• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میں کیٹل فارم کا کام کرنا چاہتا ہوں ،جہاں بھینسوں کا دودھ فروخت کرنے کے ساتھ قربانی کے لیے جانوروں کی سپلائی کا کام بھی کروں ۔ آج کل کیٹل فارم کے کام میں گائے ،بیل کی پیداوار اور افزائش کے لیے ٹیوب کے ذریعے جانور کے رحم میں مادۂ منویہ پہنچایاجاتا ہے ۔ کیا یہ طریقہ اسلامی تعلیمات کے خلاف تو نہیں ہے ، نیز کیا قربانی کے لیے اس قسم کے جانور وں کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے ؟ (امیر شیخ ، کراچی )

جواب: جانوروں کی افزائشِ نسل کے لیے نَر جانورکے مادّۂ منویہ کے تولیدی جرثومے وانجکشن یا ٹیوب کے ذریعے مادہ جانور کی بچہ دانی میں پہنچانا جائز ہے ، اس کے نتیجے میں حلال جانوروں (بھیڑ، بکری ،گائے، بھینس،اونٹنی وغیرہ) کے جو بچے پیدا ہوتے ہیں ،وہ بھی حلال ہوتے ہیں ، ان کی قربانی بھی ہر قسم کی کراہت سے پاک اور جائز ہے ۔نکاح سے متعلق احکامِ شرعیہ اور حِلَّت و حُرمت کے احکام کا تعلق انسانوں سے ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نعمتِ عقل عطا کرکے خیر وشر اور حلال وحرام میں تمیز کا ملکہ اور فطری استعداد اور جِبِلَّت بھی عطا فرمائی ہے اور انبیائے کرام ورُسل عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور کُتُب سماوی کے ذریعے خارجی ہدایت کا بھی اہتمام فرمایا ہے ،جانوران اَحکام کے مکلَّف نہیں ہیں،جانور اپنی ماں کے تابع ہوتے ہیں۔

علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں :ترجمہ:’’ پس اگر جانور وحشی اور پالتو جانور کے ملاپ سے پیداہوا ہو ، تو اعتبار (جانورکی)ماں کا ہوگا ، اگر وہ پالتوہے تو (قربانی) جائز ہے اور اگر پالتو نہیں ہے تو جائز نہیں ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ، جلد 5،ص:297)‘‘۔

سوال: جدید ڈاکٹری طریقہ یہ ہے کہ باڑے والوں کو اچھے نسل کے بیل اور بچھڑے دکھائے جاتے ہیں اوران کی خواہش اور پسند کے مطابق بچھڑے کا مادّۂ منویہ ڈاکٹر کے سپرد کردیاجاتا ہے اور ڈاکٹر اسے گائے کے رحم میں منتقل کردیتا ہے ،کیا اس کی خریدو فروخت جائز ہے ؟

جواب:جانوروں کی افزائشِ نسل کے لیے ان کے مادّۂ منویہ کی تلقیح جائز ہے، تاہم مادّۂ منویہ (اسپرم)کی خریدوفروخت اور اس کا کاروبار جائز نہیں ہے۔

حدیثِ پاک میں ہے : ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمر ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے نَر کی جفتی پراجرت لینے سے منع فرمایا، (صحیح بخاری:2284)‘‘۔

علامہ غلام رسول سعیدی ؒ لکھتے ہیں : ’’ آج کل انجکشن کے ذریعے نَر کا نطفہ مادہ کے رَحم میں پیوست کردیا جاتا ہے ،یہ طریقہ صحیح ہے اور اس سے عمدہ نسل کے بہت سے جانوروں کا حصول آسان ہوگیا ہے، البتہ اس نطفے کی بیع جائز نہیں ہے ،اس لیے نطفہ تَبرُّعاً دیاجائے اور اس عمل کی اجرت لی جائے تو صحیح ہے ،(نعمۃ الباری شرح صحیح بخاری ،جلدچہارم ،ص:850)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk