• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ کے بعد وفاقی حکومت اور اپوزیشن میں لفظی گولہ باری جاری، دونوں کے اپنے اپنے اعداد و شمار

بجٹ کے بعد وفاقی حکومت اور اپوزیشن میں لفظی گولہ باری


کراچی‘فیصل آباد(ایجنسیاں)نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے بعدوفاقی حکومت اور اپوزیشن میں لفظی گولہ باری جاری ہے اور دونوں نے اپنے اپنے اعدادوشمار پیش کردیئے ہیں ‘وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ہم نے عام آدمی اور صنعت کاروں کو ریلیف دیا ہے۔

بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیاجبکہ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں بڑھائیں اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا‘مہنگائی نے جتنا بڑھنا تھا بڑھ گئی اب اس کے کم ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے‘ہر کسی کوگروتھ نظر آرہی ہے اگر نہیں آرہی توبلاول، شہباز اور اپوزیشن کو نظر نہیں آ رہی کیونکہ ان کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی گروتھ رک گئی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق اتوار کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےچوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ بجٹ کو کاروباری طبقے، صنعت کاروں اور عوام نے خوش آئند قرار دیا ہے،انشاءاﷲ یہ سال پاکستان کی ترقی کا سال ہوگا۔کووڈ کے باوجود ملک میں مہنگائی کی شرح دنیا سے کم رہی، پاکستان میں مہنگائی کی شرح 28 فیصد رہی جبکہ آمدن کی شرح میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔ 

ہمارے کسان نے بے پناہ فائدہ اٹھایا، 1100 ارب روپے اربن اکانومی سے رورل اکانومی میں منتقل ہوئے، 60 فیصد ورکر زرعی شعبہ سے وابستہ ہے، چاول، گندم، مکئی، کینو، گنا، آم سمیت سات بمپر فصلیں ہوئیں جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت 4فیصدسے زیادہ بڑھی۔لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اضافہ ہوا۔

بجٹ میں عام آدمی کے لئے ہم نے اقدامات اٹھائے، چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی، انٹرنیٹ، موبائل فونز، موبائل ڈیٹا پر نئے ٹیکس لگانے کی تجویز کو مسترد کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا، ٹیکس ریلیف پنشنرز کو بھی ملا اور تنخواہ دار طبقے کو بھی۔

کامیاب جوان اور ہاوسنگ کے منصوبوں سے ہمارے تمام طبقات کو بے پناہ فائدہ ہوگا، کوئی بھی شخص کاروبار کے لئے آسانی سے قرض لے سکے گا، ہم نے عام آدمی اور صنعت کاروں کو ریلیف دیا ہے۔دریں اثناء سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرخ حبیب کا کہناتھاکہ اڑھائی کروڑ پاکستانیوں کو کامیاب پاکستان پروگرام کے ذریعے اٹھانے جارہے ہیں جو گیم چینجر ثابت ہوگا۔ 

900ارب کے پی ایس ڈی پی میں آبی ذخائر کیلئے پیسے اورسندھ، بلوچستان،کے پی کے،گلگت بلتستان کیلئے بجٹ میں فنڈز رکھے گئے ہیں اسی طرح ہم نے این ایف سی ایوارڈبڑھا کر 3412ارب کر دیاہے جس میں صوبوں کو بڑا حصہ فراہم کر رہے ہیں ،اب صوبے بھی صوبائی فنانس ایوارڈ کا اعلان کریں۔

انہوں نے کہا کہ پرائمری بیلنس میں اگر سود کو نکال دیا جائے تو ہمارے اخراجات اور آمدن قریب قریب ہے کیونکہ ہمیں 3ہزار ارب قرضوں کی قسطیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں جو سابق حکمرانوں نے لئے۔فی کس آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

سوائے اپوزیشن کے سب کو بجٹ اچھا لگ رہا ہے جس میں تنخواہ دار پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیااورتنخواہ و پنشن میں 10 فیصد اضافہ اور مزدور کی کم سے کم اجرت 20 ہزار مقرر کی گئی۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ہم نے برآمدات کو بڑھا کر آمدن کو بڑھایا ہے اسی طرح اب فی کس آمدنی1608 ڈالر پر کھڑی ہے جون لیگ 2018 میں 1496 پر چھوڑ کر گئی تھی۔

پاکستان کے لوگوں کیلئے اب بہتری کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ بلاول بار بار بینظیر انکم سپورٹ کی بات کرتے ہیں حالانکہ اسوقت اس پروگرام کا بجٹ صرف 70 ارب تھاجس میں ہم نے اضافہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید