• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحولیاتی تبدیلی نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور گرمیوں میں ہمیں اپنےگھروں کے درجہ حرارت کو مناسب سطح پر رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں گھروں میں ہریالی لے آنے سے ناصرف گھر کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہتا ہے بلکہ اس کے ہماری صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے گھر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ 

یہ ایک صحت بخش مشغلہ اور بہت اچھی ورزش ہے۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ باغبانی کا مشغلہ ذہنی تناؤ، فشارِ خون(بلڈ پریشر) ، کولیسٹرول اور ڈپریشن کو کم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ مختلف طرح کے رنگا رنگ پھولوں اورپودوں کو دیکھنے سے خوشی، اطمینان اورراحت کا احساس ہوتا ہے۔

آپ کو بیٹھے بٹھائے گھر میں تازہ سبزیاں اور پھل مِل سکتے ہیں۔ ایک اور فائدہ جس کی طرف کم لوگوں کا دھیان جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ لینڈ اسکیپنگ یا گھر میں باغیچہ بنانا ایک طویل عرصے کی سرمایہ کاری ثابت ہوسکتی ہے۔ ذوق اور سلیقے سے سجایا سنوارا گیا باغیچہ آپ کے گھر کی مجموعی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے، نتیجتاً اسے فروخت کرنے کی صورت میں آپ اپنے گھر کی نسبتاً بہتر قیمت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

لینڈ اسکیپنگ سے آس پاس کی فضا اور ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ باغبانی کسی آرٹ سے کم نہیں۔ باغیچے کی منصوبہ بندی کرنے، پودے لگانے، ان کی تراش خراش اور دیکھ بھال کرنے اور اپنی محنت کا نتیجہ وصول ہوتے دیکھ کرجو اطمینان اور خوشی محسوس ہوتی ہے، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ زیرِ نظر مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہم کس طرح اپنے گھر کے بیرونی حصوں میں باغیچہ کی لینڈاسکیپنگ کرکے گھر کی خوبصورتی اور کشش کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔

باغیچہ کے خدوخال ذہن نشین کریں 

گھر کے بیرونی حصہ میں لینڈ اسکیپنگ کے لیے اور بعد کی پریشانی سے بچنے کے لیے آپ فوری طور پر سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنے ذہن میں ایک واضح خاکہ ترتیب دیں۔ خاکے سے مراد یہ ہے کہ آپ اسے کس شکل میں بنانا چاہتے ہیں۔ مثلاً، آپ نے گھر کے بیرونی حصے میں پہلے ہی گھاس اُگائی ہوئی ہے، اب اسے لینڈ اسکیپنگ کے اصولوں کے مطابق کوئی شکل دینا چاہتے ہیں، جیسے گول، چوکور، بیضوی یا پھر لمبوتری۔ کسی دھاگے یا تار کی مدد سے اس کا تعین کریں اور فالتو گھاس کاٹ دیں۔

ضروری لوازمات

آپ کے باغیچہ کے لیے درخت ناگزیر ہیں اور اگر کسی درخت کی قیمت کو اس کے استعمال اور طوالت کے حساب سے دیکھا جائے تو درخت لگانا کافی سستا پڑتا ہے۔ مثلاً، اگر آپ 500یا 1000گز کے مکان میں رہتے ہیں تو صحن میں چند درخت ہی کافی ہوں گے۔ بڑھتے درجہ حرارت کے باعث آپ کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ مقامی موسم سے موافقت رکھتے درختوں کا انتخاب کریں، جو گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈک کا احساس دِلانے کے علاوہ سایہ دار بھی ہوں۔ یہ قیمت میں کم ہوں گے اور ایک اوسط سائز کے باغیچے میں تین سے چار درخت کافی ہوتے ہیں۔

درختوں کے علاوہ آپ نے پودوں کا انتخاب بھی کرنا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ خوبصورت نظر آنے والے کئی پودے موسم بدلنے پر جَھڑ جاتے ہیں یا ان کی مدت بس ایک ہی موسم ہوتی ہے۔ ایسے میں کیاریوں کو شاندار لگنے والے پودوں سے بھرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ ایسے سدابہار پودوں کا انتخاب کریں، جنھیں آپ تقسیم کرسکیں۔ اس بات سے شاید ایسا لگے کہ ہم باغبانی کے اگلے درجے کی بات کررہے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ جُھنڈ بنالینے والے پودے اس مقصد کے لئے بہت مناسب رہتے ہیں۔ 

پودوں کو گملوں سے نکالیں اور ان کو تین چار حصوں میں تقسیم کرلیں۔ ہر حصے میں تنے اور جڑیں شامل ہونی چاہئیں۔ گڑھے کھودیں اور ہر حصے کو تیار شدہ کیاریوں میں لگادیں۔ اگلے سال جب وہ بڑھ چکے ہوں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہو تو آپ دوبارہ سے ان کو تقسیم کرسکتے ہیں اور نئی کیاریوں میں لگا سکتے ہیں۔ دو سال میں آپ کا باغ پودوں سے بھر جائے گا اور وہ بھی انتہائی کم قیمت میں۔

کنکریٹ یا پتھر؟

ہمارے یہاں کنکریٹ کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور ماہرِ تعمیرات کہتے ہیں کہ کنکریٹ کے باعث بھی ہمارے گھر مزید گرم ہوتے جارہے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ جب بات راہداریوں اور برآمدوں کے باغیچوں کی ہو تو کنکریٹ کے فرش کی بجائے قدرتی پتھرنسبتاً کم قیمت پڑتے ہیں۔ سب سے پہلے جگہ متعین کریں اور فالتو گھاس پھوس ہٹادیں۔ 

اس کے بعد ایک حفاظتی تہہ بچھائیں تاکہ جڑی بوٹیوں کی نشوونما کو روکا جاسکے۔ اس کے بعد پتھر بچھادیں، کوشش کریں کہ گہرائی ڈھائی سینٹی میٹر تک ہو۔ پتھروں کے لیے ہلکے رنگ کا انتخاب کریں تاکہ گھاس اور پودوں کے رنگوں کے ساتھ ایک دلچسپ امتزاج قائم ہوسکے۔

باغیچہ کی خوبصورتی

آپ کا بنیادی باغیچہ تو تیار ہے اور آپ اسے مزید خوبصورت بنانے کے لیے دلکش روشنیوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ خصوصی طور پر گھر کے باہر لگانے والی روشنیاں بآسانی اور بہت سی اقسام میں بازار میں دستیاب ہیں اور یہ آپ کے باغ میں فوری طور پر اور بجٹ کے اندر رہتے ہوئے ایک نئی زندگی لانے کا آسان طریقہ ہے۔ 

ان کو کسی جھاڑی یا درخت کی شاخ سے لٹکادیں یا جنگلوں یا فرنیچر کے ساتھ باندھ دیں۔ اور کچھ نہیں تو ایک ڈنڈا گاڑ کر آپ یہ روشنیاں اس پر لگا سکتے ہیں، یہ گھر میں پہلے سے موجود کسی بھی سوئچ میں لگائی جا سکتی ہیں اوریہ کام آپ خود گھر پر بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔