• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگرچہ لوگ کنکریٹ اور سیمنٹ کو ایک ہی چیز سمجھتے ہوئے اسے متبادل نام کے طورپر استعمال کرتے ہیں مگر یہ ایک نہیں ہے۔ سیمنٹ دراصل کنکریٹ کا ایک چھوٹا جزو ہے جبکہ کنکریٹ ایک تعمیراتی مواد ہے۔ آج کی تحریر سے آپ کو سیمنٹ اور کنکریٹ کے درمیان فرق جاننے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ کنکریٹ کے استعمال اور مختلف اقسام سے متعلق بھی آگاہی حاصل ہوگی۔

سیمنٹ

سیمنٹ جوڑنے والا مواد (بائنڈنگ ایجنٹ) ہے، جو مختلف تعمیراتی مواد کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر تعمیراتی صنعت میں سیمنٹ کی دو اقسام پورٹ لینڈ اور اسفالٹ سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ان میں سے پورٹ لینڈ سیمنٹ، کنکریٹ کا انتہائی اہم جزو ہے۔ پانی ڈالنے سے پہلے یہ خشک پاؤڈر کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے یا پھر پیسٹ (مارٹر) کی صورت میں جو کہ سخت ہوکر تعمیراتی مواد کو جوڑ دیتا ہے۔ 

پورٹ لینڈ سیمنٹ چند بنیادی مادوں سے بنتی ہےجیسے کہ چونا، ریت یا مٹی، باکسائٹ اور خام لوہا وغیرہ۔ یہ مختلف اجزاء سیمنٹ پروسیسنگ پلانٹس میں ملائے اور گرم کیے جاتے ہیں تاکہ ایک چٹان کی طرح مادہ تشکیل دیا جاسکے، جسے کلنکر کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ کلنکر پیس کر پاؤڈر بنایا جاتا ہے جسے پانی ملا کر پیسٹ بنایا جاسکتا ہے۔

کنکریٹ

کنکریٹ ایک پائیدار تعمیراتی مواد جس کے چار بنیادی اجزاء (سیمنٹ، پتھر، ریت اور پانی) ہیں۔ اس میں جتنا کم پانی ڈالا جاتا ہے، یہ اتنا ہی ٹھوس مرکب تیار ہوتا ہے۔ کنکریٹ تیار کرنے میں استعمال کیا جانے والا پانی سیمنٹ کو متحرک کرتا ہے، جو کہ ایک بائنڈگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس مرکب کے مجموعات سیمنٹ کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ آپس میں مل جاتے ہیں۔ جتنے زیادہ مجموعات استعمال کیے جائیں گے یہ اتنا ہی ٹھوس ہوگا۔

اچھے کنکریٹ کی خصوصیات

اچھے کنکریٹ میں کچھ مخصوص خصوصیات ہونی چاہیے۔ سب سے پہلے اس مرکب کو کافی حد تک قابل عمل ہونے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مناسب طریقے سے لگایا اور مستحکم کیا جاسکے۔ یہ حقیقت ہے کہ کم پانی ٹھوس کنکریٹ بناتا ہے، لیکن اگر کنکریٹ زیادہ خشک ہوگا تو یہ صحیح طرح لگ نہیں پائے گا۔ 

کنکریٹ کو سخت ہونے کے بعد کچھ مخصوص تصریحات کو بھی پورا کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اچھا کنکریٹ منجمد ہونے، پگھلنے کے علاوہ کیمیائی مادوں اور پانی کے لیے مزاحم اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ان تمام تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے، پوری توجہ کنکریٹ کے مرکب ڈیزائن پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

کنکریٹ مکس ڈیزائن

اچھاکنکریٹ بنانے کا طریقہ معلوم کرنے کے عمل کو مکس ڈیزائن کہتے ہیں۔ اس کے پانچ بنیادی اجزاء؛ قابل عمل ہونا، طاقت، استحکام ، کثافت اور ظاہری شکل ہیں، جن پر کنکریٹ کا کام کرنے والوں کو مکس ڈیزائن کی تشکیل کے وقت غور کرنے کی ضرورت ہوگی۔

قابل عمل ہونا وہ معیار ہے جس کی بناء پر کنکریٹ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ اسٹرکچرل کنکریٹ کے لیے طاقت خاص طور پر ایک اہم پہلو ہے۔ استحکام اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کنکریٹ کتنا عرصہ چلے گا۔ کثافت؛ طاقت اور استحکام میں معاون ثابت ہوسکتی ہے جبکہ آرائشی کنکریٹ ایپلی کیشنز میں ظاہری شکل اہم ہے۔

کنکریٹ کی عمارت

اپنے استحکام اور طاقت کی بدولت کنکریٹ ایک بہت ہی مقبول تعمیراتی مواد مانا جاتا ہے۔ اس میں نالیوں سے لے کر جدید مکانات کی دیواروں تک سب کچھ شامل ہے۔ یہ کئی فلک بوس عمارتوں کا لازی حصہ ہوتا ہے جبکہ فٹ پاتھ بھی اس سے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کی افادیت کی وجہ سے تعمیراتی کارکن اسے بآسانی اپنی ضرورت کی ہر شکل میں ڈھال سکتے ہیں اور پھر اسے ٹکڑوں کی شکل میں موڑے، کاٹے یا ویلڈ کیے بغیر لگایا جاسکتا ہے۔ معمار توانائی کی بچت اور حفاظت کے احساس کے پیش نظر کنکریٹ کی تعریف کرتے ہیں۔

انسولیٹڈ کنکریٹ فارم اسٹیرروفوم نما مواد سے بنے بڑے بلاکس سے شروع ہوتے ہیں۔ ان بلاکس میں چینل کاٹ کر ان کے بیچوں حصوں کو سنڈر بلوکس کی طرح ملتا ہے اور یہ ایک ساتھ رکھنا آسان ہیں۔ بلڈرز ان بلاکس کو استعمال کرتے ہوئے دیوار بناتے ہیں ، چینلز کے ذریعہ ریبار ڈرائیو کرتے ہیں اور پھر ان کو مکمل ٹھوس کنکریٹ سے بھر دیتے ہیں۔

ایسے مکانات جو انسولیٹڈ کنکریٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیے جاتے ہیں، وہ ناقابل یقین حد تک اچھی طرح انسولیٹڈ اور پائیدار ہوتے ہیں۔ وہ اعلیٰ سطح پر ساؤنڈ پروف اور وہ عملی طور پر واٹر پروف ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر یہ ان ساحلی علاقوں میں مکانات کی تعمیر کے لیے مقبول ہیں، جہاں سمندری طوفان کے خطرہ کے سبب بلڈرز کو پائیدار مکانات کی تعمیر کے لیے تخلیقی طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اجزاء کا تناسب

کنکریٹ کے لیے اس کا حساب کتاب معلوم ہونا ضروری ہے، مثلاً اس میں سیمنٹ، ریت اور بجری کتنی کتنی مقدار میں لگےگی۔ اس کے لیے سب سے ضروری چیز مقدار یا تناسب (ratio) کا پتہ ہونا ہے۔ ایک عام چھت کا تناسب 1:2:4ہوتا ہے یعنی ایک حصہ سیمنٹ، دو حصے ریت اور چار حصے بجری۔ فرش کے لیے یہ تناسب عموماً 1:3:6 ہوتا ہے۔ ستون (پلرز) اور بیمز کے لیے 1:1.5:3 کا تناسب استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ نے مکان کے جس حصے میں کنکریٹ کرنی ہو اس کو ماپ کر کیوبک فٹ نکال لیں اور اسے 1.54(مستقل ریٹ) سے ضرب دے لیں۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آدھی بجری اور آدھی ریت لی جائے تو اصولی طور پر ان کی مقدار اتنی ہی رہنا چاہیے جتنی شامل کی گئی تھی مگر ایسا نہیں ہوتا۔ دراصل جیسے ہی ریت اور بجری پر پانی ڈالا جاتا ہے تو پانی ریت کو بہا کر بجری میں موجود خلاء (voids) میں لے جاتا ہے۔ تجربات سے یہ بات ثابت ہے کہ تقریباً آدھی سے زیادہ ریت، بجری میں موجود خلاء میں چلی جاتی ہے۔