• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں اختیار صرف بلاول ہاؤس کے پاس، فواد چوہدری

سندھ میں اختیار صرف بلاول ہاؤس کے پاس، فواد چوہدری


کراچی(اسٹاف رپورٹر‘ایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کو کٹھ پتلی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ ہر 5 سال کے بعد ایک شخص کو ربراسٹمپ کے طور پر سندھ کے وزیراعلی ہائوس میں بٹھا دیا جاتا ہے ،جس کی تاریں زرداری خاندان کے پاس ہوتی ہیں جو اسے کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

صوبے کے حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار وزیراعلی یا سندھ اسمبلی کے پاس نہیں بلکہ سارا اختیار ان کے پاس ہے جو بلاول ہائوس میں بیٹھتے ہیں‘گورنر راج کی آئین میں گنجائش نہیں‘صوب میں آئین کی دفعہ 140 اے نافذ ہونی چاہیے جس کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی ہے۔

سندھ کو 3 سالوں میں 1600 سے 1800 ارب روپے دیئے گئے‘ یہ پیسہ کہاں گیا‘وزیراعلی سندھ قوم پرست سیاست کررہے ہیں۔ن لیگ کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو پڑھے بغیر ہی مستردکردیتے ہیں ‘لگتا ہے وہ آئندہ سات برس یہی کچھ کریں گے۔

احسن اقبال کہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے مسائل کا ادراک نہیں‘ نوازشریف،حسن نواز،حسین نواز اس وقت کیا ہیں،نوازشریف کیااس وقت سمندرپار پاکستانی نہیں ؟

اتوارکو گورنرہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سندھ کو این ایف سی کے تحت ملنے والا پیسہ کہاں جارہاہے ‘کراچی میں پولیس کی اتنی اہلیت بھی نہیں کہ وہ امن وامان کی بنیادی ذمے داری نبھاسکے، لاڑکانہ ، گھوٹکی ، بدین اور دیگر اضلاع کا حال دیکھ لیں، صوبے میں صحت کا نظام برباد ہوچکا ہے۔

سندھ میں پرانی اسکیمیں مکمل نہیں ہوئی تو نئی اسکیمیں کیسے رکھیں،یہ چاہتے ہیں کہ اسکیم ملے، اپنے ٹھیکیدار سے شروع کروائیں اور بھول جائیں ، یہ چاہتے ہیں کہ پیسہ ڈائریکٹ ان کو ملے اور ہم چاہتے ہیں کہ پیسہ ڈائریکٹ عوام پر لگے،یہ پیسہ سندھ میں نہیں بلکہ دبئی میں لگاتے ہیں۔ 

فوادچوہدری نے کہاکہ سندھ کے عوام کا پانی پنجاب نہیں بلاول،مراد علی شاہ اور سندھ کابینہ کے لوگ چوری کر رہے ہیں، آصف زرداری اور ان کی بہن کی زمینوں کا پانی تو کبھی کم نہیں ہوا، لاڑکانہ میں 90ارب روپے خرچ ہوئے،شہرخستہ حال ہے، فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ ( ن ) لیگ کا اگلے الیکشن میں بھی کوئی مستقبل نہیں۔ 

اگلے سات سال ان کا مستقبل یہی ہوگا کہ یہ لوگ بینر لے کر ایک کونے میں کھڑے ہوں گے جن پر لکھا ہوگا کہ حکومت نامنظور، الیکشن نا منظور۔ ان کو خطاطی سیکھ لینی چاہئے تاکہ بینر لکھنے کے لئے ان کا خرچ اور وقت بچ سکے۔ بلوچستان کے بی ایریاز میں اتنے برے حالات نہیں جتنے اس وقت امن و امان کے حوالے سے کراچی میں ہیں۔ 

مراد علی شاہ کہتے ہیں وفاق اضافی پیسہ بھی انہیں دے۔ اگر یہ پیسہ مراد علی شاہ اینڈ کمپنی کو دیا جائے تو وہ کراچی، بدین، گھوٹکی اور لاڑکانہ میں لگنے کی بجائے دوبئی اور پیرس میں جا کر لگے گا۔ ہم اپنا پیسہ براہ راست عوام پر لگائیں گے۔ سندھ کے حکمرانوں کو دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔

اہم خبریں سے مزید