• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ برس قبل جاپان میں کیے جانے والے ایک سروے کے دوران جن بالغ اشخاص کے انٹرویو لیے گئے، ان میں سے نصف کے مطابق والدین اور بچوں کے درمیان رابطہ بہت کم ہوتا ہے اور والدین بچوںکے ساتھ اپنے رویہ میں حد سے زیادہ نرمی برتتے ہیں۔ اسی ملک میں ایک اور سروے کے شرکاء میں سے تقریباً ایک چوتھائی نے تسلیم کیا کہ وہ بچوں کے ساتھ اچھا رابطہ رکھنا نہیں جانتے۔ یہ رجحان صرف مشرقی ممالک تک ہی محدود نہیں ہے۔ دی ٹورانٹو اسٹار کے مطابق، کینیڈا کے اکثر والدین نے بھی تسلیم کیا کہ وہ اچھے والدین بننے کے ہُنر سے بےبہرہ ہیں۔ اس سے ایک بات ضرور واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں والدین کے لیے اپنے بچوں کی پرورش کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

ماہر نفسیات فلیپا پیری نے اپنی کتاب ’دا بک یو وِش یور پیرنٹس ہیڈ ریڈ‘ (وہ کتاب جو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے والدین نے پڑھی ہوتی) میں لوگوں کو اچھے ماں باپ بننے کے مشورے دیے ہیں۔

وہ اس میں بتاتی ہیں کہ آپ اچھے والدین کیسے بن سکتے ہیں تاکہ آپ کے بچے زندگی کا بہتر آغاز کرسکیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو اس کے لیے زیادہ کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ فلیپا پیری کا کہنا ہے کہ، اچھا ماں باپ بننے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔

حد سے زیادہ آزادی نقصان دہ

جی ہاں، اکثر والدین اپنے بچوں کو لاڈ پیار میں حد سے زیادہ آزادی دے دیتے ہیں، ایسے میں اگر کوئی یہ بتائے کہ حدود کا تعین کرنا ضروری ہے تو کئی والدین کے لیے یہ کافی مشکل ہوگا کیونکہ ہم سب ہی اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور ایک موقع پر ہم حد پار کر دیتے ہیں۔ اگر آپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کچھ زیادہ ہی آزاد رہنے دیتے ہیں تب بھی آپ کو کچھ حدود کا تعین کر لینا چاہیے۔ لیکن پیار کی حد کیسے بنائی جائے؟ اس کا جواب ’میں‘ کے اندر ہے، ’تم‘ میں نہیں۔

آپ کو اپنا کردار واضح کرنا ہوگا، نہ کہ اپنے بچوں کا۔ تو اس کا مطلب ہے آپ کو یہ کہنا ہو گا ’مجھے معلوم ہے کہ آپ رات کو بس پر سفر کرتے ہوئے دور جانا چاہتے ہیں لیکن میں ابھی اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں‘۔ والدین کو ایسے نہیں ٹوکنا چاہیے کہ ’نہیں آپ تو صرف 13سال کے ہیں، آپ ابھی بہت کم عمر ہیں‘۔ کسی کو یہ پسند نہیں ہوتا کہ کوئی اور ان کے بارے میں ایسے بات کرے۔ اس لیے خود کی وضاحت کریں، نہ کہ اپنے بچوں کی۔

بچے ہر وقت خوش نہیں رہ سکتے

بنیادی اور سادہ سا اصول یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ہر موڈ کو قبول کریں مگر ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے ہر وقت خوش رہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے ہم ان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ کبھی انھیں مایوس نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے ہم انھیں کہتے ہیں: ’اداس نہ ہوں‘۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم انھیں ہر قسم کا موڈ (مزاج) رکھنے کی اجازت دیں جب کہ اس دوران ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں۔ ہمیں بچوں کے تمام جذبات کو منظور کرنا چاہیے تاکہ بچے اداس ہونے یا غصہ کرنے پر مزید مایوس نہ ہوں۔

بچے آپ سے سیکھتے ہیں

بہ الفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے بچے کا عکس ہیں، آپ اپنے بچے سے مماثلت رکھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ ان کا انسانی عکس ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ بچوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر ہم انھیں ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ’دیکھو آپ نے جوتے گندے کر لیے ہیں!‘ تو وہ ہمیشہ آپ کی غصے والی شکل ہی دیکھ پائیں گے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ پہلے ان کے ساتھ ہنسی مذاق کریں اور اس کے بعد گندے جوتوں کا ذکر کریں۔ آپ کو ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے ملتے ہوئے خوشی کا اظہار کریں۔

بچوں کے اظہار کرنے کے کئی طریقے

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے کے رویے میں کوئی کمی ہے تو یہ بات یاد رکھیں: ہر قسم کا رویہ بات کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ بچے اس طرح کے رویے سے آپ کو کچھ بتانا چاہتے ہیں اور ان کے پاس کہنے کا یہی بہترین طریقہ ہو تا ہے۔ تو آپ کو ایسے رویے کا اصل مطلب تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے بعد ان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ جو محسوس کر رہے ہوں اسے صاف الفاظ میں بلا ہچکچاہٹ کہہ سکیں۔ ہمیں ان کے تمام جذبات کو قبول کرنا چاہیے، بے شک ہمیں وہ ٹھیک نہ لگتا ہو۔

ہمیں بچوں کو اپنے جذبات کا اظہار کرنا سکھانا چاہیے اور اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ہم ان کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔

بچوں کی اپنی فطری رفتار ہے

فلیپا پیری کہتی ہیں کہ، ’آپ کا بچہ کوئی مشق نہیں جسے آپ جلدی جلدی نمٹا دیں۔ نا ہی وہ ایک پراجیکٹ ہے جسے آپ بہترین انداز میں مکمل کرلیں۔ آپ کا بچہ ایک انسان ہے جو اپنی انفرادیت رکھتا ہے‘۔

بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، وہ سب سے پہلے ایک انسان ہیں اور ہر انسان کی سیکھنے کی اپنی ایک فطری رفتار اور شخصی خصوصیت ہوتی ہے، اسے وقت دیں۔