پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بڑی امیدیں تھیں، ہم اس طرح پرفارم نہیں کر سکے جیسا کرنا چاہیے تھا، ہمیں اُمید تھی کہ سیمی فائنل میں پہنچیں گے اور پھر آگے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسن گلیسپی نے کہا تھا کہ 15 رکنی ٹیم میں تبدیلی نہیں ہو گی، تب فیصلہ ہوا تھا کہ سلیکشن کمیٹی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتی تھی، ہماری انڈر اسٹینڈنگ یہی تھی کہ کوچ کو فری ہینڈ بھی ملنا چاہیے۔
عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ہم نے اس مرتبہ بھی 20 پلیئرز دیے اور ان میں سے وہ دیکھے کہ کمبی نیشن کے لیے کیا مناسب ہیں، انٹرنیشنل ایونٹس کی مناسبت سے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ایونٹ کی بنیاد پر انٹرنیشنل ایونٹ کے لیے منتخب کر لیں، ورلڈ کپ کی پلیئنگ الیون کا حق کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے تھا، یہ وہی بتا سکتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیلا۔
ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم انجرڈ ہیں اس لیے وہ بنگلادیش سیریز میں شامل نہیں، فخر زمان بھی انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے دو پلیئرز ورلڈ کپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ یہ جاننا ہے کہ کیا یہ دونوں ایونٹ کے دوران ہی انجری کا شکار ہوئے، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم یہاں بیٹھ کر 11 پلیئرز کا فیصلہ کریں، یہ آزادی کوچ اور کپتان کو ہونی چاہیے انہوں نے گراؤنڈ میں لڑانا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر اسٹیک ہولڈر کی جو ذمے داری بنتی ہے وہ لینی چاہیے، ہم ہر ایونٹ کے بعد کہتے ہیں کہ اسکروٹنی ہونی چاہیے، سب بدل دو، چیئرمین بدل دو، سلیکٹرز بدل دو، کپتان بدل دو، یہ سب ہم ہر ہار کے بعد کہتے ہیں۔
ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے کہا کہ ہم نے سب سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ڈیولپمنٹ نہیں ہو رہی، 2009ء کے بعد ہماری ڈیولپمنٹ اس طرح نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے، ہمارا بس یہی ہوتا ہے کہ اب ہار ہوئی ہے اب سب کو نکال کر چھوڑنا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پلیئنگ الیون کی تشکیل میں میرا کوئی حصہ نہیں، یہ طے ہے کہ پلیئنگ الیون کوچ اور کپتان کی ذمے داری ہے، بھارت کے ساتھ رزلٹ اب تک 8 صفر ہے اس میں سب شامل ہیں، بھارت کا میچ الگ کر دیں باقی آپ ایک میچ ہارے ہیں۔
عاقب جاوید نے یہ بھی کہا کہ ایک میچ بارش کی نظر ہو گیا اور سیمی فائنل میں باہر ہو جاتے ہیں، اس پر سب کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ سب ختم ہو گیا یہ کر دیں وہ کر دیں، بنگلادیش میں ہم نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہے۔