• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اطہر اقبال

معنی، بڑوں کا ادب نہ کرنے والا بدنصیب ہوتا ہے جب کہ بزرگوں کا حترام کرنے والا با نصیب ہوتا ہے۔

گاؤں کی صبح بہت پیاری لگتی ہے۔ شہر کی طرح یہاں نہ تو گاڑیوں کا دھواںہوتا ہے اور نہ ہی شور شرابہ ہوتا ہے۔ تیز ہوا کے ساتھ اڑتی مٹی کا الگ حسن ہوتا ہے اور اس کی سوندھی سوندھی خوشبو دل کو لبھاتی ہے۔ احسن اور حسن دو بھائی تھے جو شہر میں رہتے تھے۔ان کی خالہ گاؤں میں رہتی تھیں، جو انہیں اکثر اپنے گھر بلاتی تھیں، لیکن وہ علمی مصروفیات کی وجہ سے ان کے گھر نہ جا پاتے۔ اس سال اسکول میں گرمی کی جب چھٹیاں پڑیں تو وہ اپنے امی ابو کے ساتھ پہلی بار گاؤں گئے۔ 

گاؤں کی سادہ سی زندگی دیکھ کر انہیں بڑی حیرانی ہوئی۔ سیدھے سادھے لوگ جن کا پہناوا سادہ تھا،سادی غذا کھاتے اور ہر کسی سے پیار و محبت سے پیش آتے۔ ان کے چہرے پر کوئی تصنع و بناوٹ نظر نہیں آتی تھی۔ مشینی سواریاں یعنی کاریں اور موٹر سائیکلیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ کھیتوں اور سر سبز گھاس کے بیچ میں سے کچی پکی سڑکوں پر بیل اور گدھا گاڑیوں پر سفر کرنا ان کے لیے انوکھا تجربہ تھا۔

امی ، ابو ،خالہ خالو سے باتوں میں مصروف رہتے جب کہ وہ صبح سویرے ہی خالہ زاد بھائی بہنوں کے ساتھ گاؤں کی سیر کے لیے نکل جاتے ۔کبھی وہ کھیتوں میں گھومتے پھرتے، کبھی بیل اور گدھا گاڑی پر سیر کرتے ہوئے دور نکل جاتے۔

احسن اور حسن پڑھائی میں بہت تیز ہونے کے علاوہ بے پناہ ذہین بھی تھے۔وہ شام کو گاؤں کی چوپال میں بھی جاکر بیٹھتے جہاں علاقے کے سارے چھوٹے بڑے لوگ جمع ہوتے تھے، جن میں گاؤں کا نمبردار بھی ہوتا تھا۔ سبھی لوگ علاقے کے حالات ، لوگوں کو درپیش مسائل پر بحث و مباحثہ کرتے۔ احسن اور حسن بھی کبھی کبھار گفتگو میں حصہ لیتے اور گاؤں والوں کو شہری زندگی کے بارے میں آگاہ کرتے۔ 

اتنے چھوٹے بچوں کی ذہانت آمیز گفتگو سے گاؤں کے تمام چھوٹے بڑے بے انتہا متاثر ہوتے۔ دونوں بھائی اس دوران بڑوں کے ادب و احترام کا خاص خیال رکھتے۔ انہیں دیکھ کر گاؤں کے بڑے بوڑھوں کو اس بات کا فوری احساس ہوجاتا کہ دونوں بھائی انتہائی تمیز دار ہیں۔ اگر ان سے کوئی کام کہا جاتا تو وہ انتہائی فرماں برداری سے اسے انجام دیتے۔ ایک روز گاؤں کا بوڑھا نمبردار اپنے ساتھی بزرگوں سے کہنے لگا، ’’بھئی میں تو ان دونوں بچوں کی فرماں برداری دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں، ہمارے گاؤں کے شریر بچوں کی بہ نسبت، ان میں نیکی اور شرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے‘‘۔ 

ایک بزرگ نے کہا کہ، ’’واقعی ان کی اتنی چھوٹی سی عمر ہے لیکن بڑوں کا ادب و احترام کرنا خوب جانتے ہیں‘‘۔ دوسرے بزرگ نے اس پر کہاکہ ، ’’جو اچھا ہوگا وہ ہر طرح سے اچھا ہی نظر آئے گا، جو بڑوں کا ادب ، احترام نہیں کرے گا، ہمیشہ پریشان حال رہے گاجب کہ بزرگوں کا ادب و احترام کرنے والا ہمیشہ ترقی کرے گا اور ہر کسی سے داد پائے گا۔‘‘ 

دونوں بھائی جو گاؤں کے بزرگوں کو اپنے متعلق گفتگو کرتے سن رہے تھے، ان میں سے احسن انتہائی ادب سے بولا، ’’انکل، ہمارے والدین نے شروع سے ہی ہمیں یہ بات ذہن نشین کرادی تھی کہ، باادب ، بانصیب، بے ادب ، بدنصیب‘‘۔ گاؤں کے لوگ احسن کے منہ سے یہ مثال سن کو اور بھی حیران ہوئے کہ اتنا چھوٹا سا بچہ اور باتیں بڑوں جیسی۔