• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نارتھ ویسٹ انگلینڈ میں  ڈیلٹا وائرس کی مختلف حالتوں میں اضافے سے نمٹنے کیلئے فوج تعینات

لندن (پی اے) ڈیلٹا وائرس کی مختلف حالتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لئے نارتھ ویسٹ انگلینڈ کے علاقوں میں کورونا وائرس کی ویکسی نیشن اور ٹیسٹنگ بڑھائی جارہی ہے۔ پورے گریٹر مانچسٹر اور لنکاشائر کو اضافی ٹیسٹ کے لئے بولٹن کی طرح فوج کی مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم مقامی رہنماؤں نے ہر ایک کو زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ٹیکے لگانے کے لئے اضافی ویکسین طلب کی ہے۔ یہ بات 21 جون کو منصوبہ بندی کے مطابق انگلینڈ میں اگلے لاک ڈاؤن نرمی آگے بڑھنے یا نہ بڑھنے کے بارے میں بحث کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ حکومت کے پاس دوبارہ لاک ڈائون میں نرمی کی تاریخ کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کرنے کے لئے ایک ہفتہ سے بھی کم وقت باقی ہے۔ ہفتے کے آخر میں وزیرصحت میٹ ہینکوک نے بتایا کہ ڈیلٹا وائرس کی مختلف شکل، جو انڈیا میں پہلی بار دریافت ہوئی تھی، وہ پہلی بار کینٹ میں سامنے آنے والے الفا وائرس کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ تیز رفتاری سے پھیلتی ہے۔ کوویڈ سے انتہائی متاثر ہونے ولے ٹائون بولٹن ایک ویکسی نیشن کی شرح میں اضافے اور اضافی ٹیسٹنگ کے نتیجے میں انفیکشن کی شرح میں کمی دیکھی گئی، حکومت اب اس خطے میں جہاں بھی کیسز بڑھ رہے ہیں، اسی حکمت عملی کے تحت ویکسی نیشن اور ٹیسٹنگ میں اضافہ کر رہی ہے لیکن گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مزید کام کریں اور کہا کہ علاقے کو ویکسین کی فراہمی طے شدہ منصوبہ بندی سے پہلے دی جانی چاہئے۔ انہوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا اب اس کی ضرورت ہے۔ وائرس اس طرح کی جگہوں پر ایک بار پھر پھیل رہا ہے، لہٰذا اس وقت ویکسی نیشن پروگرام کا سب سے زیادہ بہتر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہم استحقاق سے زیادہ سپلائی طلب نہیں کر رہے، ہم سپلائی میں تیزی لانے کی بات کر رہے ہیں تاکہ صورت حال میں ایک بڑا فرق پیدا کرسکیں۔ مسٹر برنہام نے لوگوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنی ویکسین کی دوسری ڈوز حاصل کر لیں تاکہ ڈیلٹا وائرس کی مختلف حالت کے خلاف دگنا تحفظ مل سکے۔ وزیرکمیونٹیز رابرٹ جینرک نے کہا کہ حکومت ویکسی نیشن اور حفاظتی ٹیکوں سے متعلق جوائنٹ کمیٹی آن ویکسی نیشن اینڈ امیونائزیشن کے مشورے پر عمل جاری رکھے گی، اس پروگرام کی بنیاد جغرافیائی بنیادوں کی بجائے عمر پررکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ کے کیسز میں ’’نمایاں اضافہ‘‘ ہوا ہے اور حکومت خطے میں لوگوں کو جلد سے جلد ویکسین دینے میں مدد فراہم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے، جس میں فوج کو رسد اور ٹیکے کی بسوں کے لئے استعمال کرنا بھی شامل ہے۔ اس علاقے میں صحت کے کچھ عہدیداروں نے پہلے ہی انگلینڈ کے موجودہ ٹائم ٹیبل سے پہلے 18 سال سے زیادہ عمر افراد کی ویکسین کے لئے رجسٹریشن کی درخواست کی ہے۔ ایسے وقت، جب حکومت لوگوں کو سمجھداری سے چلنے کے لئے ہدایت جاری کررہی ہے، مسٹر جینرک نے بی بی سی ریڈیو 4 کے آج کے پروگرام میں بتایا کہ مقامی لاک ڈاؤن متعارف کرانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس علاقائی یا مرحلہ وار پابندیوں کی جانب واپس جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، جو ہم نے گذشتہ موسم خزاں میں دیکھا تھا۔ مسٹر برنہام نے کہا کہ لوگوں کو اپنے منصوبوں کو منسوخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر انہیں سمجھدار ی سے کام لینا چاہئے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، جیسے جہاں سے بھی ممکن ہو وہاں سماجی فاصلہ رکھیں اور سفر کم سے کم کریں۔ این ایچ ایس انگلینڈ نے بتایا کہ انگلینڈ بھر میں منگل کی صبح ویکسین کی مانگ میں اضافہ ہوا کیونکہ 25 سے 29 سال کی عمر کے لوگوں کو ویکسین کی رجسٹریشن کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے باس سر سائمن سٹیونز نے کہا کہ یہ’’ اپائنٹمنٹ کے لئے گلیسٹن بیوری طرز کا رش تھا ‘‘ جس کے دوران ہر منٹ میں 1600 سے زیادہ ویکسی نیشن رجسٹر کی گئی تھیں۔ انگلینڈ میں لاک ڈاؤن نرمی کے احکامات پر عمل درآمدکی اگلی بڑی تاریخ 21 جون کو طے ہے۔ بدھ کے روز گارڈین نے بتایا کہ چانسلر رشی سوناک پابندیوں میں نرمی کیلئے چار ہفتوں کی تاخیر قبول کرنے پر راضی ہیں۔ اخبار نے وائٹ ہال کے ایک ماخذ کا حوالہ دیا ہے، جس میں مسٹر سوناک کو زیادہ تشویش تھی کہ جب ایک دفعہ قواعد ختم کردیئے جائیں گے تو یہ ناقابل واپسی ہوں گے۔ حکومت بار بار کہہ چکی ہے کہ 14 جون کو کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے سے قبل وہ اعداد و شمار کا بغور جائزہ لے گی۔ کنزرویٹیو رکن پارلیمنٹ سر چارلس واکر نے لاک ڈاؤن پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کسی تاخیر کے خلاف انتباہ کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا اگر 21 جون کو پابندیوں میں نرمی نہ کی گئی تو پورے ملک میں مایوسی کی ایک بہت بڑی لہر اٹھےگی۔ ان کا کہنا ہے کہ تاخیر دو ہفتوں، ایک مہینہ ہوسکتی ہے لیکن میرے خیال میں یہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم گرمی کے عروج پر معیشت کو نہیں کھول سکتے تو میرے خیال میں ہمیں موسم خزاں میں زیادہ سخت لاک ڈاؤن کے حقیقی امکان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ ہفتے کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں انفیکشن کی سب سے زیادہ شرح والے علاقوں میں گریٹر مانچسٹر اور لنکاشائر کا 90 فیصدحصہ ہے۔ ان علاقوں میں لوگوں کو گھروں سے زیادہ باہر ملنے اور سفر سے بچنے کی ہدایت دی جارہی ہے۔ نارتھ ویسٹ انگلینڈ کے ساتھ لوتھیان اور لنکاکشائر میں بھی فوج تعینات ہے۔

یورپ سے سے مزید