• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بعض حلقوں میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں اتحاد کا امکان

آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کی 45نشستوں پر عام انتخابات کے لیے انتخابی شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ الیکشن جون کے مطابق انتخابات کے لیے مقرر کر دہ پولنگ کی تاریخ اور انتخابی شیڈیول کے درمیان 45دن کا فرق ہونا ضروری ہے کیوںکہ 10جون کو انتخابی شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے اسطرح 45دنوں کی معیاد 25جولائی کو پوری ہو رہی ہے اور اسی دن پولنگ ہو گی ۔ اس مرتبہ قانون ساز سمبلی کی 45نشستیں ہیں جن پر برائے راست ون مین ون ووٹ کے ذریعے انتخاب ہو گا۔ 

آزاد کشمیر کے 10اضلاع کے لیے تینتیس نشستیں ہیں اور مہاجریں جموں و کشمیر پاکستان کے لیے 12نشستیں ہیں اس مرتبہ جو رولز بنائے گئے ہیں ان کے مطابق ہر ووٹر اپنا ووٹ اسی حلقہ میں پول کرے گا جہاں اس کا مستقل ایڈریس شناختی کارد پر درج ہے اس کے علاوہ عارضی پتہ پر ووٹ نہیں ڈالا جا سکتا ایک اور اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان میں چھ نشستین جموں و دیگر کے لیے مختص ہیں اور چھ نشستیں وادی کے لیے مختص ہیں جس طرح پہلے وادی کے انتخابی حلقوں میں وہی امیداور حصہ لے سکتا تھا جو وادی کا مہاجر ہو اسی طرح اب جموں و دیگر کے انتخابی حلقوں میں وہی امیدوار انتخاب لڑنے کا اہل ہے جس کا تعلق برائے راست جموں و دیگر کے علاقوں سے ہے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والا کوئی امیدوار اب مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتا ۔

اس کے علاقہ کاغذات نامزدگی داخل کرواتے وقت قومی شناختی کارڈ، پشتنی سرٹفکیٹ کی مصدقہ نقولات شامل کرنا ہوں گی اور بوقت پڑتال اصل دستاویزات دکھانا ہوں گی ۔ الیکشن شیڈیول کے اجراء کے ساتھ ہی آزاد کشمیر بھر میں صوابدیدی اسامیوں پر تعینات تمام زعماء کو فوری طور پر فارغ کر دیا گیا ہے اس حوالہ سے باضابطہ نوٹفکیشن جاری ہو گیا ہے تمام ترقیاتی اداروں کے چئیر مین صاحبام، زکوۃ کونسل کے ضلعی تحصیل اور حلقوں کے چئیر مین صاحبان میونسپل کارپوریشن ، میونسپل کمیٹیوں اور ٹائون کمیٹیوں کے ایڈمنسٹریٹر بھی 13جون سے فارغ کر دیے گئے ہیں ۔ وزیر اعظم وزراء ، مشیران حکومت اور پارلیمانی سیکرٹریز انتخابی مہم کے دوران نا ہی سرکاری گاڑی پر جھنڈا لگا سکیں گے نہ ہی سرکاری گاڑی استعمال کر سکیں گے یا کسی بھی سرکاری منصوبہ کا اعلان ، سنگ بنیاد یا افتتاح کر سکیں گے ۔ 

ان تمام معمالات پر پابندی ہو گی ۔ آزاد کشمیر کی موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے 45حلقوں میں سے 38حلقوں میں امیدواران کا ٹکٹ جاری کر دیے ہیں 7 حلقوں میں ٹکٹ کا جاری کرنا باقی ہے یہ انتہائی اہمیت کے حامل حلقہ جات ہیں آزاد کشمیر میں عہدہ صدارت وزارت عظمیٰ سپیکر قانون ساز اسمبلی کے عہدوں پر ماضی میں ان دونوں حلقوں سے تعلق رکھنے والے اہم سیاسی زعماء ان اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں ۔ آزاد کشمیر میں جب بھی کوئی بہت بڑی تبدیلی آئی یا کوئی تحریک چلی تو اس میں صف اول کا کردار ان دونوں حلقوں کے سیاسی زعماء نے کیا ہے ۔

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی انتخابی امیدواروں کو میدان میں اتار لیا ہے تا ہم بعض اہم حلقوں جن میں راولاکوٹ کے دونون حلقے باغ کا حلقہ اور تین چار اور حلقے شامل ہیں نئے امیداروں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے حلقہ نمبر 4( موجودہ پانچ ) نے تحریک انصاف نے 2016میں مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی سردار صغیر احمد خان جو چند روز قبل مسلم کانفرنس کی جانب سے جاری شدہ ٹکٹ لے کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے اور انہیں پاکستان تحریں انصاف نے اپنا میدار نامزد کر دیا تھا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا 11جون کو جب وہ اپنے ٹکٹ وصول کرنے کے لیے اسلام آباد جا رہے تو آزاد پتن کے مقام پر ان کی گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکر جانے کے باعث دریا میں بہہ گئی وقت اس حادثے کو رونما ہوئے تین دن گزر چکے تھے مگر ابھی تک نا ہی گاڑی اور نہ اس میں سامان تین افراد کا کوئی سراغ مل سکا۔ 

اب دیکھنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اس حوالے سے نیا امیدارو سردار محمد صغیر خان کے خاندان سے لگانا چاہتی ہے یا ان کے خاندان کی مشاورت سے کسی امیدار کو سامنے لائے گی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنے امیداروں کا حتمی اعلان کر دیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے جن امیداروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں ان پر ان دونوں پارٹیوں کی سنئیر بنیادی اور نظریاتی کارکنوں کو کافی تحفظات ہیں جن کا انہوں نے برملہ پریس کانفرنس میں اظہار بھی کیا ہے اوریہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ جن حلقوں کے حوالے سے ان کو تحفظات ہیں ان کے ٹکٹ واپس کیے جائیں جموں و کشمیر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان اتحاد کا بھی امکان ہے۔ 

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید