• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنخواہوں، پنشن میں اضافہ، چینی، سگریٹ، لگژری اشیا مہنگی، چھوٹی اور الیکٹرک کاریں، ٹریکٹر، فون، زرعی آلات، خوردنی تیل، گھی، فولاد سستا، ٹائر، بیٹریاں، SMS، موبائل کالز مہنگی، 215 ارب کے نئے ٹیکس

تنخواہوں، پنشن میں اضافہ


اسلام آباد (تنویر ہاشمی / نیوز ایجنسیز) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ برائے 2021-22ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے ، وفاقی بجٹ کا حجم 8487؍ ارب روپے ہے جس میں مجموعی خسارہ 3990؍ ارب ہے، وصولیوں کا ہدف 5829؍ ارب رکھاگیا ہے اورسیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 215؍ ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ، ترقی کا ہدف 4.8فیصدمقرر کیا گیا۔

بجٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں 10فیصد اضافہ اور کم سے کم اجرت 20؍ ہزار کردی گئی ہے ۔ چھوٹی اور الیکٹرک کاریں، ٹریکٹر ، فونز، زرعی آلات، خوردنی تیل، گھی، فولاد سستے ہوگئے جبکہ لگژری اشیاء ، ٹائر، بیٹریاں،موبائل فونز ایس ایم ایس ، موبائل فون کالز ، چینی مہنگی کردی گئیں ، آن لائن خریداری پر بھی سیلز ٹیکس کی مد میں 11؍ ارب کا ٹیکس عائدکیا گیا ہے۔

درآمدی میک اپ ، خوراک، شیمپو، پرفیومز مہنگے ہوگئے ان اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں اضافےسے 11؍ ارب کی کسٹمز ڈیوٹی وصول ہوگی، کیپٹل گین ٹیکس (سی جی ٹی) میں 2.5فیصد کمی کر دی گئی ، 12ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردیئے گئے۔

پھلوں کے رس پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ختم اور آکسیجن سلنڈر پر سیلز ٹیکس، کتابوں، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے ، ہرشہری گھرانے کو کاروبار کیلئے 5لاکھ بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے گا اور کم آمدن ہائوسنگ اسکیم کے تحت 20لاکھ کےسستے قرضے ملیں گے ، ہر خاندان کیلئے صحت کارڈ جاری ہوگا ۔ 

بجٹ میں عالمی وباء کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کورونا فنڈ میں 100 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔بجٹ خسارہ 6.3؍ فیصد کا تخمینہ لگایا گیا ہے،پرائمری خسارے کا ہدف 0.7؍ فیصد مقرر کیا گیا ہے اس کے مقابلے میں رواں مالی سال کا نظر ثانی شدہ بجٹ کا تخمینہ 7.1فیصد اور پرائمری خسارہ کا نظر ثانی شدہ تخمینہ کے تحت 1.2فیصد ہے بجٹ میں پٹرولیم لیوی میں 160ارب روپے کا اضافہ کر دیا ہے اور ہدف 610؍ ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو کہ رواں برس 450ارب روپے تھا اس طرح پٹرولیم لیوی میں 36فیصد اضافہ کیا گیا ۔ 

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے آخری دور میں بیرونی قرضہ بڑھا، معیشت طوفان سے نکال کر ساحل پر لے آئے، عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو انہیں شکستہ معیشت ورثہ میں ملی، انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمیں قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کی صورتحال کا سامنا تھا اور دوسرف طرف درآمد کی طلب کو پورا کرنے کے لئے رقوم میسر نہیں تھیں۔ 

یہ صورتحال مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے قرض لینے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال 2021-22ء کا 3990؍ ارب روپے خسارے کے ساتھ 84؍ کھرب 87؍ ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ، وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ کر دیا گیاکم سے کم اجرت20ہزار روپے مقرر کر دی گئی۔

سرکاری ملازمین کا اردلی الائونس 14ہزار روپے سے بڑھا کر 17500روپے کر دیا گیا گریڈ ایک سے 5کے ملازمین کا انٹیگریٹڈ الائونس 450روپے سے بڑھا کر 900روپے کر دیا گیا ،چھوٹی گاڑیاں اور الیکٹرک سستی کر دی گئیں ، مقامی طور پر تیار کردہ850سی سی کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ اور سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کرکے 12.5فیصد کر دی گئی ہے اور ان پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

مقامی طور پر تیار کی گئی الیکٹرک گاڑیوں کےلیے سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے کم کر کے ایک فیصد ، الیکٹرک گاڑیوں اور سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس کی چھوٹ اور چار پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ دے دی گئی ، پھلوں کے رس پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔

تین منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل فون کالز ، انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پیغامات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کر دی گئ، موبائل فون کے استعمال پر عائد 12.5فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کم کر کے 10فیصد کر دیاگیا اس کو بتدریج 8فیصد کر دیا جائے گا، درآمدی موبائل فون اور ٹائر بھی مہنگے کر دیئے گئے ، لیڈ بیٹریاں مہنگی کر دی گئی ، ری کلیمڈ اور استعمال شدہ لیڈ بیٹریوں پر سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کر دیا گیا۔

ٹیکس ریونیو کا ہدف 5829ارب روپے رکھا گیا نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2080ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، سودکی ادائیگی کےلیے 3060ارب روپے رکھے گئے ہیں ، قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 2102ارب روپے اور وفاقی ترقیاتی پروگرام کےلیے 900ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ،دفاع کےلیے 1370ارب روپے ، سبسڈیز کےلیے 682ارب روپے ،کورونا وائرس اور دیگر ہنگامی حالات کےلیے 100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

احساس پروگرام کےلیے260ارب روپے مختص کیےگئے ہیں ، کورونا ویکسین کی درآمد کےلیے ایک ارب 10کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں اور جون 2022تک 10کروڑ لوگوں کو ویکسینیشن کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ایس ایم ای کاروبار کو بلاضمانت قرضوں کی فراہمی کے لیے 12ارب روپے ، کامیاب پاکستان پروگرام کےلیے 10ارب روپے ، انسداد ریپ فنڈ کےلیے 10کروڑر وپے مختص کیے گئے ہیں ، اعلیٰ تعلیم کےلیے 66ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں ترقیاتی بجٹ سے 44ارب روپے اور بعدازاں 15ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

خسارےمیں جانیوالے اداروں پی آئی اے کی انتظامی بہتری کےلیے 20ارب روپے اور پاکستان سٹیل ملز کےلیے 16ارب روپے رکھے گئے ہیں ، مردم شماری کرانے کےلیے 5ارب روپےاور مقامی حکومتوں کے انتخابات کےلیے5ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے،پنشن کےلیے 480ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

گرانٹس اور صوبوں کو منتقلی کےلیے1168روپے خرچ ہونگے ،ضم شدہ اضلاع خوردنی تیل ، گھی اور فولاد کی صنعتوں کےلیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ دے دی گئی ہے، آئی ٹی کی خدمات کی برآمدات کے لیے وفاقی درالحکومت اسلام آباد میں زیرو ریٹنگ کی سہولت دے دی گئی۔ 

قرآن پاک کی اشاعت میں استعمال ہونیوالے کاغذ کی درآمد پر چھوٹ دے دی گئی ، آٹو ڈس ایبل سرنجز ان کے خام مال اور آکسیجن سلنڈرز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کےلیے پلانٹ ، مشینری ، سازوساماناور خام مال کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دے دی گئی۔

زرعی اجناس کے ذخیرہ گوداموں کو ٹیکس چھوٹ دے دی گئی ، ٹیلی مواصلات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 17فیصد سے کم کر کے 16فیصد کر دیا گیا ، بینکوں کی جانب سے پوائنٹ آف سیلز پر مرچنٹ ڈسکائونٹ ریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ دے دی گئی۔

بجٹ میں ٹیئر ون کے بڑے ریٹیلرز سے خریداری کرنیوالے صارفین کےلیے انعامی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے اور ماہانہ بنیاد پر 25کروڑ وپے کے انعامات قرعہ اندازی کے بعد ان صارفین کو دیئے جائیں گے جن کے پاس ایف بی آر سے منسلک ٹیئر ون ریٹیلرز کی طرف سے دی گئی الیکٹرانک رسید ہو گی ، ای کامرس لین دین کو سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔

جعلی سگریٹس سمیت دیگر جعلی اشیاءکے خاتمے کےلیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کیا جائے گا،مخصوص اشیاء کےمینوفیکچررز کو پابند کیا جائے گاکہ اپنے برانڈزکو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کرائیں غیر رجسٹرڈ برانڈ جعلی اشیاء تصور ہونگی اور ان کو ضبط کر لیا جائے گا۔

چینی کی مارکیٹ قیمت پر سیلز ٹیکس نافذ کرنے کےلیے چینی کو تھرڈ شیڈول میں شامل کر دیا گیا ہے اسوقت چینی کے 60کلوگرام پر سیلز ٹیکس نافذ ہے، انکم ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات کم کر دیئے گئے ہیں، ٹیکس حکام کا ٹیکس آڈٹ کے لیے منتخب نہ ہونیوالے کیسز کی انکوائری کا اختیار ختم کر دیاگیا ہے۔

شوکاز نوٹس کی انجام دہی کےلیے متعین وقت کی حد کو 120دن کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کسٹم کے ایڈوانس ٹیکس اندازے کو رد کرنے کا اختیار ختم کرنے کی تجویز دی گئی ، ایف بی آر کا ٹیکس آڈٹ کا صوابدیدی ا ختیار ختم کر کے تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرانے کافیصلہ کیا گیا ہے۔

ٹیکس ریفنڈز کےلیے خود کار ریفنڈز مرکزی نظام لایا جائے گا، جس میں ٹیکس دہندہ کو نہ درخواست دینا ہوگی اور نہ ہی تصدیق کےلیے کاغذات دینا ہونگے ، خود کار طریقے سے ریفنڈ کی تصدیق کے بعد ریفنڈ رقم براہ راست ٹیکس گزار کے بینک اکائونٹ میں ڈال دی جائے گی ، کارپوریٹ ٹیکس گزاروں کے استثنیٰ سرٹیفکیٹ کے اجراء کو 15یوم کے اندر یقینی بنایا جائے گا۔

ٹیکس نظام میں انسانی عمل دخل ختم کرنے کےلیے الیکٹرانک سماعت نظام متعارف کرایا جائے گا، 12ود ہولڈنگ ٹیکس کی شقوں کو ختم کر دیا گیا ، آئل فیلڈ سروسز ، ویئر ہائوسنگ ، کو لیٹرل مینجمنٹ سروسزاور سکیورٹی سروسز اور ٹریول اینڈ ٹور سروس پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 8فیصد سے کم کر کے 3فیصد کر دی گئی۔ 

اسٹاک مارکیٹ میں سکیورٹیز پر عائد کیپٹل گین ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 12.5فیصد کر دیا گیا ، عبدالستار ایدھی فائونڈیشن ، انڈس ہسپتال اینڈ نیٹ ورک ، پیشنٹ ایڈ فائونڈیشن ، سندس فائونڈیشن ، سٹیزن فائونڈیشن ،علی زیب فائونڈیشن و دیگر انسان دوست این جی اوز کو غیر مشروط ٹیکس چھوٹ دے دی گئی۔ 

افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کےلیے ٹرن اوور بنیادپر کم از کم ٹیکس ایک کروڑ روپے سےبڑھا کر 10کروڑ روپے کر دیا گیا ، عمومی ٹیکس شرح 1.5فیصد سے کم کر کے 1.25فیصد کر دیا گیا آمدہ برسوںمیں مزید کمی کی جائے گی ، ایف ایم سی جی اور ریفائزیزکے ریٹیلرز کےلیے ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

کتابوں ، رسالوں ، زرعی آلات اور 850سی سی تک کاروں کےلیے سی بی یو کی درآمد کو ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دے دیاگیا ، جائیداد کی آمدنی پر بلاک ٹیکس کو ختم کرنے کی تجویز ہےاس کےلیے غیر منقولہ جائیداد فروخت اور سود سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر کیپٹل گین کے الگ بلاک ٹیکس کےد ائرہ کار کو محدود کر دیا جائے گا۔

تھوک فروش اور پرچون فروش کو سہولت دینے کےلیے افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کےلیے کم سے کم ٹیکس کی سطح 10کروڑ روپے تک بڑھانے کی تجویز ہے۔

ودہولڈنگ ٹیکس او ر ٹرن اوور ٹیکس کی کم شرح کو دوسرے سیکٹرز کے ان افراد پر بھی لاگو کیان جائے گا جو انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں موجود ہیں ، انکم ٹیکس میں بزنس ٹرانزکشن کےلیے نوٹیفائیڈ بنک اکائونٹ کو متعارف کرایا جائے گا، اکائونٹ نوٹیفائی نہ کرنیوالے کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائےگی ، ایس ایم ای کے لیے فکسڈ ٹیکس رجیم متعارف کر ائی گئی ہے۔

10کروڑ روپے تک ٹرن اوور پر ٹرن اوور کے 0.25فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگایا پھر قابل ٹیکس آمدنی کا 7.5فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، ایسے ایس ایم ایز جن کا ٹرن اوور 10کروڑر وپے سے زائد ہے اور 25کروڑر وپے تک ہےان کو ٹرن اوور کا 0.5فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگایا قابل ٹیکس آمدنی کا 15فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا،ایک صفحے کا سادہ ٹیکس گوشوارہ بھی متعارف کرانے کی تجویز ہے۔

اسپیشل اکنامک زونز انٹر پرائززکو ٹیکس سال 2021سے کم سے کم ٹیکس میںچھوٹ دے دی گئی ، سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی ، زون ڈویلپرز اور زون انٹر پرائزز کےلیے دس سال کےلیے ٹیکس چھوٹ دے دی گئی ، ان زونز میں کیپیٹل اشیاء کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دے دی گئی۔

ان زون میں سرمایہ کاری سے نجی فنڈز سے حاصل کردہ آمد نی کے منافع کو بھی ٹیکس چھوٹ دے دی گئی ، ٹیکسٹائل سے متعلقہ اشیاء کی 164ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ، خام مال اور اشیاء کی152 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹم ڈیوٹی کو ختم کر دیا گیا۔ 

سوتی دھاگا کی درآمد پر ریگولیٹری دیوٹی ختم کر دی گئی ، سوتی دھاگا پر عائد 5فیصد کسٹم ڈیوٹی کو بھی ختم کر دیا گیا ، موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میںا ضافہ ، ٹائروں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میںا ضافہ کر دیا گیا۔

برآمد کنندگان کےلیے سہولت سکیم متعارف کر ائی گئی ہے اس سکیم کے تحت برآمد ات کےلیے ڈیوٹی فری درآمدی اشیاء کے عرصہ کو پانچ سال کر دیاگیا ہےجو پہلے ایک سے دو سال کا عرصہ تھا ، گزشتہ تمام سکیمیں دوسال کےلیے موثر رہیں گی۔

بجٹ میں آئندہ مالی سال کےلیے پٹرولیم لیوی میں 160ارب روپے کا اضافہ کر دیا ہے اور ہدف 610؍ ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو کہ رواں برس 450ارب روپے تھا اس طرح پٹرولیم لیوی میں 36فیصد اضافہ کیا گیا ، اس سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو نے کا خدشہ ہے۔

آئندہ مالی سال ایل پی جی پر پٹرولیم لیوی کی مد میں بھی 2 ارب 8 کروڑ روپے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے اور لیوی کی وصولی کا ہدف 5 ارب 51 کروڑ روپے سے بڑھا کر 7ارب 60 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید