• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کی خلاف ورزی کے الزامات

فوٹو: ایرانی میڈیا
فوٹو: ایرانی میڈیا 

امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔

معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اقوام متحدہ نے آبنائے ہُرمُز میں پھنسے ملاحوں کو نکالنے کا آپریشن امریکی فوج کی نگرانی میں شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں 1100 ملاحوں اور 27 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمُز میں عمان کے ساحل کی طرف سے نکال لیا۔

یہ جہاز چونکہ ایران کی اجازت کے بغیر نکالے جارہے تھے، اس لیے خلیج عمان سے گزرنے والے ایک جہاز پر پروجکیٹائل فائر کیے جانے کا ایک واقعہ گذشتہ روز پیش آیا، جس میں جہاز کو نقصان پہنچا۔ 

امریکا نے الزام لگایا کہ یہ حملہ چار ڈرونز کے ذریعے ایران نے کیا تھا۔ اس الزام کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے احمقانہ حملہ قرار دیا اور ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ آپ کو امریکی ردعمل کا جلد پتہ چل جائے گا۔

اس بیان کے کچھ دیر بعد امریکا نے ایران کے ساحلی علاقوں پر حملہ کیا۔ امریکی فوجی سنٹرل کمانڈ سینٹکام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیروں پر فضائی حملے کیے۔

پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی جزیرے سِرک پر امریکی فضائی حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔

اس کے بعد ہفتے کی صبح ڈرونز کے ذریعے ایک بڑا حملہ بحرین پر کیا گیا۔ بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملے ایران نے کیے ہیں۔ ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

پاس داران انقلاب نے کہا کہ ایران نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں کئی امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے کے ملکوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

ہفتے کے دن برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہُرمُز میں اس کے ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم عملہ مکمل محفوظ ہے۔

پاسداران انقلاب کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران پر حملے کر کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 5 کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

یہ شق نہ صرف آبنائے ہُرمُز سے جہازوں کی بحفاظت آمدورفت کو یقینی بناتی ہے بلکہ ایران کو عمان کے ساتھ مل کر آبنائے کے انتظام کا طریقہ کار طے کرنے کا حق بھی دیتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید