• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’حصولِ علم‘‘ شرفِ انسانی کا سبب ایک مقدس دینی فریضہ

عمران احمد سلفی

اللہ رب العالمین نے انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت و برتری عطا فرمائی تو ا س کا سبب علم اور اس کا شعور و آگہی ہے جو کسی اور مخلوق کوعطا نہیں کیا گیا۔ یہ محض انسان ہی تھا جسے خالق کائنات نے علم کی دولت سے اس وقت نواز دیا تھا جب یہ تخلیقی مراحل سے گزررہا تھا، جبکہ دیگر مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے اس عزت و شرف سے محروم رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء ورسل کو اپنا خاص علم مرحمت فرمایا جس سے ساری دنیا منور ہوئی اور علم کی روشنی سب کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ملی۔ 

اسلامی تعلیمات کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو علم کی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کیونکہ سرور ِکائنات ﷺپر جو پہلی وحی نازل ہوئی، وہ علم ہی کے بارے میںتھی۔ اللہ رب العالمین نے سب سے پہلےآپ ﷺکو دوسرا کوئی پیغام نہیں دیا، بلکہ پہلی نصیحت ہی علم کے بارے میں کی چونکہ علم و آگہی سے شعور کی راہیں کھلتی ہیں اور جب انسان باشعور ہو جاتا ہے تو وہ معرفت حق کے حصول کا اہل ثابت ہو سکتا ہے،چونکہ پیغمبر آخر الزماں ﷺنے تاقیام قیامت آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا عظیم فریضہ انجام دینا تھا لہٰذا تمام امور سے پہلے آپ ﷺکو علم سے روشناس کرایا گیا۔ 

چناںچہ پہلی وحی میں ارشاد ہوا۔ترجمہ: اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے۔ جس نے پیدا کیاانسان کو خون کے لوتھڑے سے۔ آپ ﷺ پڑھتے رہیے آپ کا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ جانتا نہیں تھا۔(سورۃ العلق آیت ۱ تا ۵) ان آیات مبارکہ کو غور سے پڑھا جائے تو علم کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔

انسان جو پہلے نہایت کمزور مخلوق تھا، آج علم کی بدولت خشکی ، پانی اور ہوائوں پراپنے رب کے فضل سے حکومت کر رہا ہے۔ علم کے ہاتھ کل انسان کو کہاں لے جائیں گے کون پیش گوئی کر سکتا ہے۔ یہ تو صرف اللہ رب العالمین ہی جانتا ہے کہ اس کی یہ عظیم بخشش انسان کو کہاں پہنچانے والی ہے۔ چاند کی تسخیر تو اب پرانی بات ہو چکی۔ 

انسان ستاروں کو بھی مسخر کر لینے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ کل رب کا کرم ،علم انسان کو ستاروں کا بھی مالک بنا دے اور اس یادگار اور عجیب دن انسان قرآن مجید میں یہ ارشاد ربانی پڑھ کر حیران و ششدر رہ جائے ۔ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اللہ نے تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔(سورۂ لقمان :آیت ۲۰)

آپ نے دیکھا اسلام کی نظر میں علم کا درجہ کیا ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ العلق کی ابتدائی چار آیتوں کے سوا اگر علم کی فضیلت میں اور کچھ نہ کہا جاتا تب بھی کافی ہوتا، لیکن قرآن میں بار بار علم کی عظمت و اہمیت کو نہایت دلکش پیرایوں میں جابجا پیش کیا گیاہے اور حصول علم پر انسانوں بالخصوص اہل ایمان کو راغب کیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر علم اور اہل علم کی فضیلت یوں بیان کی گئی ۔ترجمہ: آپ ﷺفرمادیجئے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے بر ا بر نہیں ہوسکتے ‘یہ تو عقل والے ہی سمجھ سکتے ہیں (یعنی عالم اورغیر عالم برابر نہیں ہیں) (سورۃ الزمرآیت ۹)

اسی طرح ایک مقام پر خشیت الٰہی کا ذریعہ بھی علم کو قرار دیا۔ترجمہ: اللہ سے توا س کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جوصاحب علم ہیں۔ بے شک، اللہ غالب اور بخشنے ولا ہے۔ (سورۃ الفاطر :آیت۲۸)اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اور پرہیز گاری بھی علم سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں ،چونکہ اگر ایک شخص کو اللہ کی معرفت ہی حاصل نہیں تو وہ کس طرح اللہ کا خوف اور تقویٰ اختیار کر سکتا ہے ۔ 

یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک اعلیٰ ترین دنیاوی تعلیمات سے بہرہ ور شخص معرفت الٰہی سے بھی روشناس ہو۔ قرآن کی نظر میں وہی عالم ہے جسے رب تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو‘ ایسے لوگوں کو جو محض دنیاوی علوم و فنون سے واقف ہوں اہل ہنر و فن تو کہا جاسکتاہے لیکن عالم نہیں، البتہ ایک ایسا شخص جو بظاہر پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتا ،البتہ اہل علم کی صحبت میں رہ کر یا ان کی زبانی اللہ و رسول ﷺکے احکامات سن کر ان پر عمل پیرا رہتا ہے اور اس کے دل میں اپنے رب کی خشیت پیدا ہوتی ہے تو اسے جاہل نہیں کہا جائے گا ،بلکہ ایسے لوگ ہی اللہ کے مقرب بندے بن سکتے ہیں۔ 

البتہ اہل علم کی فضیلت و بزرگی اپنی جگہ واضح ہے۔درحقیقت علم تو نام ہی قرآن و حدیث کی تعلیمات کا ہے۔ جبکہ دنیاوی علوم صرف دنیا تک محدود ہیں اور انہیں دنیاوی تعمیر و ترقی کا منفعت بخش ہنر و فن ہی کہا جاسکتا ہے چونکہ یہ تمام علوم دنیا تک ہی محدود ہیں جبکہ حقیقی علم یعنی قرآن و سنت معرفت الٰہی کے حصول کا سبب اور اسی کی روشنی سے دین و دنیا کی تمامتر کامیابیاں اور کامرانیاں مشروط ہیں۔