• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلجیم: بھارتی کورونا قسم کے متاثرین میں اضافے کا خدشہ

بلجیم کے معروف وائرالوجسٹ نے خبردار کیا ہے کہ بلجیم میں کورونا کے بھارتی قسم وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج کورونا کرائسز سینٹر میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا وائرس جسے، پہلے انڈین ویرئینٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، اس کے باعث آنے والے دنوں میں بلجیم پر ایک دباؤ بن سکتا ہے کیونکہ اس کا پھیلائو جو گزشتہ ہفتے 3اعشاریہ9فیصد تھا وہ اب بڑھ کر6 اعشاریہ1 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

اس سے آئندہ آنے والے ہفتوں میں اس وائرس کے غالب آنے کا امکان ہے، تاہم جب تک انفیکشن ریٹ کم رہے گا اور ویکسی نیشن مہم کامیاب رہتی ہے، تب تک اس کا اثر محدود رہ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر بلجیم میں کورونا کی صورتحال بہتر ہے کیونکہ برسلز کے علاوہ ملک بھر میں روزانہ سامنے آنے والےکورونا کیسز کے باعث ہونے والی اموات اور اس وائرس کے باعث اسپتال داخل ہونے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، لیکن گذشتہ ہفتے سے اس میں اضافہ نظر آر ہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ بلجیم میں ابتک 51 فیصد افراد کو پہلی خوراک ملی ہے جبکہ ایک تہائی آبادی نے اپنا کورس مکمل کیا ہے۔

انہوں نے بلجیم میں ویکسی نیشن کے عمل پر بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ اکثریت ابھی حفاظت سے محروم ہے۔

ملک میں وائرل بیماریوں کے شعبے کے سربراہ وان گیخت نے مزید کہاکہ ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا کے ڈیلٹا یا انڈین وائرس کی یہ قسم زیادہ متعدی ہے، جو برطانیہ میں تیزی سے پھیل رہا ہےاورکورونا کے نئے متاثرین میں اس کی شرح 90 فیصد سے زائد ہے۔

اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ موسم گرما اور ویکسی نیشن کے باوجود اس میں اضافہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

انہی خدشات کے تناظر میں بلجیم کے اسٹیٹ سیکریٹری برائے اسائلم اور امیگریشن سامے مہدی نے ایک دن قبل کہا تھا کہ بلجیم میں ڈیلٹا یا انڈین وائرس کے پھیلائو سے بچائو کی غرض سے ملک کو برطانیہ کے ساتھ سفر کے قواعد و ضوابط کو سخت کرنے پر غور کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ جب ہم اپنے ملک میں لوگوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ویکسی نیشن کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تو ایسے میں ہمیں برطانیہ سے یہاں آنے والے مسافروں پر کچھ ہفتوں کی پابندی لگانے پر سوچنا چاہیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید