اقتصادیات اینڈی ہالڈین نے کہا کہ برطانیہ کی ریکوری گینگ بسٹرز کی طرف جا رہی ہے لیکن ریکوری کیلئے تحرک کو برقرار رکھنے کی غرض سے تعطل کے شکار کاروبار کو دوبارہ کھولنے، فرلو یا بے روزگار ورکرز کو دوبارہ ملازمتوں پر واپس لانے کی ضرورت ہے۔ ایل بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمپلائمنٹ کو سپورٹ کرنے کیلئے معیشت میں سپینڈنگز میں اضافہ کیا جانا چاہئے تاکہ لوگ اپنے فرنٹ رومز سے باہر نکلیں اور کام کی دنیا میں واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ فرلو سپورٹ سے لوگوں کو نکالنے کیلئے بہتر اجرت والی جابس پیدا کی جانی چاہئیں۔ اینڈی ہالڈین نے کہا کہ اس کیلئے اجرتوں میں کچھ اضافہ کرنے کی ضرورت ہوگی، جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے کا حوصلہ ملے گا اور وہ اپنے صوفے چھوڑ کر دفاتر میں کام کیلئے واپس آئیں گے۔ خوف کے شکار لوگوں کو کام کی جانب راغب کرنے کیلئے کچھ فائدے اور مراعات بھی دی جانی چاہئیں۔ اینڈی ہالڈین ماہ رواں کے آخر میں بنک آف انگلینڈ سے رخصت ہو رہے ہیں اور وہ رائل سوسائٹی فار آرٹس، مینوفیکچررز اینڈ کامرس کے چیف ایلگزیکیٹیو بن جائیں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ برطانیہ کی گروتھ سست ہوگی اور افراط زر میں تیزی سے اضافے کے خدشات ہیں۔ بنک آف انگلینڈ کے چیف ماہر اقتصادیات و معاشیات نے کہا کہ برطانیہ کو پہلے ہی کچھ قیمتوں پر شدید پیچیدہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے ساتھ ہی اجرت میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے اور پٹرول، ڈیزل، لکڑی اور سیمنٹ جیسے سامان کی قیمتیں بھی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی سٹریٹ میں بھی افراط زر کہیں زیادہ پیچھے نہیں ہے اور یہ کہ قیمت میں اضافے کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے بنک کو کوانٹیٹیو ایزنگ (کیو ای) منی پرنٹنگ پروگرام کو کم کرنے کی ضروت پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پر سختی کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ ہم جو رقم چھاپ رہے ہیں اس میں کمی کرسکتے ہیں اور بالآخر شاید ہم اس کو موڑ بھی سکتے ہیں۔ اینڈی ہالڈین نے گزشتہ ماہ یو کے ریکوری کے امکانات کی روشنی میں بنک کے 895 بلین پونڈ کے کیو ای پروگرام میں 50 بلین پونڈ کی کمی کرنے کیلئے ووٹ دیا تھا۔ ایل بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بنک آف انگلینڈ کے ماہر اقتصادیات کا کہنا تھا کہ پہلے ہی ملک میں افراط زر کی شرح 1.5 فیصد ہے اور اس کے بنک کے 2 فیصد ہدف سے اوپر جانے کے خدشات ہیں لیکن بنک کو اس بات کی یقین دہانی کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ عارضی جھٹکا سرایت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہر قیمت پر اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اینڈی ہالڈین نے کہا کہ ان کے خیال میں چانسلر رشی سوناک کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کی ہینڈلنگ میں بلائنڈر کھیلے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ کورونا پینڈامک سے شدید ترین متاثر ہونے والے ٹریول سیکٹر کیلئے اب خصوصی سپورٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ اس موسم گرما میں تعطل اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر 21 جون کو سماجی فاصلے کی تمام پابندیاں ختم ہوجائیں تو یہ معیشت کیلئے بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بزنسز موسم گرما کیلئے اچھے منصوبے بنا سکتے ہیں اور وہ کھل بھی جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان صنعتوں میں کارکن اچھے موسم گرما کیلئے منصوبہ بنا سکتے ہیں اور سماجی میل جول کے علاوہ اخراجات بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بزنسز اور ورکرز دونوں میں موجو (mojo) واپس آجائے گی اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے ہماری گروتھ کی شرح یورپ بھر یا کہیں اور کی سطح سے اوپر چلی جائے گی۔

یورپ سے سے مزید